آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے
ایک عورت کو بس
سانس لینا ہی کافی نہیں
اس کو لازم ہے وہ
کوہساروں کی آواز سنتی ہو
نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو
اسے علم ہو
وہ زن باد شب
جانتی ہو کہ
کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے
کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے
یہ سب
یہ سارا کچھ
اس کو معلوم ہو

اس کو لازم ہو
وہ جانتی ہو
اسے سب خبر ہو
مجھے دیکھو
میں بھی وہی ہوں
زن باد شب
لیکن اس آگ کو
میں نے کیسا چراغوں میں ڈھالا ہے
کس طرح اب میری آواز کی
گونج ان بے کراں وسعتوں میں فضاؤں کی

سنو
میں بھی تم میں سے ہوں
کوئی تم سے الگ تو نہیں
مگر میں زن بادِ شب
نیلگوں آسمانوں کا ایک سلسلہ ہوں
میں اب
سینڈیا کے پہاڑوں کی آواز ہوں
ہاں میں وہی ہوں
وہی۔۔۔۔ وہ زن باد شب
ایک اک سانس میں اپنی جلتی تھی جو
Image: firelei baez


Related Articles

راجا شوی اور کبوتر

مجھے اور میرے بچوں کو بھوکا رکھ کر دھرم نبھانا بے معنی ہے۔پرندوں کو مارکر کھانا میرا بھی دھرم ہے۔سچا دھرم وہی ہے جو دوسروں کے دھرم میں رکاوٹ نہ ڈالے۔

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری

میں نے حیرت کو قتل کیا

میں نے میں نے حیرت کو قتل کیا
اورتحیر کی لاش دریافت ہونے تک میں خود کو محفوظ خیال کر سکتا ہوں
کو قتل کیا
اورتحیر کی لاش دریافت ہونے تک میں خود کو محفوظ خیال کر سکتا ہوں