اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں - پانچویں قسط

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں - پانچویں قسط

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے 'آج' میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

29 اپریل 1955ء کو مولانا مودودی کال کوٹھری سے رہا ہوئے۔ دستور سازی میں اسلام کو بنیادی حصہ بنانے کے لیے جماعت اور مولانا نے کئی برس سے کام شروع کر رکھا تھا اور قرارداد مقاصد بھی انہی منصوبوں کی ایک کڑی تھی۔ بعدازاں جماعت نے مختلف مذہبی رہنماؤں کو اکٹھا کر کے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ اسی سلسلے میں جماعت نے جولائی 1953ء میں اسلامی دستور کا دن بھی منایا۔ اس سے پہلے مولانا اس موضوع پر پنجاب لاء کالج اور ریڈیو پاکستان پر تقاریر کر چکے تھے اور انہوں نے اپنے طور پر ایک اسلامی دستور کے خدوخال بھی تیار کیے تھے۔ جماعت کو یقین تھا کہ دستور سازی میں اس کی تجاویز کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، حالانکہ جماعت کا ایک بھی رکن دستور ساز اسمبلی کا حصہ نہیں تھا۔ البتہ جماعت سے ہمدردی رکھنے والے افراد جیسے چوہدری محمد علی، اشتیاق حسین قریشی، عمر حیات ملک اور کچھ حد تک خواجہ نظام الدین کسی نہ کسی طور ایوان اقتدار کی غلام گردشوں کے مستقل مکین رہے۔ سنہ 1955ء میں چوہدری محمد علی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس سال قانون ساز اسمبلی کے لیے منعقد ہونے والے انتخابات میں جماعت نے حصہ نہیں لیا، لیکن قانون سازی کے عمل میں جماعت نے اپنا مقدور بھر حصہ ضرور ڈالا۔ مئی 1955 ء میں جماعت کی ایماء پر چونتیس(34) اسمبلی ممبران نے حلف نامے پر دستخط کیے کہ نئے دستور میں اسلامی شقیں برقرار رکھی جائیں گی۔

جماعت کو یقین تھا کہ دستور سازی میں اس کی تجاویز کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، حالانکہ جماعت کا ایک بھی رکن دستور ساز اسمبلی کا حصہ نہیں تھا۔
29فروری 1956ء کو اسمبلی نے پاکستان کا پہلا دستور منظور کیا، جسے مارچ میں نافذ کیا گیا۔ اس دستور میں ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھا گیا اور تمام قوانین کو مذہب کی کسوٹی پر پرکھے جانے کا عندیہ دیا گیا۔ اس دستور میں مولانا کی زیادہ تر خواہشات کو عملی شکل نہ ملی لیکن وقت کے تقاضے کے مطابق جماعت کی جانب سے دستور کے ’اسلامی‘ ہونے کی نوید سنائی گئی۔ کچھ ہی ماہ بعد چوہدری محمد علی کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کی جگہ حسین شہید سہروردی وزیر اعظم بنے۔ سنہ 1957ء میں جماعت کے ماچھی گوٹھ اجتماع میں چھپن اکابرین بشمول امین احسن اصلاحی اور ڈاکٹر اسرار احمد، سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کے موضوع پر اختلاف کے بوجوہ جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ اپریل 1958 ء میں کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے چھیانوے(96 )میں سے انیس (19) نشستیں جیت لیں۔ اس جیت نے جماعت کے حوصلے کچھ بلند کیے لیکن اکتوبر میں فوج نے تختہ الٹ دیا اور جماعت کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔

اسکندر مرزا نے مارشل لاء نافذ کرنے کی ایک وجہ جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی بتائی، بعد ازاں جنرل ایوب کی حکومت نے بھی اسلام کو جدیدیت کی جانب مائل کرنے کا اعادہ کیا۔ سنہ 62ء کے دستور میں 1956ء کے دستور کی اسلامی شقیں برقرار رکھی گئیں البتہ ملک کے نام سے ’اسلامی‘ کا دم چھلہ اتار کر صرف ’جمہوریہ پاکستان‘ مقرر کیا گیا۔ حسب توقع جماعت نے اس پر خوب واویلا کیا اور ایک سال بعد نام کو تبدیل کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کر دیا گیا۔ جماعت کی حرکتوں سے تنگ آ کر 1962ء میں وفاقی کابینہ نے جماعت کے متعلق ایک رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جماعت اسلامی دراصل ایک فتنہ ہے اور اس میں ’اخوان المسلمون‘ بننے کے جراثیم موجود ہیں۔ اس فتنے سے نبٹنے کے لیے جو تراکیب پیش کی گئیں، وہ ہو بہو وہی تھیں جو صدر ناصر نے مصر میں اخوان کے خلاف استعمال کی تھیں۔ اس ملک کی یہ بدقسمتی ہے کہ اس رپورٹ پر کبھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔

اسکندر مرزا نے مارشل لاء نافذ کرنے کی ایک وجہ جماعت اسلامی جیسی تنظیموں کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ بھی بتائی، بعد ازاں جنرل ایوب کی حکومت نے بھی اسلام کو جدیدیت کی جانب مائل کرنے کا اعادہ کیا۔
کابینہ میں موجود جماعت سے ہمدردی رکھنے والے وزراء(حکیم محمد سعید، اے کے بروہی، افضل چیمہ) نے صدر ایوب کو قائل کیا کہ وہ مودودی صاحب سے مصالحت کر کے دیکھیں۔ سنہ 1962ء میں صدر ایوب نے لاہور میں مولانا سے ملاقات کی اور ان کو مشورہ دیا کہ سیاست کی بجائے مذہبی میدان میں اپنا کام جاری رکھیں اور ان کو بہاولپور اسلامی یونیورسٹی کی سربراہی کی دعوت بھی دی گئی۔ مولانا نے ان شرائط کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی بغاوت جاری رکھی۔ سنہ 62ء میں امریکی نومسلمہ مریم جمیلہ مودودی صاحب کی دعوت پر پاکستان منتقل ہو گئیں۔ نیو یارک کے سیکولر یہودی خاندان میں پیدا ہونے والی مارگریٹ مارکس کو ذہنی مرض ’اختلاج ‘یا Schizophrenia کی تشخیص کی جا چکی تھی۔ دوران علاج انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور مختلف موضوعات پر مودودی صاحب اور سید قطب سے خط وکتابت بھی کی۔ پاکستان آمد کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ مولانا کے گھر میں گزارا لیکن گھریلو کشیدگی کے باعث ان کوپہلے پتوکی کے ایک خاندان اور بعد ازاں لاہور میں ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔مریم جمیلہ نے انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں لکھیں اور ’مغربی تہذیب‘ کے مقابلے میں اسلام کی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایک مثالی اسلامی معاشرے میں روز مرہ کے استعمال کی زبان عربی ہو گی جب کہ مرد روایتی عرب لباس زیب تن کریں گے اور خواتین مکمل پردہ کریں گی۔ مخلوط تعلیم پر پابندی ہو گی اور شادی صرف والدین کی مرضی ہی سے کی جا سکے گی۔ گھروں میں میز یا کرسیاں یا بیڈ نہیں ہوں گے اور عوام کو کھانے کے لئے کانٹوں اور چھریوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہو گی۔ مشینوں اور فیکٹریوں پر بھی ممانعت ہو گی اور دکانیں صرف روایتی دستکار یا کریانے والے کھول سکیں گے۔ اس خیالی مملکت میں ذہنی امراض کے ہسپتال اور بوڑھے لوگوں کے لئے کئیر ہوم نہیں ہو گے۔ ہر کوئی پانچ وقت نماز ادا کرے گا اور رمضان میں پورے روزے رکھے جائیں گے۔

سنہ 1964 ء میں ایوب حکومت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور جماعت پر پابندی عائد کر کے اس کے سربراہان کو قید کر دیا گیا۔ اس اثناء میں صدارتی انتخابات کا شوشا اٹھا تو جماعت نے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کی حمایت کا اعلان کیا۔ سنہ 1964ء میں مولانا نے محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں مندرجہ ذیل بیان جاری کئے:

’عوام کو اس معاملے میں غافل نہیں رہنا چاہئے، اگر ان کی کوتاہی سے ان کے نمائندوں نے غلط فیصلہ کیا (اور مس فاطمہ جناح کو صدر منتخب نہ کیا) تو پھر خدا بھی رحم نہیں کرے گا‘۔
’ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ مس فاطمہ جناح کو صدر منتخب کر کے موجودہ حکمرانوں کو آئینی طریقے سے اقتدار سے علیحدہ کریں۔ ‘
’موجودہ حالات وکوائف میں اپوزیشن کی طرف سے مس فاطمہ جناح کی جگہ کسی متقی پرہیزگار مرد کو صدارتی امیدوار بنایا جاتا تو یہ گناہ ہوتا‘۔
یاد رہے کہ یہ وہی مولانا ہیں جنہوں نے سنہ 1940 ء میں آزادی ء نسواں کے علم برداروں کے خلاف ’پردہ‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ اس شاہکار کتاب کے چند اقتباس پیش خدمت ہیں۔

