یہ جو محبت ہے

یہ جو محبت ہے
بچپن سے ہی شوق تھا ایک دھانسو قسم کا عشق لڑانے کا، ویسےیہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ عشق اگر ذوق و شوق اور ارادے سے کیا جائے تو عشق لڑانا کہلائے اور اگر بے وقوفوں کی طرح پہلی نظر میں ہی دل کسی کی زلفوں کا اسیرہو گیا تو اسےنرم روپہلے جذبوں سے گندھی محبت قرار دیا۔
جائے، خیر کہاں تک اس بحث میں الجھا جائے۔ویسے بھی ہم کسی کی زلفوں کے اسیر ہوں تو ہوں کوئی کیوں کر ہمارے چند خشکی زدہ بالوں کے دام میں آنے لگا۔ بتائیے صاحب جب ہمارے پاس حسین زلفیں تو کجابس ایسے بال ہیں کہ خال خال ہیں،( صد شکر خدا نے بھرم رکھ لیا جو یہ بھی نہ ہوتے تو کیا ہوتا) تو کیسی محبت کہاں کا عشق گویا یہ نیم فارغ البالی ہماری محبت کی راہ میں تو رکاوٹ بن گئی۔ ہوتے جو یہ کوئی حسین، گھنیرے دراز بال تو لاکھ ان میں جووں کے ڈیرے ہوتے لیکن کسی لٹ میں الجھ کے کوئی تو دل آن ملتا ۔ہائے! یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا، تو جی دل کی تمنا دل میں ہی رہ گئی۔ یوں بھی ہم دل کی دل میں رکھتے ہیں اور اس میں بھی کچھ ہمارا دوش نہیں کیوں کہ اگر سب کچھ دل سے زبان پر آگیا تو چندیا پہ موجود یہ چند بال بھی نہ رہیں گے۔ویسے یہ بھی ہے کہ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے وہ واقعی لب پر نہیں آسکتا کہ کئی پردہ نشینوں کے راز کھل جائیں گے اورنتیجتاً ہم بھی کسی بوری میں بند چند ٹکڑوں میں بٹے کٹےنظر آئیں گے کہ آج کل بوری بہت سستی ہے اور ابھی اس جہان فانی سے گزرنے کے ہمارے دن بھی نہیں ہیں، ابھی تو غنچہ دل کا کھلنا باقی ہے۔
فلموں میں کئی بار دیکھا کہ راہ چلتے دو" جوانیاں" ٹکرائیں اور محبت ہوگئی، یا کیلے کے چھلکے پرسے پھسل گئے اور ہیرو کی بانہوں میں لینڈ کیا ساتھ ہی میوزک بجا اور دل میں گھنٹیاں بجنے لگیں، چوٹ بھی نہیں لگی، اور پیار ہو گیا۔ حد تو یہ کہ تھپڑ کھا کے بھی اسی ظالم سے محبت کر بیٹھتے ہیں۔
یار لوگوں سے عشق محبت کی گھاتیں جو بھی سنی ہیں ایسا گدگداتی ہیں دل کوکہ خدا کی پناہ اور اگر کہیں حقیقی زندگی میں ایس ہی کسی داستان سے ہم بھی دوچارہو گئے تو خوشی کے مارے مسکرا مسکرا کے بے حال نہ ہو جائیں گے۔مگر کیا کیجئے دل کی لگی اوریہ ہنسی بھی اب تو کھانسی میں بدل جاتی ہے اور ہانپتے کانپتے انہیلر(Inhaler) سے سانسیں بحال کرنی پڑجاتی ہیں، ہائے او ربا! چاہے عمر پچپن کی سہی دل تو یہ معصوم نادان بچپن کا ہے نا۔ اور ہالی وڈ بالی وڈ میں تو دیکھیے ۵۰ سال کے ہیرو ابھی تک موٹر سائیکلوں پر انیس سالہ ہیروئینوں کے ساتھ دھوم مچا رہے ہوتے ہیں اور اپنے ہاں تو چالیس کے پیٹے کی کی مٹیاریں کھیتوں میں گنڈاسوں کی لے پررقصاں ہوتی ہیں۔
ہم نے بہت سوچا کہ کیونکر اس زندگی میں محبت کاتڑکہ لگایا جائے،مگر یہ محبت ہے کرنے کا کام، پر کرنا کیسے ہے یہ کون جانتا ہے؟ کیا جو شاعر، فنکار اور لوگ باگ کہتے اور کرتے نظر آتے ہیں وہ محبت ہے۔فلموں میں کئی بار دیکھا کہ راہ چلتے دو" جوانیاں" ٹکرائیں اور محبت ہوگئی، یا کیلے کے چھلکے پرسے پھسل گئے اور ہیرو کی بانہوں میں لینڈ کیا ساتھ ہی میوزک بجا اور دل میں گھنٹیاں بجنے لگیں، چوٹ بھی نہیں لگی، اور پیار ہو گیا۔ حد تو یہ کہ تھپڑ کھا کے بھی اسی ظالم سے محبت کر بیٹھتے ہیں، جب کہ جواب میں سر پھاڑ دینا چاہیے تھا، خیر معذرت یہ ہماری ذاتی رائے ہے، اعانت جرم نہ سمجھنا کہ دفعہ 109عائد ہو جائے۔ واپس آتے ہیں اپنی داستان پہ، کہاں توہم ذرا سی چوٹ لگنے پر اودھم مچا دیا کرتے تھے پر اب سوچا کہ نہیں بھئی برداشت کی عادت ڈالی جائے کہ جب ہیرو کی بانہوں میں گرنے کا حسین موقع آئے گا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ منھ پھاڑ کہ جو کان پھاڑ صدائیں نکلیں تو محبوب صاحب نے وہیں دھکا دے کر دو چار پسلیاں مزید توڑ ڈالنی ہیں۔
ہماری انتہائے شوق کو بس اسی صورت قرار مل سکتا تھا جب ایک عدد محبوب ہوتا، جب وہ ہمارا نام لیتا تو کلیاں چٹک کے پھول بن جاتیں، کیا کہا شہروں میں پھول ندارد، ارے تو یار جذبات کی شاخ پہ ہی پھول مہکانے دو اس میں کیا جاتا ہے۔ خیر آتے ہیں وہیں کہ ابتدا کہاں سے ہو؟کچھ پتا بھی تو ہو کہ مبتلائے عشق ہونے کو کیا جتن کرنا پڑیں گے، واردات قلبی کیوں کر برپا ہو سکے گی؟ گھر میں تو یہ حال کہ ابا جان نے ٹیلیویژن پہ سرکاری چینل کے سوا کبھی کوئی دوسرا چینل دیکھنے ہی نہیں دیا اس پر بھی جب چند"نامناسب" اشتہارات چلنا شروع ہوگئے تو سبز نیلے پیلے ستارے، اور وزارت صحت کے کھلے ڈلے مکالموں سے مزین معنی خیز متحرک تصاویر دیکھ کر والد صاحب نے اس پر بھی پابندی لگا دی۔ رہ گئیں والدہ صاحبہ تووہ تمام ماوں کی طرح انتہائی شرمیلی واقع ہوئی ہیں۔ جب ان سے چند" معصومانہ" سوال کیے تو مارے لاج کے انھوں نے ایک دھموکا جڑ ڈالا کہ ماں سے ایسی باتیں کرتے شرم نہیں آتی ـ ویسے بڑا کہتی ہیں میں تمھاری ماں نہیں دوست ہوں کوئی بات ہو تو مجھ سے نہ چھپانا اور"کام" کی باتیں بتاتی نہیں ہیں، یہ تو کھلا تضاد ہے،بس یہ کہتے ہی ہم نے کمرے سے باہر دوڑ لگائی کہ والدہ کی قینچی چپل ہمارے ہی تعاقب میں تھی۔
رومانی ناولوں اور زنانہ رسالوں سے بھی مددلے دیکھی، دنیا انھیں لاکھ گھٹیا، تھرڈ کلاس اور اخلاق باختہ سمجھتی رہےہمارے لیے تو مانو یہ ایک کھلا خزانہ تھے جن میں عشق و عاشقی کے فسانے اور جملہ آداب و شرائط درج تھے۔ شرائط سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ ان شرائط میں چاند چہرہ ، ستارہ آنکھیں ، شہد گھلی رنگت، مخروطی انگلیاں، ستواں ناک، سانچے میں ڈھلا بدن اور جانے کیا کیا الا بلا درج تھا، آگے بڑھے اور چند چیدہ چیدہ اصول جو ہر کہانی میں مشترک تھے ان ہی کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ سر فہرست اسکول کے گیٹ پر محبت تھی، ہیروئن اسکول سے نکلی باہر اپنی بہن کے منتظر کسی بھائی سے نگاہیں ملیں اور دل میں بجا گٹار، لیکن اس محاذ پر بھی ناکامی تاک میں بیٹھی تھی۔ایک تو اسکول ہماری گلی کے سرے پر ہی تھااور دوسرا کسی لڑکی کا معقول اور قبول صورت بھائی دستیاب ہی نہیں تھا، جو دو چار نٹھلے، نکمے نالائق دھوپ سے سیاہ پڑتے چہرے اور ڈی ہائیڈریشن کے سبب ستے ہوئے وجود کے ساتھ (بزعم خود) ہیرو نظر بھی آئے تو ہماری نفاست پسند طبیعت کو وہ گوارہ نہ ہوئے ، اور ہم بھی کون سا ان کو گوارا تھے ۔ ایک گلی کا راستہ جس پہ ہم پوری آنکھیں کھولے نگاہ بھر کے اپنے متوقع محبوب کے دیدار کو تیار گزرتے ، لیکن اگر کوئی ہوتا تو چشم شوق کے سامنے آتا!ہائے ری مایوسی۔
زنانہ رسالوں کے مطابق عشق لڑانے کا ایک اور زریں اصول یہ تھا کہ ہیروئن ہر وقت ہنستی رہے۔ بے ساختہ ہنسی پہ فدا ہو کر اکثر پروانے منڈلاتے پھرتے ہیں، بے ساختہ ہنسی تو محال تھی لہذا ساختہ طور پر جا بجا ہاہا ٹھی ٹھی شروع ــــــ پھر ایک دن ایک “مخلص ” نے بتایا کہ یہ قہقہے ہمارے تھلتھل کرتے وجود پر مضحکہ خیز لگتے ہیں۔
