آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے
‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’
ماٹی قتل کریندی یار

آدمی سو رہا ہے
آدمی ٹھنڈی لاشوں کے درمیان سو رہا ہے

آدمی جاگ رہاہے
آدمی مردہ عورت سے ہم بستری کے لیے جاگ رہا ہے

بچہ تصویر بناناکھیل رہا ہے
بچہ آدمی کی تصویر بنا رہا ہے

بچہ فیڈر پی رہا ہے
اور سوچ رہا ہے
میں بڑا ہو کر قاتل بنوں گا

آدمی گا رہا ہے
‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’
ماٹی قتل کریندی یار

آدمی نہا رہا ہے
آدمی نہاتے ہوئے قتل کے منصوبے بنا رہا ہے

نالی میں خون بہہ رہا ہے
آدمی مر رہا ہے
مرا ہو ا آدمی سوچ رہا ہے
آدمی زندہ ہے
آدمی زندہ ہے!
آدمی زندہ ہے؟
آ!
دمی؟
زن
دہ؟؟؟
؟؟؟؟

Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

میں خاموشی سے کیوں زندہ ہوں؟

رات بے چین پھر رہی تھی آنگن میں
اندر کمرے میں

نظم خدا نہیں

نصیر احمد ناصر: نظم خدا نہیں
لیکن ہر جگہ موجود ہے

آسان رستے کا مسافر

حسین عابد: خون کی ہولی کھیلتے
اس کی چمکتی بتیسی میں
مردہ آدمی کے دانت کچکتے رہتے ہیں