اب جان کر کیا کرو گے؟

اب جان کر کیا کرو گے؟

سفر میں راستے کب طے ہوئے تھے
فاصلوں کے لاابد پھیلے گھماؤ میں
ازل سے وقت کا چلنا
دلوں کی دھڑکنوں سے مختلف کتنا ہے،
کس لاحاصلی کے جبر میں
بے عمر سانسوں کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے ،
کہاں تم سے ملے تھے،
کون سی منزل پہ ٹھہرے، کس پڑاؤ پر رکے تھے،
کون سے مرکز پہ آ کر
زندگی کی گردشیں تھمنے لگی ہیں،
جان کر اب کیا کرو گے؟

درد کی لَے میں
ہوا صدیوں پرانا گیت گاتی ہے
مسافر بادباں کھلنے لگے ہیں
ہجر سر پر ہے
تمہارے خواب کی کشتی
مِری آنکھوں کے آبی راستوں میں ڈولتی ہے
کن سوالوں کی گرہ مضبوط کرنے میں لگے ہو تم؟
مجھے اس نیند کے تیرہ بہاؤ میں
ذرا سا لمس اپنی روشنی کا دان کر دو گے
تو میں ساری مسافت کی تھکن کو بھول جاؤں گا
سفر میں راستے کب طے ہوئے تھے
جان کر اب کیا کرو گے؟
Image: Duy Huynh

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

بھکارن

نور الہدیٰ شاہ: بس نقلی نوٹ کی سی اک نگاہِ محبت عطا ہو جائے
جو کسی سستے سے ڈھابے پر ہی چل جائے
مرتے عشق کو گدلے پانی کا اک قطرہ مل جائے
مرتے عشق کا حلق بس ذرا سا تَر ہو جائے

عافیت کہاں ہے؟

ستیہ پال آنند:آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا

علی زریون: اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں