یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے

یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے
فعال افراد کی سات عادات نامی کتاب دنیا کی مشہور ترین کتب میں سے ایک ہے۔ اس کتاب کے مصنف اسٹیون کوی صاحب نے اس کتاب میں فعال، موثر اور کامیاب بننے کے سات اصول وضع کیے ہیں اور ہر اصول، عادت یا قدر کو مختلف کہانیوں اور مشقوں کے ذریعے سمجھایا ہے۔ اس کتاب میں ایک کہانی کسی شہزادے کی بھی ہے؛ ایک ایسا شہزادہ جس کی سلطنت پر قبضہ ہوچکا تھا، بادشاہ قتل، فوج تتر بترہوچکی تھی، عوام برباد ہوگئے تھے اورخزانہ لٹ چکا تھا۔ ہر طرف افرا تفری تھی، قابض فوجوں کا غلبہ تھا، نہ قانون کی عملداری تھی، نہ انصاف کا نام و نشان تھا، قوم کی صرف ایک امنگ تھی اور وہ تھی زندہ بچ جانے والا شہزادہ۔۔۔۔شہزادہ جو قوم کی رہنمائی کرتا، ان کو یکجا کرتا، ان کو منظم کرتا اور ایک دفعہ پھر ایک خوشحال سلطنت قائم کرتا۔ لیکن، شہزادہ تو زنداں میں مقید تھا اورقابضین اسے صرف قید نہیں رکھنا چاہتے تھے بلکہ وہ اسے نشانِ عبرت بنانا چاہتے تھے۔ زنداں میں بھوک، پیاس اور تشدد سے مر جانے والا شہزادہ بھی عوام کے لیے مزاحمت کا استعارہ بن جاتا۔ وہ اسے امر نہیں ہونے دینا چاہتے تھے بلکہ اسے عیش و عشرت، عیاشی، رقص و سرود اور رنگ رلیوں میں غرق کردینا چاہتے تھے۔ ایسا شہزادہ جو نفس کا غلام بن جائے، اس کے دل سے رعایا کا غم نکل جائے اور وہ رعایا کے لیے فتح اور امیدکا ستارہ نہیں بلکہ ہزیمت اور یاسیت کا حوالہ بن جائے۔ نتیجتاً قوم نا امید ہوکر خود کو اپنے قابضین کے حوالے کردے۔
پھر آمریت قابض ہوگئی، تو کیا عوام نے ہتھیار ڈال دئیے؟ نہیں! کوڑے کھائے، سزائیں کاٹیں، اخباروں پر، آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغنیں لگیں، لیکن آخر کار جیت جمہوریت اور جمہور کے ہی حصے میں آئی
اس کہانی کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری ہی قوم کی کہانی ہے۔ بابائے قوم رحلت فرما گئے، قائدِ ملّت شہید کردیئے گئے اور مادرِ ملّت پراسرار طور پر جاں بحق ہوگئیں۔ اس ملک میں صحافی غیر محفوظ، انسانی حقوق کے علم بردار غیر محفوظ، رہنماغیر محفوظ، چوکیوں میں سپاہی، دکان میں مالک، گھر میں عوام، سڑک پر راہ گیر، مسجد میں نمازی، مندر میں پجاری، گرجا میں پادری اور اسکولوں میں معصوم بچے غیر محفوظ۔اتنی غیر محفوظ صورتِ حال میں تو ہمیں اس ملک کو بند کردینا چاہیئے! تالا ڈال دینا چاہیئے!
لیکن پچھلے ۶۸ سال سے یہ ملک قائم و دائم ہے! کوئی تو وجہ ہوگی؟ بجلی یہاں نہیں ہے، پٹرول یہاں ختم ہوجاتا ہے، پانی یا تو آتا نہیں ہے یا پھر سیلاب بن کرآتا ہے۔ شاید اس قوم کو ہمت ہار دینی چاہیئے تھی، لیکن نہیں ہارے، نظریہِ ضرورت کے نام پر جمہوریت پر شب خون مارا گیا، جمہور کے ضمیر کو مر جانا چاہیئے تھا، لیکن نہیں مرا۔۔۔۔ آگئے سڑکوں پر اور جمہوریت کو بحال کروالیا۔ ملک دو لخت ہوگیا، غم سے مر جانا چاہیئے تھا، اتنی سازشیں، اتنے ظلم، لیکن جیتے رہے۔
پھر آمریت قابض ہوگئی، تو کیا عوام نے ہتھیار ڈال دئیے؟ نہیں! کوڑے کھائے، سزائیں کاٹیں، اخباروں پر، آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغنیں لگیں، لیکن آخر کار جیت جمہوریت اور جمہور کے ہی حصے میں آئی۔ پھر آمریت آگئی اور عوام پھر سڑکوں پر نکل آئے۔۔۔۔ سپریم کورٹ کا جج بھی بحال کروالیا اور جمہوریت بھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، انقلاب ہو تو ایران جیسا ہو کیسا دھڑن تختہ کیا تھا شاہ کا، تو فوراً جمہوری جواب آتا ہے، وہ بڑے شستہ لوگ ہیں، پانچ ہزار سال بعد غصہ میں آئے تھے ہم تو آمر کو دس سال میں فارغ کردیتے ہیں۔ ہار نہیں مانتے ہیں۔
دراصل یہ ملک اپنے شہریوں کے بل بوتے پر ہی چل رہا ہے، وہ شہری جو جب ٹھان لیں تو دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس قائم کردیتے ہیں، وہ شہری جو ٹھان لیں تو دنیا کا بہترین کینسر اسپتال قائم کرلیتے ہیں
خیر کئی مہینوں تک شہزادے کو زنداں میں شراب و شباب کے ساتھ بند رکھنے کے بعد جب قابضین اس کی حالت دیکھنے گئے تو وہ حیران رہ گئے۔ شہزادے سے ہونے والی گفتگو نے انہیں مزید حیران و پریشان کردیا ۔ شہزادہ زنداں میں بیٹھا مطالعے میں مشغول تھا، کسی بھی نفسانی شغل سے دور، اجلا، اجلا، اس کی آنکھیں روشن تھیں، پرُ عزم۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نشے میں دھت کیوں نہیں ہو؟ تو اس نے کہا،" میں ایک شہزادہ ہوں، ولی عہد ہوں، یہ سب خرافات مجھے زیب نہیں دیتی ہیں، میرا مقصدِ حیات حکومت کرنا، عوام کے سکون کو یقینی بنانا اور مملکت میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ میری اقدار اور عزمِ جزم بہت بلند ہے۔"
آج ہماری قوم بھی شدید حالات سے دوچار ہے، ہم پر صرف بارودی جنگ ہی مسلط نہیں ہے بلکہ ایک اعصابی جنگ بھی جاری ہے۔ اور جیت اسی کی ہوگی جس کے اعصاب مضبوط ہیں۔ سلطانیِ جمہور کے دور میں قوم کا ہر نوجوان ایک شہزادہ ہے! شہزادہ بابائے قوم کا! اس قوم ہر بیٹا اور بیٹی قوم کا درد سینے میں رکھتا ہے۔ کیا ہوا جو بابائے قوم نہ رہے، ان کی اقدار، ان کے اصول، ضوابط اور عزم تو موجود ہے۔ اور یہ قوم لاشعوری طور پر ان اقدار پر عمل کر رہی ہے۔ اسی لیے آج تلک قائم و دائم ہے۔
بری خبر کو ہی اصل خبر کا درجہ دے کر ہم نے اپنے دشمنوں کا کام آسان کردیا ہے۔ بس ایک دھماکہ کردو اور دیکھو قوم کو تڑپتے ہوئے، کٹی پھٹی لاشوں اور روتے بلکتے چہروں کو بار بار دیکھ کر ہر شخص یہ پوچھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر یہ ملک چل کیسے رہا ہے؟ دراصل یہ ملک اپنے شہریوں کے بل بوتے پر ہی چل رہا ہے، وہ شہری جو جب ٹھان لیں تو دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس قائم کردیتے ہیں، وہ شہری جو ٹھان لیں تو دنیا کا بہترین کینسر اسپتال قائم کرلیتے ہیں، جو کوریا کو ترقی کا پانچ سالہ منصوبہ دے دیتے ہیں، دنیا کوسماج سدھار اور دیہی ترقی سکھا ڈالتے ہیں۔ ایک مثالی فلاحی ریاست میں ہر کام ریاست کی ذمہ داری ہوتا ہے لیکن یہاں یہ خلا مثالی شہری پورا کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں نوجوان اسکاوٹنگ کے دوران فقط کوہ پیمائی اور کیمپنگ کرسکتے ہیں، لیکن پاکستانی رضاکار، رینجرز اور پولیس کے شانہ بشانہ شہریوں کی خدمت کرتے ہیں اور جامِ شہادت بھی نوش کرتے ہیں۔
پاکستانی نبرد آزما ہیں، ہر مشکل، ہر مسئلے اور ہر مصیبت کے خلاف۔ یہ وطن چھوڑ کر بھاگے نہیں ہیں، وطن کو درپیش ہر مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن ان کاوشوں کی تشہیر و تریج اس طرح سے نہیں ہورہی ہے جس طرح منفی خبروں کی ہوتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ لوگوں کو سچ نہ بتایا جائے، بالکل بتایا جائے، لیکن آٹھ کے آٹھ صفحوں پر ملک بھر سے چن چن کر، خون خرابے، ظلم و تشدداورجرائم کی خبریں چھاپ دینے سے پورا ملک ہیجان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ۴ صفحات پر امن و امان اور انسانیت کے شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیوں اور کامرانیوں کو شائع کیا جائے۔ اور اگر ایسا ممکن نہیں تو یہ کام شہریوں کو انتہائی مستعدی کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ دنیا کو بتانا چاہیئے کہ اس ملک کے رہنے والے اس ملک سے، انسانیت اور ترقی سے پیار کرتے ہیں اور ہر طرح سے اس ملک کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
Andeel Ali

Andeel Ali

Andeel Ali is a training and development consultant associated with multiple organizations, having over seven years of experience in the Civil Society Sector. He blogs at Laaltain regularly and host shows at Radio Pakistan FM 93.


Related Articles

The Trouble in the Middle East

Iraq that only had one main conflict to deal with i.e. the Arab-Israel conflict, has now fallen into an abyss of its own homegrown conflicts.

سندھ کی صوفیانہ شناخت خطرے میں

بدین، تھرپارکر، گھوٹکی سمیت سندھ کے وہ اضلاع، جو معدنی وسائل سے مالامال ہیں، اور ان اضلاع میں ہندو برادری کی بھی کثیر تعداد موجود ہے وہاں مذہبی انتہاپسندی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے

جرم ناتمام

محمد عامر کی واپسی کے مخالفین کے اپنے مفادات محض کرکٹ بورڈ اور اس کے ہر فیصلے کی مخالفت سے وابستہ ہیں۔ ان حضرات کے ٹی وی پروگرام پاکستانی ٹیم کے جیتنے سے نہیں ہارنے سے چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ کرکٹ کی بہتری کی بجائے مزید انحطاط کے خواہاں ہیں۔