جن جن چیزوں سے انسان کی مڈبھیڑ ہوتی ہے وہ شاعری کا حصہ بننی چاہیئں

جن جن چیزوں سے انسان کی مڈبھیڑ ہوتی ہے وہ شاعری کا حصہ بننی چاہیئں
میں عورتوں کی اس بے بسی سے واقف ہوں جو جوانہیں جھیلنی پڑتی ہے مجھ سے زیادہ کون جانے گا کہ میں خود عورت ہوں۔
لالٹین: محمد حنیف کے ساتھ دی سیکنڈ فلور میں آپ نے کہا کہ آپ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں مگر فیمینسٹ نہیں ہیں۔ ان دونوں باتوں میں کیا فرق دیکھتی ہیں؟
عذرا عباس: اگر آپ فیمنسٹ نہیں ہیں، تو کیا فرد کی بے حرمتی سے بے گانہ ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مرد اور عورت کے فرق کو سامنے رکھتے ہوئے آپ مردوں کی زندگی میں جہاں جہاں انہیں ہزیمت کا شکار ہونا پڑتا ہے وہاں آپ آواز نہ اٹھائیں اگر آپ اٹھا سکتے ہیں اور یہ آپ کا شیوہ ہے؟ میں عورتوں کی اس بے بسی سے واقف ہوں جو جوانہیں جھیلنی پڑتی ہے مجھ سے زیادہ کون جانے گا کہ میں خود عورت ہوں۔ اور عورت ہونے کے ناتے معاشرے میں عورت کو جس جس طرح دیکھا جاتا ہے سب بھگت چکی ہوں، اور جس جس طرح اسے زندگی جھیلنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے وہ بھی جھیل چکی ہوں، لیکن اپنے ارادوں میں میں صرف فیمنسٹ نہیں ہوں۔

لالٹین: کیا ادب کو اس طرح کسی 'اِزم' کے تحت تخلیق کرنا اور پڑھنا آپ کے نزدیک مناسب ہے؟
عذرا عباس: یہ ازم تو میری سمجھ میں نہیں آیا میں تو صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ ادب جو کسی بھی پہلوسے لکھا جائے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے، ادب کو زندہ رکھتا ہے۔

لالٹین: ہمارے ہاں ادب میں مرد ادیب اور خاتون ادیب کے حوالے سے جو امتیازی صنفی رویہ پایا جاتا ہے اسے آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟ یعنی عوت کے تخلیق کیے ادب کو عورت کا ادب قرار دیا جاتا ہے مگر مرد ایبوں کے تخلیق کردہ ادب کو مردوں کا ادب نہیں کہا جاتا؟
عذرا عباس: میں نے کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں اچھی تخلیق عورت کی ہو یا مرد کی داد ملتی ہے ہاں اگر کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں اور اگر جان بوجھ کر کرتے ہیں تو مائی فُٹ۔

لالٹین: کیا آپ کی شاعری کو ایک ایسی عورت کی شاعری کہا جا سکتا ہے جو نہایت بے باک اور نڈر ہے؟
عذرا عباس: اگر جو ہو رہا ہے جو دیکھا جا رہا ہے اور جو بھگتا جا رہا ہے لکھنے والا اسے نہیں لکھ رہا تو اس کی مثال میں یوں دوں گی گویا وہ بننے سنورنے میں اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ 'جسم سے میل اتارنا' یوں ہی نہیں لکھی گئی اس کے درمیان گزرنے والی زندگی سب کی سمجھ میں نہیں آئے گی اس نظم میں آپ کو یہ ڈھونڈنا پڑے گا یہ کیوں لکھی گئی۔اور اگر چوبائی ہوا سے لڑنے کو آپ بے باک کہتے ہیں تو ہو سکتا ہے میں بے باک ہوں۔اب رہا ان چیزوں کو شاعری کا حصہ بنانا جو کبھی بنی ہی نہیں تو میں پھر یہی کہوں گی کہ زندگی میرے ساتھ نبرد آزما تھی اتنی اتنی کہ میری چہار دیواری سے لے کر میرے بستر میں بھی گھس آئی تھی۔اور پھر باہر کا منظر تو قابلِ دید تھا جو لوگ میری زندگی سے واقف ہیں وہ شاید بھولے نہیں ہوں گے مارشل لا کے زمانے کی میری جنگ۔

میری جو تربیت قمر جمیل کی گفتگو کر رہی تھی اس نے ایک دن آخر کار نیند کی مسافتیں سے ملا دیا۔
لالٹین: قمر جمیل کی نثری نظم کی تحریک سے تعارف کیسے ہوااور اس تحریک کا اثر ادب پر کیا دیکھتی ہیں؟
عذرا عباس: یہ سوال تو اہم ہے لیکن اس کا جواب طول کھینچ جائے گا۔ خیر، چونکہ تم نے تعارف کے حوالے سے بات شروع کی ہےتو میں بتاتی چلوں کہ میں جب یونیورسٹی میں جاتی تھی تو میرے کلاس فیلو ثروت حسین بھی تھے۔ ایک دن ان کومیری نظمیں پڑھنے کا اتفاق ہوا جو چننی چننی سی تھیں اور اس وقت کے پیمانے پر بحر سے خالی توان فیصلہ یہ تھا کہ چلو میں تم کو ایک شخص سے ملواتا ہوں۔ اس وقت انور بھی میرے ساتھ تھے وہاں جو گہماگہمی تھی اور نثری نظم پنپنے کے لئے تیار ہو رہی تھی، تمام جوان اور نوجوانوں کی آمد ورفت جاری تھی۔ قمرجمیل بڑی شد ومد سے نثری نظم کو مستقبل کی شاعری کہہ رہے تھے میں بھی وہاں جانے لگی جبکہ مجھے ابھی کچھ بھی اتہ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں سوائے اس کے کہ وہ بتا رہے ہیں شاعری کیا ہوتی ہے، وہاں جاتے رہنے سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ میں نے سائنس میں گریجویٹ کیا تھا اور تحریک کے حوالے سے مجھے سمجھ نے میں وقت لگا وہاں جا کر پتہ چلا کہ کون اہم ہے اور کون نا اہم۔ لیکن میری جو تربیت قمر جمیل کی گفتگو کر رہی تھی اس نے ایک دن آخر کار نیند کی مسافتیں سے ملا دیا۔ اب یہ کہو کہ اس کا اثر تو وہ لوگ جو نثری نظم کو منہ بھر بھر کے گالیاں دے رہے ہیں (خیر کچھ دانستہ اور نادانستہ اپنی اپنی ڈھلکی ہوئی گردنوں کو سیدھا رکھنے کے لئے آج بھی کائیں کائیں کرتے نظر آتے ہیں) تو میری نیند کی مسافتیں ان پر اثر ڈال گئی تھی لوگوں نے خوب خوب سراہا اسی زمانے میں سویرا، شب خون میں چھپی تھی اور پھر سراہی جاتی رہی۔سراہنے کا مطلب یہ بھی کہ نئے نثری نظم لکھنے اور پڑھنے والوں نے اسے پڑھا تو ضرور ہو گا، لوگوں نے کہانثری نظم آ گئی۔

لالٹین: آپ شاعری کی روایتی اصناف میں کچھ نہیں کہتیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
عذرا عباس: ہاں ،پتہ نہیں کیوں؟

لالٹین: آپ نے میرا بچپن لکھی، یہ ناسٹیلجیا آپ کے لیے کس قدر اہم ہے؟
عذرا عباس: بھئی مجھے جب جب اپنا بچپن یاد آتا جو میں نے بڑی فراغ دلی سے گزارا تھا اس کو بیان کرتی، بچے کبھی سنتے کبھی نہیں، لیکن ہوا یہ کہ میری ایک بچی نے مجھ سے کہا اماں اسے لکھ کیوں نہیں دیتیں تو بس اس دن سے میں نے لکھنا شروع کردی اب تم اسے جو بھی کہو اچھا زمانہ یاد تو کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ وہ بچپن اب لفظوں کی شکل میں ہے تو جب میں یاد کرتی ہوں تو وہ لے کر بیٹھ جاتی ہوں اور آس پاس کی پریشانیاں غائب ہو جاتی ہیں۔

لالٹین: آپ کے ابا کا آپ کی شاعری پر کیا ردعمل رہا، آپ نے ان کے نام اپنی کتاب بھی منسوب کی؟
عذرا عباس: جہاں تک تم ابا کے حوالے سے بات کر رہے ہو تو پہلے میری حرکتوں کو دیکھ کر یہی کہتے تھے غصے میں کہ میرے باپ نے کہا تھا اس کو پڑھوانا نہیں لیکن نیند کی مسافتیں پڑھنے کے بعد یہی بات مذاق سے کہتے تھے۔

لالٹین: نثری نظم پر کیے جانے والے اعتراضات کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
عذرا عباس: اعتراض کی تو نہ پوچھو۔ مجھے اتنی فرصت نہیں تھی کہ کان کھولے رکھوں کہ کون کیا کہہ رہا ہے۔ میری مصروفیت بتاؤں گی تو شاید تمہاری سمجھ میں آئے جیسے کالج جانا، تین سال میں چار بچے جن میں دو جڑواں کبھی کوئی ہاتھ بٹانے والا ہوتا یا نہیں ہوتابازار جانا سودا لانا اور جو دقتیں بازار جا کر اٹھانی، مجھے نہیں پتا چلا کون کیا کہہ رہا ہے، بس ہمارے دوست جو آتے جاتے رہتے تھے ان سے تو صرف یہی سننے کو ملتا تھا اب کیا لکھا۔

یہ ناول،افسانے یہ نہ جانے کیوں میرے قریب آ گئے یہ نہیں کہ یہ آسمان سے اترے ہیں یہ بھی خیالوں کی بھیڑ میں کہیں دبکے پڑے ہوں گے۔
لالٹین: بہت سے نقاد نثری نظم کو شاعری تسلیم کرنے کو تیار نہیں، آپ نے نثری نظم کا انتخاب کیوں کیا؟
عذرا عباس: مجھے لوگوں سے کیا واسطہ یہ تو کبھی نہیں ہوا کہ کوئی میری نظموں کے حوالے سے یہ بات مجھے پوچھے نثری نظم ہی کیوں؟ سب جانتے تھے نثری نظم میرا اوڑھنا بچھونا ہے جو میری نظمیں سننے آتے اور میری نظمیں چھاپنے کے لئے مانگتے میں ان کو دے دیتی۔ خاص طور پر اجمل کمال، آصف فرخی اور کئی رسالے انڈیا میں شمس الرحمان فاروقی اور میرے دوست مرحوم ساجد رشید۔۔۔ اب انتخاب کیوں کیا تو بھئی اس فارم نے میرے دل کو چھوا اور مجھے تنگ نہیں کیا جب چاہا آ گئی، تم جانتے ہو اس میں عرصے دراز تک شہرت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

لالٹین: آپ نے افسانے بھی لکھے، میں اور موسیٰ کے نام سے ایک ناول بھی، اس کے باوجود آپ کا عوامی حوالہ نثری نظم ہی ہے،اس کی کیا وجہ ہے ؟َ
عذرا عباس: یہ ناول،افسانے یہ نہ جانے کیوں میرے قریب آ گئے یہ نہیں کہ یہ آسمان سے اترے ہیں یہ بھی خیالوں کی بھیڑ میں کہیں دبکے پڑے ہوں گے۔ لیکن اب یہ سوال کہ لوگ مجھے شاعرہ کی حیثیت سے جانتے ہیں تو میرے لئے اس سے اچھی بات کیا ہو گی۔

لالٹین: "میرا بچپن" کا انتساب ان بچیوں کے نام ہے جو آپ کا بچپن نہیں گزار سکیں، کیا آپ یہ خواہش رکھتی ہیں ہیں کہ آپ کا بچپن ہر بچی گزارے؟

عذرا عباس: ہاں، انتساب میں نے ان بچیوں کے نام کیا جو میرا جیسا بچپن نہیں گزا رسکیں۔ یہ مجھے قلق ہے کہ جو بچیاں میری جیسی فطرت لے کر پیدا ہوئی ہوں گی۔۔۔ وہ جب پابندیوں کے دائرے میں آ جاتی ہیں، کیوں کہ بہت مشکل ہے balance رکھنا آزادی اور اس کے راستے میں آئے ہوئےروائتی پتھروں سے۔۔۔

جن جن چیزوں سے انسان کی مڈبھیڑ ہو تی ہے وہ تمام چیزیں شاعری کا حصہ بننی چاہئیں۔
لالٹین: آپ نے میرا بچپن میں خوف سے اپنے تعارف کا ذکر کیا، جیسے ایک بچے کے ڈوبنے کا منظر سننا، سوتے میں اکیلے چھوڑ دیا جانا۔۔۔ یہ خوف کس قدر اہم ہے؟
عذرا عباس: مجھے تو لکھتے وقت یہی حیرت تھی کہ وہ خوف ابھی تک مجھے یاد ہیں اور وہ آوازیں جو اس وقت میرے کانوں میں داخل ہو کر مجھے پہلی بار خوف سے ملا رہی تھیں۔ جب جب میں کسی بچے کو ڈرتے ہوئے دیکھتی ہوں مجھے بچپن کے یہ خوف یاد آ جاتے ہیں ہو سکتا ہے یہ خوف پھیل کر اتنے بڑے ہو گئے ہوں کہ میری زندگی میں آنے والے دوسرے خوف کو روک دیتے ہیں۔

لالٹین: آپ کے حوالے سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ آپ ان چیزوں کو بھی شاعری میں لے آئی ہیں جو پہلے شاعری کا موضوع نہیں سمجھی جاتی تھیں، کیا ہر چیز شاعری کا موضوع ہو سکتی ہے؟مثلاً میل اتارنا مشکل لگتا ہے، اس میں فریج میں رکھا کھانا بھی ہے، بچا ہوا دودھ بھی، میلے کپڑوں کی گٹھڑی۔۔۔ اس اعتراض پر آپ کا کیا جواب ہے؟
عذرا عباس: جی ہر چیز کیوں نہیں جن جن چیزوں سے انسان کی مڈبھیڑ ہو تی ہے وہ تمام چیزیں شاعری کا حصہ بننی چاہئیں۔ اگر کوئی نہیں بناتا، تو میں تو بناتی ہوں۔ بلکہ ابھی تو اگر لکھتی رہی تو شاید بہت سی چیزوں کو جن کا عمل دخل میری زندگی میں ہے میں اس کو شاعری میں جگہ دوں گی، تم نے جن نظموں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ نظمیں اگر غور سے پڑھو تو ان تینوں میں بے زاری کی ایک ایسی سطح ہے جہاں زندگی منہ پھیر کر کھڑی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کیوں ہوتی ہے؟ تواس کے لئے لفظوں کا ایک انبار چاہئے آپ منطق اور فلسفے کی زبان میں ٹہلا تو سکتے ہیں لیکن زندگی کو اگر قریب سے نہیں دیکھا تو میری نظمیں صرف لفظوں کی دل لگی نظر آئیں گی۔ جو ایسے لوگوں کونظر آتی ہیں جن کو زندگی ایک قہقہے کی شکل میں ملی ہے۔

زندگی کو اگر قریب سے نہیں دیکھا تو میری نظمیں صرف لفظوں کی دل لگی نظر آئیں گی۔ جو ایسے لوگوں کونظر آتی ہیں جن کو زندگی ایک قہقہے کی شکل میں ملی ہے۔
لالٹین: نیند کی مسافتیں پر اور آپ کی شاعری پر ہونے والا ردعمل کیا تھا اور اس نے آپ کو کس طرح متاثر کیا؟
عذرا عباس: شاید میں پہلے بتا چکی ہوں جب یہ لکھی جا رہی تھی لوگ نیند کی مسافتیں اور نثری نظم کے سامنے سر تسلیم خم کر چکے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ منافقوں سے ہمای تاریخ بھری ہوئی ہے، جو نثری نظم کے خلاف تھے وہ آج بھی ہیں جن کی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔لیکن مجھے یہ خوشی ہے کہ میرے بعد جوق در جوق لوگ آنے لگے وہ بھی جو ایک زمانے میں نثری نظم کے خلاف واہی تباہی بکتے تھےاور جہاں یہ سوال ہے کہ اس نظم نے کیا ردِعمل میری شاعری پر کیا تو بھئی شاعری تو شروع ہی نیند کی مسافتیں سے کی تھی۔

لالٹین: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ نیند کی مسافتیں نے پاکستان میں نثری نظم کی اہمیت کو تسلیم کرایا ہے؟
عذرا عباس: بالکل، میں کیا سمجھتی ہوں جو لوگ شاعری سے انصاف کرتے ہیں اور جو اس وقت کی نثری نظم کی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ لوگوں نے اس نظم کے بعد نثری نظم کو ہضم کرنا شروع کر دیا تھا، اگر تمیز سے بات کروں تو اس نظم کو بہت سراہا گیا-

لالٹین: آپ کی جون ایلیا سے ملاقات رہی، اس پر آپ نے لکھا بھی اس کا کچھ احوال بتائیے؟
عذرا عباس: جون ایلیا سے میری صرف دو ملاقاتیں ہوئی ہیں ایک تو جب ابا کے دوست کی بہو رئیس امروہی کی بیٹی تھیں جو میری شادی سےپہلے ہمارے ہی محلے میں رہتے تھےان سے میری ملاقاتیں ہوتیں تھیں، وہ بھی سمجھ لو میں اس وقت نویں میں تھی لیکن ان سے اور ان کی بہنوں سے یعنی جون ایلیا کی بھتیجیوں سے، لیکن ایک دن ابا کے دوست کی بہو جو میری دوست بھی تھیں مجھے اپنے میکے لے گئیں جہاں میں نے جون ایلیا کو دیکھا، جو میں لکھ چکی ہوں۔ پھر میری شادی ہو گئی،انور سے ان کی ملاقاتیں ہوں گیں لیکن مجھے پتہ تھا وہ میری شاعری کو سن کر داد دیتے تھے۔ میری ملاقات پھر ان سے اس وقت ہوئی جب ان کی بھتیجی امریکہ سے آئیں اور انہوں نے مجھ سے ملنا چاہا۔

