آدمی بیوپار ہے

آدمی بیوپار ہے

آدمی بیوپار ہے
آدمی کا دل بیوپار ہے

آدمی شاپنگ بیگ لیے بازار جاتا ہے
آدمی شاپنگ بیگ میں گھر واپس آجاتا ہے

خالی جیب آوارہ کتے کی طرح بھونکتی ہے

کتے کے جسم پر جیب نہیں
کتے کے سامنے پیالہ ہے

کتا صرف گالی دے سکتا ہے
آدمی نہیں بن سکتا!
جس آدمی کی جیب نہیں ہوتی
اس کے پاس پیالہ ہوتا ہے

آدمی ہو یا کتا
جو روٹی دیتا ہے
وہ مالک ہوتا ہے

جب پیالہ نہیں تھا
میں آزاد تھا
اب پیالہ بھرا ہوا ہے
بیوپار ہو رہا ہے
اب میں پالتو ہوں
Image: Banksy

Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں کبھی پانیوں کی خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان

اب ہمیں کون دفنائے گا؟

مگر نہ جانے کیوں
کچھ چیختی آوازیں
ابھی تک
اس کے تعاقب میں تھیں:
ایدھی بابا !"
اب ہمیں کون دفنائے گا؟

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں