پاکستانی طلبہ کے نام ایک خط

پاکستانی طلبہ کے نام ایک خط
آداب!

میرا نام تصنیف حیدر ہے، میں بھارت کے شہر دہلی میں رہتا ہوں۔ آپ سے بات کرنے کا میرا مقصد محض اتنا ہے کہ مجھے اپنی ایک پاکستانی دوست کی بدولت یہ باتیں معلوم ہوئی ہیں کہ آپ کے کچھ اساتذہ میرے ملک کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اور خصوصی طور پر 'ہندوقوم' کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔میں نے خیال کیا کہ بطور ایک بھارتی شہری اگر میں آپ سے مخاطب ہوکر آپ کی کچھ غلط فہمیاں دور کرسکوں تو شاید اپنے ملک سے کی جانے والی ایک بلاسبب کی نفرت کو کچھ حد تک دور کرنے میں کامیاب ہوجاؤں۔میں جانتا ہوں کہ میں ایک ایسے وقت میں آپ سے مخاطب ہوں، جب ہند و پاک میں نفرت کی سیاست گرم ہے۔اور اس گرم بازاری میں محبت کی آواز کو نہایت شک، خوف اور اندیشے کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے، پھر بھی میں یہ جوکھم اٹھانے کو تیار ہوں، اگر آپ میری بات ٹھنڈے دل سے سنیں اور اپنے کانوں کے ساتھ ساتھ اس خط کو پڑھتے ہوئے دماغ کا ایک بڑا حصہ بھی کھلا رکھیں۔

بھارت میں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور ان کے ہندوؤں سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ان تعلقات کی نوعیت کاروباری بھی ہے، گھریلو بھی، دوستانہ بھی اور معاندانہ بھی۔مگر تعلقات بہرحال ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔
میں آپ کو یہ خط کبھی نہ لکھتا اگر میری دوست مجھے یہ نہ بتاتی کہ کراچی یونیورسٹی میں موجودہ دور کی ایک استانی بچوں کو یہ بتارہی ہیں کہ اجنتا ایلورہ کے غاروں میں بنائے جانے والی پینٹنگز اور مجسمے مسلمانوں نے تعمیر کیے ہیں۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے ہنسی نہیں آئی، کیونکہ میں بطور آپ کے ایک ہمدرد پڑوسی کے، آپ کو یہ بتانا اور باور کرانا چاہتا ہوں کہ نفرت انسان کی عقل کو ماؤف کردیتی ہے، اسے بہت حد تک اندھا بنادیتی ہے۔موصوفہ کو اپنی بات کہتے وقت یہ خیال بھی نہ رہا کہ ہندوستان کے قدیم غاروں میں موجود مجسموں کا کریڈٹ مسلمانوں کو دیتے وقت وہ یہ سوچیں کہ اسلام میں تصویر بنانا، مجسمے بنانا قطعی طور پر حرام مانا جاتا ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی جاننا گوارا نہ کیا کہ دوسو قبل مسیح سے ساتویں صدی عیسوی تک تعمیر ہونے والے یہ مختلف مجسمے جو پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں، دراصل بودھ، جین اور ہندو تمدن کے بہترین نمونے ہیں، جن میں سماجی کاموں سے لے کر جنسی افعال تک کو نمایاں کیا گیا ہے۔بہرحال غلطی ان کی نہیں ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب نفرت کی سیاست اپنا کام کرتی ہے تو لوگ اسی طرح بغیر سوچے سمجھے ہر اس سائے پر حملہ کرنا شروع کردیتے ہیں، جسے وہ ذرا سی روشنی کی پیداوار سمجھتے ہوں۔میرے ملک میں بھی نفرت کا کاروبار کرنے والے ایسے لوگ ہیں، مگر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بھارت کی تعلیم اس نفرت پروری اور مسلمانوں پر کسی بھی قسم کی بازی لے جانے کے لیے راستے نہیں تلاش کرتی ہے۔ہندوؤں کے تعلق سے آپ کی حکومت، آپ کے اساتذہ ، آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ بھارت میں پاکستان سے بھی زیادہ مسلمان رہتے ہیں اور ان کے ہندوؤں سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ان تعلقات کی نوعیت کاروباری بھی ہے، گھریلو بھی، دوستانہ بھی اور معاندانہ بھی۔مگر تعلقات بہرحال ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔کبھی کبھی چھوٹے شہروں، گاؤوں میں کچھ فسادات ہوجاتے ہیں، مگر ان فسادات کا ہوپانا بس سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ سمجھ لیجیے، اس میں ہندو مسلم نفرت کام نہیں کرتی ہے۔نہ ہندو مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، نہ مسلمان ہندوؤں کو۔

اگر آپ فیس بک پر پاکستان اور مسلمانوں کے تعلق سے لکھے گئے کچھ غیر مسلموں کے کمنٹس دیکھ کر دل برداشتہ ہوتے ہیں تو اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔بھارت کی آبادی تقریباً ایک ارب تیس کروڑ سے زائد ہے، قریب انتیس ریاستوں میں بٹے ہوئے اس ملک کی زمینوں، جغرافیائی حالات، زبانوں، تہذیبوں سب میں اس قدر امتیاز موجود ہے کہ بھارت کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہی اس سوشل میڈیا کی پھیلائی ہوئی نفرت کا شکار ہوا ہے، یہاں ایسے بہت سے پڑھے لکھے، بہادر اور نڈر ہندو ہیں جو صرف مسلمانوں کے ہی نہیں، تمام اقلیتوں کے لیے لڑتے ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔اپنے ہی ملک کے کیا ہندوستان میں تمام دنیا کے لوگوں سے محبت کرنے والے ، ان کو انسان سمجھنے والے، ان کی قدر کرنے والے بے انتہا دل موجود ہیں۔عراق اور شام کے لیے کام کرنے والی سکھ این جی اوز ہیں، جنہوں نے اپنی جانب سے نہ جانے شام کے کتنے بچوں اور بڑوں کے کھانے، سونے اور ٹھیک سے رہنے کے انتظامات کیے ہیں۔دنیا بھر کی دقتیں اٹھا کر ان کے والنٹیرز نے یورپ کی سرحدوں پر پہنچ کر ان رفیوجیز کی مدد کی ہے۔اس لیے اگر کوئی آپ سے کسی شخص کی برائی اس واسطے سے کرتا ہے کہ وہ غیر مسلم ہے، تو اس کی بات نہ سنیے گا۔دلوں کے حال جاننے والا خدا ہے، خدا اگر چاہتا تو سب کو براہ راست اسلام پر ہی پیدا کرسکتا تھا۔لیکن مذہب اسلام زبردستی کا پیغام نہیں ہے، دین کا خیال، مذہب کا پرچار کسی پر تھوپا نہیں جاسکتا اور اس کے اپنانے یا نہ اپنانے سے کوئی بھی شخص اچھا یا برا نہیں ہوجاتا، یہ تو خدا کے ساتھ انسان کا معاملہ ہے، جس کی پوچھ تاچھ ہوئی بھی تو مرنے کے بعد ہوگی، بندے اور خدا کے درمیان موجود اس معاملے کو بنیاد بنا کر لوگوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا یا انہیں دور کرنے کی کوشش کرنا، ان کے بیچ نفرت پیدا کرنا ایک بہت ہی بری بات ہے، جس کی مذمت ہونی چاہیے، جس کو کبھی ماننا نہیں چاہیے۔تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے دل گیلےسیمنٹ کی تختی جیسے ہوتے ہیں، ان پر اگر کوئی نام لکھ دیا جائے، کوئی ناخن گڑو دیا جائے تو اس کا اثر زندگی بھر قائم رہتا ہے۔اس لیے اگر آپ کی اس چھوٹی سی تختی پر کوئی نفرت کو گڑونے یا گاڑنے کی کوشش کررہا ہو تو اسے روکیے۔دل ایک اچھا مقام ہے، ایک ایسا مقام جہاں خدا رہتا ہے، اور جہاں خدا رہتا ہے ، وہاں نفرت کا کوئی کام نہیں۔خدا اپنے سب بندوں سے محبت کرتا ہے، اگر نہ کرتا تو اس کے ہاتھ میں تو سب کچھ ہے، وہ لوگوں کا کھانا بند کرسکتا تھا، پانی بند کرسکتا تھا، ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کو ایک ساتھ بیمار کرسکتا تھا، ان کے دماغوں کو لقوہ لگا سکتا تھا، لیکن اگر اس نے ایسا نہیں کیا ہے اور دنیا میں ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی یہ تمام قومیں مستقل ترقی کررہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ خدا ان سے ناراض نہیں ہے، وہ اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح نبھارہے ہیں۔مجھے میری دوست نے یہ بھی بتایا کہ وہی استانی صاحبہ کہتی ہیں کہ قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم سے دوستی کرلو مگر ہندوئوں سے نہ کرو۔

