ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

سبین محمود
لڑکیوں کے لیے خواب دیکھنا
مشکل ہے، جیسے
گھر کے پچھواڑے میں گلے ملنا
یا
ماں کے کان میں مشورے کرنا
اپنا خدا تراشنے کے بارے میں
اور تمہارے خواب ہر گز ایسے نہیں تھے

تمہارے خواب
نیلے رنگ کی عینک پہنتے تھے
جو سرخ دھبوں کو سبز میں تبدیل کر دیتی ہے

تمہارے خواب فٹ پاتھ کے احترام میں جھک جاتے
فٹ پاتھ پناہ گاہ ہوتا ہے
جن کے انتظار میں کوئی دروازہ نہیں کھلا

تمہارے خواب
تصویریں پینٹ کرتے تھے
جو کسی برسی پر رکھی جا سکیں
یا
کاری قرار دی لڑکی کو
آخری تحفے میں دے کر وداع کیا جائے

اور سبین محمود ایسے خواب دیکھنا ممنوع ہے
اس لیے مار دیئے گئے
اخبار نے خبر چھاپنے سے معذرت کر لی
اور تمہاری موت
ہمیں ایک نظم لکھنے پر آمادہ نہ کر سکی

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا مکر سکیں
اس رات تک

خاتون خانہ

ثروت زہرا: میں اپنی اولاد کے لئے
دودھ کی ایک بوتل
اپنے صاحب کے لئے تسکین
گھر کے لیے مشین
اور اپنے لیے
ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

چاروں جانب اُمڈی تاریکی میں
ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہ وطن ہنسی کی گود نہیں
کسی قاتل کا وحشی بدن ہے