’موجودہ حالات وکوائف میں اپوزیشن کی طرف سے مس فاطمہ جناح کی جگہ کسی متقی پرہیزگار مرد کو صدارتی امیدوار بنایا جاتا تو یہ گناہ ہوتا‘۔
صفحہ 97 پررقم طراز ہیں: ’عدل کا تقاضا کیا ہے؟ کیا عدل یہ ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجا آوری کا بھی مطالبہ کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے اور پھر ان تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ اس پر مرد کے برابر ڈال دیا جائے جن کو سنبھالنے کے لیے مرد فطرت کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد رکھا گیا ہے؟ اس سے کہا جائے کہ تو وہ ساری مصیبتیں بھی برداشت کر جو فطرت نے تیرے اوپر ڈالی ہیں اور پھر ہمارے ساتھ آ کر روزی کمانے کی مشقتیں بھی اٹھا، سیاست اور عدالت اور صنعت وحرفت اور تجارت وزراعت اور قیام امن اور مدافعت وطن کی خدمتوں میں بھی برابر کا حصہ لے؟ یہ عدل نہیں، یہ ظلم ہے، مساوات نہیں، صریح نامساوات ہے۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کے ذمے تمدن کے ہلکے اور سبک کام سپرد کیے جائیں اور اس کے سپر د یہ خدمت کی جائے کہ وہ خاندان کی پرورش اور اسکی حفاظت کرے۔عورت پر بیرون خانہ کی ذمہ داریاں ڈالنا ظلم ہے۔‘

صفحہ 98پر لکھا: ’بچہ جننے اور پالنے کی خدمت کا عورت کے سپرد ہونا ایک فیصلہ کن حقیقت ہے۔ ایک صالح تمدن وہی ہو سکتا ہے جو اس فیصلہ کو جوں کا توں قبول کرے۔ پھر عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اسے معاشرت میں عزت کا مرتبہ دے۔ اس کے جائز تمدنی و معاشی حقوق تسلیم کرے، اس پر صرف گھر کی ذمہ داریوں کا بار ڈالے اور بیرون خانہ کی ذمہ داریاں اور خاندان کی قوامیت مرد کے سپرد کر دے۔ جو تمدن اس تقسیم کو مٹانے کی کوشش کرے گا، اس تمدن کی بربادی یقینی ہے۔ ‘

صفحہ 164پر یہ زریں الفاظ موجودہیں: ’جو شخص اسلامی قانون کے مقاصد کو سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ عقل عام بھی رکھتا ہے، اس کے لیے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ عورتوں کو کھلے چہروں کے ساتھ باہر پھرنے کی عام اجازت دینا ان مقاصد کے بالکل خلاف ہے‘۔

اپنے سیاسی مفاد کی خاطر نظریات کی کھلم کھلا تبدیلی پر سہیل وڑائچ صاحب کو موقعہ ملتا تو چلِا اٹھتے: ’مولانا، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟‘

مودودی صاحب کو قائل کیا گیا کہ وہ بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان ریڈیو پاکستان کے ذریعے کریں۔ اپنا سیاسی ستارہ عروج پاتے دیکھ کر جماعت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تبصرے کرنے شروع کر دیے
ستمبر سنہ 1965ء میں فوج کے ’آپریشن جبرالٹر‘ نامی شعبدے کے باعث پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو ایوب خان نے اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو اسلام آباد طلب کیا اور مل کر اس یلغار کا مقابلہ کرنے کا پیغام دیا۔ اس موقعے پر مودودی صاحب کو قائل کیا گیا کہ وہ بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان ریڈیو پاکستان کے ذریعے کریں۔ اپنا سیاسی ستارہ عروج پاتے دیکھ کر جماعت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر تبصرے کرنے شروع کر دیے اور پاکستان کو دیگر اسلامی ممالک سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی تبلیغ کی گئی۔

حسین حقانی کی تازہ ترین کتاب کے مطابق 1965 ء کی جنگ کے بعد امریکی امداد کی واضح کمی کے باعث ملک معاشی بحران کا شکار ہوا اور مشرقی پاکستان میں احساس محرومی حدوں سے بڑھنے لگا۔ مغربی پاکستان میں ترقی کا جو شوشا چھوڑا گیا تھا، اس کا فائدہ گنے چنے خاندانوں نے اٹھایا جبکہ مزدور طبقے اور عام آدمی کی زندگی میں مشکلات کا اضافہ ہی ہوا۔اس کے علاوہ مشرقی پاکستان کے باسیوں کو مسلسل تفریق کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تقسیم کے وقت فوج میں ایک فیصد بنگالی تھے اور 1965 ء تک فوج کا صرف سات فیصد حصہ بنگالیوں پر مشتمل تھا، اسی طرح افسر شاہی میں ایک لاکھ افسروں میں سے صرف ستائیس ہزار کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا، سنہ1970 ء میں مغربی پاکستان کی فی کس آمدن مشرقی پاکستان کے مقابلے میں ساٹھ فیصد زیادہ تھی۔ حالانکہ متحدہ پاکستان کی آبادی کا زیادہ حصہ مشرقی پاکستان میں مقیم تھا اور آمدن بھی زیادہ وہیں سے ہوتی تھی۔

۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے عروج نے جماعت اور اس کی قیادت کو بوکھلا دیا اور ان کی تمام کاوشیں عوامی مقبولیت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے میں صرف ہوئیں۔
معاہدہ تاشقند کے بعد ذوالفقار بھٹو او ر عوامی لیگ نے عوامی جذبات کو حکومت کے خلاف ابھارا البتہ جماعت ڈان قے ہوتے کی طرح اپنے خیالی گھوڑے پر سوار پن چکیوں سے جنگ کرتی رہی۔ جون 1966 ء میں مولانا کی کتاب ’خلافت وملوکیت ‘ منظر عام پر آئی، اس کے علاوہ جماعت نے اپنی زیادہ توجہ ڈاکٹر فضل الرحمن کا نان نفقہ بند کروانے پر رہی۔ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے عروج نے جماعت اور اس کی قیادت کو بوکھلا دیا اور ان کی تمام کاوشیں عوامی مقبولیت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے میں صرف ہوئیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں اور مزدور تحریک کو کچلنے میں اسلامی جمیعت طلبہ نے ریاست کی ’بی ٹیم‘ کا کردار ادا کیا۔ مارچ 1969ء میں ایوب اور سیاسی جماعتوں کے مابین گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے پاکستان میں انتشار کی ذمہ داری اسلامی قوانین کی عدم موجودگی پر ڈالی اور اسلام کو ملک کی وحدت کی ضمانت قرار دیا۔ 25مارچ1969ء کو صدر ایوب نے استعفیٰ دے دیا۔ مودودی صاحب نے اسے گول میز کانفرنس کی کامیابی کہا(شاید وہ روزانہ کے اخبارات دیکھنے کے قائل نہیں تھے) اور بیان دیا کہ اب اسلامی نظام قائم ہونے کی راستے کی سب سے بڑی دیوار ہٹ گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کو مشورہ دیا کہ مظاہرے ختم کر دیے جائیں۔

اس دور میں جماعت کی سیاست پر ڈاکٹر اسرار احمد نے لکھا:"سنہ 1962 ء سے 1970 ء کے دوران جماعت اسلامی نے ایک جانب جمہوریت کے عشق میں انتہا پسندی کا ثبوت دیا کہ نہ صرف خالص سیکولر بلکہ ملحد عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ میں بھی کوئی باک محسوس نہ کی، اور مبالغہ آرائی اس حد تک پہنچ گئی کہ صدر ایوب خان بمقابلہ محترمہ فاطمہ جناح کے باب میں یہ الفاظ تک کہہ دیے: ایک جانب ایک مرد ہے جس میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ وہ مرد ہے، اور دوسری جانب ایک عورت ہے جس میں اس کے سوا کوئی عیب نہیں کہ وہ عورت ہے۔دوسری طرف عوامی توجہ کا مرکز بننے کے لیے دینی اعتبار سے اس درجہ پستی اختیار کر لی گئی کہ ’غلاف کعبہ کی رام لیلا‘ منعقد کرنے میں بھی کوئی حجاب محسوس نہ کیا"

(جاری ہے)

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی: ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ'
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A'ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An'naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Abdul Majeed Abid

Abdul Majeed Abid

Dr. Abdul Majeed is a medical doctor and a teacher by profession. He has a keen interest in History.


Related Articles

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-پہلی قسط

اکتوبر انیس سو پینتالیس میں مولانا مودودی نے اپنی جماعت کے ارکان کو انتخابات میں مسلم لیگ کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا۔ حالانکہ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے ’اسلام خطرے میں ہے‘ کا نعرہ بلند کیا تھا اور پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں اسے مذہبی شخصیات کی آشیر واد حاصل تھی۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-تیسری قسط

عبدالمجید عابد: انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں - چوتھی قسط

عبدالمجید عابد: جماعت اسلامی نے بحیثیت جماعت یا اس کے اکابرین نے بحیثیت افراد اس پر کوئی عملی اقدام تو کجا زبان سے ایک حرف تک نہ نکالا، بلکہ ایک اصولی اسلامی جماعت کی حیثیت سے اپنے دور اول میں اس نے ایسی باتیں کہیں کہ جن سے قادیانیوں کی تکفیر کی براہ راست نہ سہی بالواسطہ ضرور ہمت شکنی ہوتی ہے۔