یہاں ایسے بہت سے پڑھے لکھے، بہادر اور نڈر ہندو ہیں جو صرف مسلمانوں کے ہی نہیں، تمام اقلیتوں کے لیے لڑتے ہیں، ان کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں۔
عجیب لوگ ہیں، جو آپ کو غلط باتیں بتارہے ہیں اور آپ کےیہاں کی انتظامیہ اور حکومت ان کے اوپر بچوں کا مستقبل برباد کرنے کے عوض کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ہندوئوں کا ذکر نہ تو قرآن میں ہے اور نہ احادیث میں۔عرب میں جب اسلام آیا تو ہندو وہاں بہت کم تعداد میں آباد تھے، عرب اور ہندوستان کی تجارت کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ہندوستان عربوں کے لیے ہمیشہ سے مسالوں کی ایک بڑی منڈی رہا تھا، مگر ان کے رسوم و رواج سے عرب کے عام لوگ، وہاں کے رہین و مکین زیادہ تر ناآشنا تھے۔ہندوستان ایک بہت پرانا ملک ہے،یہی وہ خطہ ہے، جس پر آج بہت سے دوسرے ملک بھی آباد ہوگئے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کو الگ ہوئے قریب ستر برس گزر چکے ہیں، لیکن کبھی ایک ہی ملک کہلانے والے یہ دو ممالک آج ایک دوسرے کو خوف اور شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ایسا اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ہم نے اپنی حکومتوں پر بھروسہ کیا۔ہم نے سوچا کہ وہ ہماری بھوک، ہماری غریبی اور ہماری ناخواندگی کو کم کریں گی، مٹائیں گی۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے ہمیں نفرت کی جلتی ہوئی آندھیوں میں چھوڑ دیا۔اس سے ان کا ایک فائدہ ہوتا ہے، فائدہ یہ ہے کہ جب ہم انہیں بھوکے پیٹ دکھاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں، دیکھو دیکھو، پڑوسی ملک تمہاری پیٹھ پر وار کررہا ہے۔جب ہم ان سے غریبی کا رونا روتے ہیں، تب بھی وہ ہمارے ساتھ یہی کھیل کھیلتے ہیں۔اس معاملے کو اتنی ہوا مل گئی ہے کہ ہم اپنے پیٹ کو بھول چکے ہیں ، بس ہمیں اپنی پیٹھ ہی یاد رہ گئی ہے۔یاد رکھیے! اول تو کوئی مذہب اس نیت سے ہی نہیں آیا تھا کہ دنیا میں نفرت پھیلائے، مگر لوگوں نے خدا کے پیغامات کو بھی کاروبار میں بدل دیا۔آپ سوچیے، خود غور کیجیے کہ جو قرآن انسان کی قدر کرنے پر آمادہ کرے، زمین پر فساد پھیلانے سے منع کرے اور لوگوں کو زمین میں چلنے پھرنے اور اس پر موجود چیزوں پر غور کرنے کی دعوت دے، وہ قتل و غارت گری اور نفرت کو کیسے پناہ دے سکتا ہے۔جس مذہب نے اپنے لیے سلامتی کا نام چنا ہو، اس کے نام پر آپ کو جنگ و جدال، لڑائی بھڑائی، نفرت اور جلن کا پاٹھ پڑھایا جارہا ہے۔اس لیے اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے ٹیچرز سے سوال کریں کہ تاریخ میں جو ہوا سو ہوا۔ مگر مستقبل کو کیوں بھیانک بنایاجارہا ہے۔تاریخ کو ہم نہیں بدل سکتے، خواہ وہ کتنی ہی خطرناک، بری اور غلیظ کیوں نہ ہو، لیکن ہم آنے والے کل کو بدل سکتے ہیں۔

ہماری حکومتیں جمہوری ہیں، مگر وہ ہمیں بے وقوف بناتی آئی ہیں، مگر جب یہی کام ہمارے اسکول کرنے لگیں گے تو دنیا ہم پر ہنسے گی۔پڑوس کا ہندو آپ کا دشمن بنایا جارہا ہے، اور دور دیس کا عرب آپ کا بھائی۔یہ ایک غلط رویہ ہے، جسے دور کرنے، توڑنے اور کمزور کرنے کی ضرورت ہے۔آج یہ آپ کو نفرت سکھائیں گے، کل آپ کے ہاتھ میں بندوق تھمادیں گے۔ان کا کچھ نہ جائے گا، یہ گھروں میں بیٹھے رہیں گے، یونہی کسی اگلی جماعت کے سامنے بھارت اور ہندوؤں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے ، مگر آپ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، آپ کے والدین جنہوں نے بڑی محبت سے آپ کو پالا پوسا ہے،جنہوں نے آپ کی صورت میں ایک بہتر مستقبل اور خوبصورت دنیا کا خواب سجایا ہے، وہ آٹھ آٹھ آنسو روئیں گے۔نفرت ہم پر تھوپی جائے اور ہم اسے قبول کرلیں تو یہ ہماری بے وقوفی ہے۔ہماری اندھی تقلید، ہمیں اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔
بطور بھارتی شہری ، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ملک ایک ایسی جگہ ہے، جہاں پوری دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ محفوظ اور سب سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں۔جن فسادات کا ذکر کرکے آپ کو ورغلایا اور بہکایا جاتا ہے، وہ کئی برسوں میں جاکر ہوتے ہیں، اچھا، اتنا بڑا ملک ہے۔ایک گھر میں جب کئی افراد رہتے ہیں، ان کی سوچ، سمجھ ، زبان، بیان الگ نہ ہو تب بھی ان میں جھڑپیں ہوجاتی ہیں، یہ تو ایک ملک کا معاملہ ہے، لیکن یہ اتنا اندرونی معاملہ ہے کہ اس سے کسی مسلمان کی اپنے وطن سے محبت کم نہیں ہوتی،اگر کچھ ایسے مسلمان ہیں بھی، جو اس ملک کے خلاف سوچتے ہیں تو صرف وہی نہیں، ہر مذہب اور ہر فرقے میں اس قسم کے لوگ مل جاتے ہیں، جو محبت پر نفرت کو ترجیح دیتے ہیں، مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے۔دہشت گردی آج ایک ایسی تکلیف دہ حقیقت ہے، جس سے پوری دنیا جوجھ رہی ہے، ہم سب کو چاہیے کہ اس کا مل کر مقابلہ کریں،کیونکہ نفرت ختم ہونے سے کاروبار کے مواقع بڑھیں گے۔لوگوں میں اگر ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے گا تو بھلائی اور دولت دونوں کے راستے روشن ہوں گے۔یہ دو ملک، پہلے ہی ایک ہی سرزمین ہوا کرتے تھے، اب ان کے درمیان ایک لکیر موجود ہے، مگر اس طرف والے، اس طرف والوں کے لیے اور اس طرف والے اس طرف والوں کے ایسے ہی دوست ہونے چاہیے، جو کبھی ایک ہی فلیٹ میں رہا کرتے تھے اور اب وہ دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے ہیں۔اس کی وجہ سے کوئی نیا جھگڑا پیدا کرنا، کوئی نیا تنازعہ کھڑا کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ہمارا مقصد پہلے یہ ہونا چاہیے کہ ہم اچھے بنیں، ہمارے آس پاس کی دنیا اچھی بنے، نفرت انسانی ذہنوں کو سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں چھوڑتی، وہ صرف بدلہ لینے پر اکساتی ہے۔اس لیے بدلے کے جذبات کو کچلنا بہت ضروری ہے، اپنے اندر کے اس راکشس کو ختم کرنا ضروری ہے، جو کسی اور کی جان لینے کا تصور ہمارے دماغ میں پیدا کرسکے۔

کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔
ایک بات جو میں واضح طور پر آپ کو بتانا چاہتا ہوں، اور جو آپ کے معصوم ٹیچرز شاید ہی کبھی آپ سے ڈسکس کرتے ہوں ، وہ یہ ہے کہ زبان اور مذہب کے نام پر لڑی جانے والی سرد و گرم جنگوں کا مستقبل کچھ بھی ہو، مگر ان سے ہمیشہ ایسی طاقتیں فائدہ اٹھاتی ہیں، جن کو جلتے ہوئے جسموں پر ہاتھ سینکنے کا فن آتا ہے۔بھارت اور پاکستان میں اگر مذہب اور سیاست کے نام پر یہ جنگ جاری رہے گی تو لوگ اس جنگ میں ہتھیار اٹھاتے رہیں گے، کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ ہتھیار بھوک مٹانے والے چار نوالوں سے کئی گنا زیادہ مہنگے ہوتے ہیں، اصل میں ایشیا کی بہت سی ایسی مذہبی و ملکی طاقتیں ہیں، جو ان علاقوں کو ترقی سے روکنے کے لیے کچھ لوگوں کو کام پر لگاتی ہیں،ان لوگوں کو پیسہ دیتی ہیں، خوب پیسہ، یہ پیسہ کبھی مسجد و مدرسہ کو دیے جانے والے فنڈ کے نام پر آتا ہے، کبھی پرائیوٹ اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے فروغ کے نام پر، مگر آتا ہے اور وہ لوگ آپ کے خوبصورت محلوں، شہروں، گلیوں اور گھروں کے باہر زبان و تہذیب کی حفاظت کا ڈونگرا بجاتے ہوئے ہتھیار دھر کے کھڑے ہوجاتے ہیں۔جو ہتھیاردھر کر کھڑے نہیں ہوتے، وہ آپ کے معصوم ذہنوں میں تاریخ و تہذیب کی ایسی سوئیاں چبھوتے ہیں، جس سے آپ کو لگتا ہے کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔حالانکہ وہ آپ کے ملک کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ان کی وجہ سے لوگ آپ کے ملک سے ڈرنے لگتے ہیں، سیاح تفریح کی غرض سے آپ کے ملک کا رخ نہیں کرتے، اس لیے نہ ٹورزم کا پیسہ آتا ہے نہ کوئی غیر ملکی کمپنی اس دہشت سے بھری ہوئی دھرتی پر پلانٹ لگانا چاہتی ہے۔وہاں اگر کچھ ممالک کے کارندے بزنس کرنے آتے بھی ہیں تو وہ صرف ان ہتھیاراٹھانے والے لوگوں کے آقائوں کے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں وہاں نقصان کا کوئی اندیشہ نہ ہو۔ پوری دنیا میں آپ کی شبیہہ خراب ہوتی ہے۔آپ کو مذہب اور زبان کے نام پر ڈرا ڈرا کر یہ لوگ ایک دن آپ کے ہاتھ میں بھی ایک ہتھیار تھماکر آپ کو موت کی طرف دھکیل دیتے ہیں اور خود تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ مجھے آپ سے یہ باتیں کہنی پڑرہی ہیں، مگر حقیقت یہی ہے اور اب وہ وقت ہے کہ آپ کا اسے جاننا بہت ضروری ہے۔بھارت ایک اچھا ملک ہے، ایک ایسا ملک جس سے دوستی کرکے آپ کا ملک اپنے لیے بھی روزگار کے بہت سے وسائل پیدا کرسکتا ہے، لیکن انہی لوگوں کی وجہ سے آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ بھارت میں آپ کی طرف سے غیر مطمئین ہوئے جارہے ہیں۔اب آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ کو جو بھی پڑھایا یا بتایا جائے، خاص طور پر مذہب، رسم، تاریخ، زبان اور بھارت کے تعلق سے۔آپ اس کے بارے میں انٹرنیٹ سے معلوم کریں۔اپنے رویے میں نرمی لائیں اور ٹیچر کی ہر بات پر ہامی بھرنے کی بجائے ان سے مناسب لہجے میں جائز سوالات پوچھیں جو آپ کے دماغ میں آتے ہیں۔

انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، آپ خبروں اور ہندوستانی دوستوں سے جڑ سکتے ہیں، آپ ان کے بارے میں معلوم کرسکتے ہیں۔کوئی اگر نفرت کا مظاہرہ کرے تو خوف مت کھائیے، بدلے کا جذبہ دل میں نہ پیدا کیجیے۔بس اس کو اپنے رویے سے یہ یقین دلائیے کہ وہ آپ کے ملک اور آپ کے لوگوں کے بارے میں جو رائے رکھتا ہے وہ غلط ہے۔تبھی شاید یہ مسئلہ حل ہوگا۔آپ آنے والے دور کا خواب ہیں اور یہ خواب بگڑنا نہیں چاہیے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ چاہے کسی چھوٹے سے گائوں کے مدرسے میں پڑھتے ہوں یا کسی بڑے سکول میں۔ٹیچر، نیوز چینل یا پھر کسی ملا مولوی کے بہکاوے میں آئے بغیر خود چیزوں کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش کیجیے۔اور اس میں اپنی نیت اچھی رکھیے۔یاد رکھیے! آپ کو ایک بہتر مستقبل بنانا ہے اور اس بہتر مستقبل کی شروعات ایک حوصلے سے ہونی چاہیے، ایک ایسے جذبے سے جس میں آپ یہ عزم کریں کہ لاشوں پر تجارت نہیں ہونے دیں گے،مذہب کے نام پر مزید بٹوارے نہیں برداشت کیے جائیں گے اور زبان کے تعلق سے کوئی فخر، کوئی انانیت خود میں پیدا نہ ہونے دیں گے۔آنے والا وقت شاید تب ہی سدھر سکتا ہے، ورنہ سب رفتہ رفتہ بگڑ رہا ہے، ہم بھی ، آپ بھی اور ہمارے ملکوں کے حالات بھی۔

آپ سے سمجھنے کی ایک چھوٹی سی امید کے ساتھ
بھارت سے آپ کا ایک مخلص دوست
تصنیف حیدر
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

رضا رومی کے لیے ایک خاموش تحریر

حیرت ہے کہ رضا نے آخر ایسا کیا کہہ دیا تھا کہ جس کے بعد 'نامعلوم' افراد کے پاس ان کی جان لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔

کوک سٹوڈیو، کاروبار اورثقافتی بخار

کوک سٹوڈیو کے پروڈیوسرز ڈیفنس کے ان بچوں جیسے ہیں جو سال میں ایک مرتبہ گرمی کی چھٹیوں پر اپنے ممی پاپا کے "ویلج " جاتے ہیں اور وہاں "کاوز" اور "ٹیوب ویلز" اور "فیلڈز" دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

بجلی بحران اور خواجہ صاحب کی معافی

ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی خواجہ آصف نے طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے قوم سے معافی مانگ لی ہے، چلیں انہوں نے پاکستانیوں کی ایک شکایت تو دور کر دی کہ اس ملک میں کوئی اپنی "غفلت" کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