اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟
تھکے لگتے ہو
آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیں
فاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے
اجنبی، کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہو
کون سے دیسوں کے قصے
درد کی خاموش لَے میں گا رہے ہو
دُور سے نزدیک آتے جا رہے ہو
اجنبی آؤ !
کسی اگلے سفر کی رات سے پہلے
ذرا آرام کر لو
پھر سنیں گے داستاں تم سے انوکھی سرزمینوں کی
ہوا میں تیرتے رنگیں مکانوں کی، مکینوں کی
پڑاؤ عمر بھر کا ہے
الاؤ تیز ہونے دو
محبت خیز ہونے دو
شناسا خواہشوں کی خوشبوئیں جلنے لگی ہیں
اجنبیت ۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے !!
Image: Gabriel Isak

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

وہ خوشبو بدن تھی

سوئپنل تیواری: تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی

میری آنکھوں سے دیکھو

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا

نمبر

سلمیٰ جیلانی: ہر طرف اونچے گریڈوں کا شور ہے
انسان کھوگئے ہیں نمبروں کی دوڑ میں