اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

اکیلا علمبردار قہقہاتا ہوا (سعد منیر)

نہیں نہیں
ابھی تو جنگ جاری ہے
ساری فوج تمہاری ہے
پوری دنیا تمہاری حوصلہ سازی ہے
باقی ایک ٹانگ میری بھی باقی ہے
میرے تالو کو زبان لگ جاتی ہے
میرا حلق لنگڑاتا ہوا لفظ نکال لاتا ہے
تم پر خدا کی عنایت ہے
میں رجیم کا شہنشاہ ہوں
تم ستم شاہ گناہ سے ماورا
تمہارا ستم اندھا دھند دھندلاتا ہوا
میری کوکھ میں میرے ادھ مرے بچوں پر
بارشوں کا برسنا لے کر اترا ہے
مگر فکر نہ کر میرے دوست
میری ایک زبان باقی ہے
میری انگلیوں میں کچھ سانس آتی ہے
میں بوڑھی عورتوں کے سینے میں سے
ہمکتی بددعا بن کر چمٹ جاؤں گا
جراثیم تک کی حد تک اتر آؤں گا
کیونکہ میں جیت سے ہار تو گیا ہوں
ہار مگر مانا نہیں ہوں
اسی ضد سے آؤ کرو عہد مجھ سے
ابھی تو جنگ جاری ہے
موت موت ہے اسے مارو گولی
جنگ جنگ ہے
اور جنگ جاری ہے
Image: Fadi Abou Hassan


Related Articles

سراب میں جل پری

حسین عابد: سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا
جو میری آنکھوں، رگوں
روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے

موت کو پڑھنا آسان نہیں

نصیر احمد ناصر: لفظوں اور منظروں کی خود کشی کے بعد
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے

انصاف کی بات کرو بھائی

میں اپنی نظموں کی کلائیاں کاٹ کر
ان میں صمد بانڈ بھر دیتا ہوں
یہ ہواؤں میں سر مار کر لہولہان ہوجاتی ہیں