آدمی بیوپار ہے

آدمی بیوپار ہے

آدمی بیوپار ہے
آدمی کا دل بیوپار ہے

آدمی شاپنگ بیگ لیے بازار جاتا ہے
آدمی شاپنگ بیگ میں گھر واپس آجاتا ہے

خالی جیب آوارہ کتے کی طرح بھونکتی ہے

کتے کے جسم پر جیب نہیں
کتے کے سامنے پیالہ ہے

کتا صرف گالی دے سکتا ہے
آدمی نہیں بن سکتا!
جس آدمی کی جیب نہیں ہوتی
اس کے پاس پیالہ ہوتا ہے

آدمی ہو یا کتا
جو روٹی دیتا ہے
وہ مالک ہوتا ہے

جب پیالہ نہیں تھا
میں آزاد تھا
اب پیالہ بھرا ہوا ہے
بیوپار ہو رہا ہے
اب میں پالتو ہوں
Image: Banksy

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

کہانی

توقیر عباس: بھرا شہر اس دن پریشان تھا
چوبداروں کی جاں پر بنی تھی
سپاہی ہراساں تھے
راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا
رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایا جما تھا

سرمد گماں پرستا

سپنا بنا کے سیڑھی
بند آنکھ چڑھ کے اوپر
کھڑکی کیوں کھولتا ہے
سرمد گماں پرستا

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس: تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی