آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب
چہرے سے چھلکتا ہے،
وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں،
تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی،
گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم،
آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب نہ لا کر اعتراف کرتا ہے
کہ اس کرب ناک 'حال' سے مستقبل کا تختہ بہتر ہے،
میری مستقل مزاجی اور چپ شاید وہی پیلا بلب ثابت ہوئی،
میں مگر اس بڑی سی میز کے پار نہیں تھا،
مشرقی محبت کا یہی رونا ہے،
یہاں کواڑ کھلتے اگر نہیں تو بند بھی نہیں ہوتے
کلوئی (Chloe) اور ڈیفنس (Daphnis) کی محبت اور مشرقی تعلق میں کوئی مماثلت نہیں،
مگر میرے پاس وہ آخری سیلفی Leonardo Da Vinci کے آخری عصرانے (The Last Supper) کی طرح محفوظ رہے گی۔۔۔
Image: Henn Kim


Related Articles

لاہور کا نوحہ

وہ پیڑ، وہ برگد، وہ گھنے سیر کے رستے
منزل سے کہیں بڑھ کے جو تھے خیر کے رستے
اب قافلہ ان کا رہِ مسموم سے نکلے
لاہور کی میت ہے ذرا دھوم سے نکلے

پشتون تحفظ موومنٹ (سلمان حیدر)

تم لوگوں کو قتل کرتے رہے یہاں تک کہ احساس تحفظ تمہاری گولیوں کا نشانہ بن گیا تم نے بے

اسٹریٹ تھیٹر

وجیہہ وارثی: کتیا کے سر پر پتھر مارنے والی کو
دادوتحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
اور پلے اپنی دمیں چھپائے پھرتے ہیں

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*