بیٹھک میری یہاں آج بھی ہوتی ہے اور میرے بہت سے دوست آتے رہتے ہیں ہم یا میں ان بیٹھکوں سے ہی اپنی زندگی میں چہل پہل لاتے رہتے ہیں۔
لالٹین: آپ کی ثروت حسین، مصدق سانول، فیکا اور کئی دیگر ادیبوں اور فنکاروں سے بیٹھکیں رہیں، ان کا احوال بتائیے۔
عذرا عباس: ثروت سے میری دوستی صرف شاعری کی حد تک رہی اجمل کمال اور بہت سے دوستوں سے جو ثروت کی شاعری ہماری بیٹھک میں سناتے تھے، اب رہا سانول اور فیکا اور محمد حنیف ایسے بہت سے جو شاعری پڑھنا اور سننا چاہتے تھے وہ میری شاعری کے بھی مداح تھے خاص طور پر سانول اور حنیف یہ میرے دوست بھی تھے۔ سانول دغا دے گیا، حنیف اور نمرا سے میری دوستی جاری ہے۔ بیٹھک میری یہاں آج بھی ہوتی ہے اور میرے بہت سے دوست آتے رہتے ہیں ہم یا میں ان بیٹھکوں سے ہی اپنی زندگی میں چہل پہل لاتے رہتے ہیں۔ آنے والوں میں اجمل کمال، آصف فرخی، افضال سید، تنویر انجم، سعید الدین اور بہت اہم نام ہر ہفتے ملتے ہیں۔

لالٹین: اندھیرے کی سرگوشیاں نئی کتاب آئی ہے آپ کی۔ اس بارے میں کچھ بتائیے۔
عذرا عباس: اب اس کے بارے میں میں کیا بتاؤں وہ تو پڑھنے والے بتائیں گے اور تم خود۔

لالٹین: آپ کے افسانوں کے کردار ہمیشہ ضمائر کی شکل میں کیوں ہوتے ہیں مثلاً میں، وہ، اسے؟اس کی کیا وجہ ہے؟
عذرا عباس: دیکھو بھی کوئی بھی چیز جو لکھواتی ہے مجھ سے وہاں میں اتنی conscious نہیں ہوتی کہ کردار کو کس جگہ اور کیسے رکھ رہی ہوں.

لالٹین: انورسین رائے کی موجودگی آپ کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟
عذرا عباس: بری طرح، دیکھو پہلے وہ میرا عاشق تھا،پھر میرا محبوب،پھر شوہر اور شوہر بننے کے بعد جب جب اس کے اندر کی شوہریت جاگتی ہے اور جو اکثر ہمیشہ جاگی رہتی ہے تو مجھے بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ہاں انور کے ساتھ رہنے سے مجھے ایک فائدہ ہوا کہ روزمرہ میں میں صرف روزمرہ کی زندگی ہی نہیں گزارتی رہی بلکہ ادب کی دنیا میں سانس لیتی رہی ورنہ شاید میں برباد ہو جاتی۔

Azra Abbas's Portrait: Eliyah Sen Roy


Related Articles

بھاگ مسافر میرے وطن سے

گاوں کے ایک تھانے کا منظر، تھانیدار صاحب کے کمرے کے باہر چند کانسٹیبل اونگھ رہے ہیں، ایک جانب سپاہیوں کی میلی وردیاں دیوار پر ٹنگی ہیں۔

تھا ضمیرِ جعفری بھی اک مزیدار آدمی۔۔۔ ؎

ضمیر کا معاشرتی ادراک اور سیاسی بصیرت مزاح میں اکبر الہ آبادی یا حالیؔ کی طرح مربیانہ زبان رکھتا ہے نہ فوجداروں سا آہنگ کہ جس سے کسی اصلاحی تحریک کی بُو آتی ہو۔

Healing in the Thick Plaster [i]

Translation of Mirza Athar Baig's story “Sakht Plaster me Indemaal” Tonight around six or seven o’ clock I have to