آدھا زندہ مجسمہ (ساحر شفیق)

آدھا زندہ مجسمہ (ساحر شفیق)

وہ باتیں جو گاڑی چھوٹنے کی وجہ سے
میں اس سے نہیں کہہ سکا تھا
وہ باتیں
ریل کی سیٹی نے جن کے کانوں میں سوراخ کر دیئے تھے

میں نے اسٹیشن پر بکھری ہوئی الجھنوں اور سوالات کو سمیٹ کر
کوٹ کی جیبوں میں بھرا
ریل ایجاد کرنے والے کو گالی دی
فاصلے کو غصے سے گھورا
-اور- قطار میں کھڑے لوگوں کو دھکیلتا ہوا
باہر نکل آیا

میں نے اسمگلنگ کا سامان بیچنے والے آدمی سے
ایک صندوقچہ خریدا
-اور- اس میں تمام باتوں کو بھر دیا
چوروں کے محلے سے ایک تالا خریدا
اسے صندوقچے کے جبڑوں میں پھنسا دیا

میں کئی دن اس صندوقچے کو اٹھائے پھرتا رہا
میں اُسے پہاڑ
-یا-
کسی عمارت کے اوپر سے گرادیتا
اگر مجھ میں ہمت ہوتی
اسے مطلوبہ اونچائی تک لے جانے کی

آخر رات کی تاریکی میں
گڑھا کھود کر دفنا دیا اسے
شہر کے چوک میں نصب مجسمے کے قدموں میں
یہ باتیں تم مجھے ویسے بھی بتا سکتے تھے
یہ کہہ کر مجسمے نے
جھک کر صندوق میں سے ایک بات نکالنا چاہی
میں نے کلہاڑے سے اس کی گردن اڑا دی

صبح شہر بیدار ہوا تو
دیکھنے والوں نے دیکھا
مجسمے کے کندھوں پہ میرا سر لگا ہوا تھا
Image: Kevin Conor Keller

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

دریا مرتا جاتا ہے

عمران ازفر:
گرتے پڑتے یگ میں تم بھی
شام ڈھلے تک آ جانا کہ اس سے پہلے
چرخہ کاتتے، ریشم بنتے، خواب سجاتے
ہاتھوں میں جب چھید پڑیں تو
بوڑھا دریا کچی مٹی کے پہلو میں
لحظہ لحظہ مرتا جائے

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری

سُنو، زندہ گاوں کی بالیو

سُنو، زندہ گاوں کی بالیو
مرے چاند پانی میں جا گرے