موبائل اس زمانے میں تھے نہیں، پتنگ اڑانی نہیں آتی تھی، کبوتروں سے بھی خاص شغف نہ تھا، اور پھراس پر مستزاد ابا جان کا خوف۔بھلے وقتوں میں جب بسنت کے حسین موسم میں آسمان پر ست رنگی پتنگوں سے دل بو کاٹا ہونے کو مچلتا ، ابا جان کا فرمان عالی شان (عرف عبرت نشان) آتا ، ’’خبردار جو کسی نے کوٹھے پر قدم دھرا ‘‘ ( او نا جی! وہ والا’’کوٹھا‘‘ نہیں، پنجابی میں بالائی چھت بھی کوٹھا کہلاتی ہے)۔ ہائے ہائے! اپنے ابا ہی ظالم سماج بنے ہوئے تھے تو کیا کسی غیر کو الزام دیتے ۔ کئی بار چاہا کہ ابا کو پاس بٹھا کر پیار سےسمجھائیں کہ آپ نے یہ جو چھ بیٹیاں بیاہنی ہیں تو تھوڑی سی رسی بھی دراز کریں، اتنا کس کے باندھیں گے تو کھونٹے ہی سے بندھی رہ جائیں گی۔بھئی مشہور ہے نا، کر حیلہ بنے وسیلہ لیکن ہر بار یہ بات لبوں تک آ کر دم توڑ گئی کہ اپنی ٹانگیں ہمیں عزیز تھیں اور ان کو تڑوا کر پھرنے کی نہ تاب تھی نہ یارا۔
زنانہ رسالوں کے مطابق عشق لڑانے کا ایک اور زریں اصول یہ تھا کہ ہیروئن ہر وقت ہنستی ر ہے ۔ بے ساختہ ہنسی پہ فدا ہو کر اکثر پروانے منڈلاتے پھرتے ہیں، بے ساختہ ہنسی تو محال تھی لہذا ساختہ طور پر جا بجا ہاہا ٹھی ٹھی شروع ــــــ پھر ایک دن ایک “مخلص ” نے بتایا کہ یہ قہقہے ہمارے تھلتھل کرتے وجود پر مضحکہ خیز لگتے ہیں۔ برا تو بہت لگا کہ یہ ستر کلو وزن کچھ ایسا زیادہ بھی نہیں تھا کہ نیل کے ماٹ سے تشبیہہ دی جاتی لیکن برداشت کرنا پڑا، اس لیے نہیں کہ ہم بہت آدرشی سنسکاری تھے، وجہ محض یہ تھی کہ محترمہ تین عدد بلا کے حسین ہیرو ٹائپ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں اسی لیے بس پیچ و تاب کھا کے رہ گئے۔
زنانہ ناولوں کی ماہر ایک ناول نگار کی تصانیف سے بھی رجوع کیا۔ناول نگار کی تمام زنانہ ہیروئینز کا جائزہ لینے کے بعد پتہ چلا کہ شرمانے لجانے کی بھی بہت قدر ہے ایسے معاملات میں۔ لیکن شرمیلے پن کی کوششیں بھی ناکام گئیں تو از سر نو غوروحوض کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ ناولز مصنفہ کی جوانی کی یادگار تھے موجودہ فلسفہ عشق بہت بدل چکا اور بےباکی رواج عام میں ہے۔ہائے ری قسمت !بہت کوششیں کیں، بہت زخم کھائے لیکن ایک عدد محبوب نہ ملا, ساری زندگی جس محبت کی ڈگر پر بھٹکنے میں کوشاں رہے وہاں ہر راہ صراط مستقیم ہی ہے۔ اب تو دعاوں پر ہی آسرا ہے, آپ بھی ہمارے لیے دعا کیجیےکہ عمر کی اس آخری اننگ میں ہی کوئی مل جائے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Humaira Ashraf

Humaira Ashraf

Humaira Ashraf, an unknown soul in search of her real identity, is an editor and lexicographer by profession. She believes in humanity & love that transcend all barriers of country, creed and colour.


Related Articles

پاکستان کے ہمسائے

14اور 15اگست 1947کی درمیانی شب ایک ساعتِ سعید میں کرہ ارض پر براعظم ایشیا میں پاک باشندوں کاپاک وطن، پاکستان المعروف الباکستان وجود میں آیا۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھےا کہ اس پاک سرزمین کو چاروں طرف سے ناپاک ممالک نے اپنے نرغے میں لے رکھاہے۔

ایک مسجد دو مولوی

ہمارے ممدوح مفتی صاحب منبرو سپیکر کی طاقت سے تن تنہا درجن کفار فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریر کیا کرتے ہیں۔

انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے- ہارون رشید کا فرضی کالم

الحذر الحذر!! بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی؟ بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے۔ اب لکھنؤ اور دہلی
کی تہذیب کے وارث نو ٹنکی فنکار ہوں گے۔