انار گلے (حمزہ حسن شیخ)

by Hamza Hassan Sheikh | مئی 11, 2019 2:38 شام

اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام تھا یا اسے اس نام سے پکارا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ بچپن سے ہی ، وہ اناروں سے کھیل رہی تھی، اس لیے سب نے سوچا کہ قندھاری اناروں کا سرخ رنگ، چمک دمک اور تازگی اس میں سرایت کر گئی تھی اور اس کی شخصیت بھی اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔ شاید، اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ قندھار سے ہی تعلق رکھتی ہے اور واقعی اس کے والدین نے اس کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے وہاں سے ہجرت کی تھی ۔ اس کا باپ پھلوں کا بیوپاری تھا اور قندھار سے وزیرستان انار درآمد کرتا تھا۔ اگرچہ اس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ یا اس کاروبار کا اجازت نامہ تو نہ تھا مگر ان دنوں کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ اناروں کی بند پیٹیاں قندھار سے خوست لائی جاتیں اور وہاں سے مختلف پہاڑی راستوں سے ان کو وزیرستان سمگل کیا جاتا جہاں راستے میں کوئی سیکیورٹی روکاوٹ نہ تھی۔ یہی ان کا روزگار تھا اور اس کا باپ اس کا کاروبار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ان کے دن بہت خوشحال اور خوش کن تھے۔ زندگی اتنی ہی تروتازہ تھی جتنی ان پیٹیوں میں بند انار۔ کاروبار پھیلنے کے ساتھ ساتھ ، اس کے باپ نے بھی وزیرستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور ان کو ہجرت کر کے یہاں بسنے میں کوئی روکاوٹ پیش نہ آئی۔ علاقہ سارا ایک جیسا تھا، سر سبز و شاداب پہاڑوں سے بھرپور ، اونچے اونچے درخت اور موسم سرما میں جب وہاں پر برف باری ہوتی تو سارے پہاڑ برف سے اٹ جاتے۔ وہ انہی اونچے پہاڑوں پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ گھر کی کوئی دیوار نہ تھی لیکن دو کمروں پر مشتمل گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا جس کے ایک طرف لکڑی کے خالی ڈبے پڑے تھے جن میں انار پیک کر کے ان کو بھیجے جاتے تھے۔

انار گلے کے چہرے پر قندھار کی خوبصورتی چھلکتی تھی۔ وہ کپاس کی طرح نازک تھی۔ اگر اس کی جلد کو چھوا جاتا تو نشان پڑ جاتے ۔ وہ ہمیشہ لمبے لمبے گھاگھرے پہنتی جو مختلف قسم کے سکوں سے سجے ہوتے اور ہر وقت ماحول ان کی جھنکار سے گونجتا رہتا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی، اس نے اپنے اردگرد انار ہی انار پائے۔ وہ ان سے کھیلتی اور رسیلے انار کھاتے کھاتے بڑی ہونے لگی۔ جب وہ سمجھدار ہوئی تو ماں نے اس کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگا لیا اور اب وہ والدین کی مدد کے لیے ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔ زیادہ تر وہ ہی پیٹیاں کھولتی، پھلوں کو پرکھتی ، ان کو معیار کے مطابق تقسیم کرتی اور دوبارہ ان کو پیک کر کے مختلف شہروں کو بھیجا جاتا۔ انار کی جلد اتنی سخت ہوتی کہ یہ لمبے عرصے تک باسی نہ ہو پاتا لیکن کبھی کبھار ذریعہ آمدورفت کی نقل و حرکت اور لمبے فاصلے کے سفر کی وجہ سے یہ خراب یا ضائع ہو جاتے تاہم ان کٹے پھٹے اناروں کا یہ لوگ رسیلا رس نکال کر پینے کے لیے استعمال کرتے۔ انار گلے کے برف کی طرح سفید ہاتھ اب ان اناروں سے رنگ چکے تھے کیونکہ جب بھی وہ ان کو کاٹتی، صاف کرتی تو یہ اس کے ہاتھوں پر نشان چھوڑ جاتے۔

زندگی اپنی موج میں رواں تھی کہ اچانک روس اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ساتھ ہی اناروں کی نقل و حرکت بھی بند ہو گئی۔ اس کے باپ نے ہاتھوں میں بندوق پکڑی اور ایک دن ان کو اکیلا چھوڑ کر روس کے خلاف لڑنے نکل گیا۔ ان کو اسے روکنے کا موقعہ تک نہ ملا اور وہ جہاد کرنے کے لیے پہاڑوں کے پیچھے گم ہو گیا۔ زندگی مشکل ہو گئی اور اس کی ماں نے پیٹ بھرنے کے لیے کوئی اور کام شروع کرنے کا سوچ لیا اور وہ سلائی کڑھائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر چلانے کے لیے کچھ پیسوں کا بندوبست ہو سکے جبکہ وہ اسی مقصد کے لیے دھاگے رنگنے کا کام کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ دوبارہ کئی رنگوں سے رنگ گئے تھے لیکن ان سے اناروں کی خوش کن بو نہیں آتی تھی اور انار گلے باسی انار کی طرح مرجھا گئی تھی۔ وہ اناروں سے ا تنی مانوس ہو چکی تھی کہ کبھی بھی یہ کاروبار نہ چھوڑتی لیکن اب اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔

ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر اس کا باپ واپس نہ آیا اور وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ اس کی کوئی خیر خبر نہ تھی اور نہ ہی دوسری طرف کے تاجر نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ جنگ زوروں پر تھی اور ان کو توپوں کی گھن گرج اپنے گھر میں صاف سنائی دیتی تھی۔ کبھی کبھار تو ان کو سرحد پار سے، پہاڑوں کے پیچھے سے دھواں بھی اٹھتا دکھائی دیتا۔ وہ سرحد کے ساتھ ہی زندگی گزار رہے تھے اس لیے یہ آوازیں ان کو بآسانی سنائی دیتیں۔ کبھی کبھار تو ان کو اپنے قدموں تلے زمین بھی لرزتی محسوس ہوتی اور زوردار دھماکوں کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے بھی بجنے اور لرزنے لگتے۔ یہ بہت خوفناک صورت حال تھی اور اکثر رات کو، ایسا دکھائی دیتا جیسے آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہو۔ شدید فائرنگ اور بمباری سے ان کی رات کی نیند جاتی رہتی اور وہ کئی کئی راتوں سو نہ پاتے۔ کوئی ایسا گھنٹہ نہ تھا جب دوسری جانب کوئی میزائل نہ گرتا۔ کئی بار وہ پہاڑوں پر چڑھتی تو دوسری طرف کا دھندلا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ اگرچہ وہاں سے کئی میلوں کا فاصلہ تھا لیکن شور شرابہ، آگ اور دھواں اس کے منظر کو واضح کر دیتے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بابا کو نہ پا کر مایوس ہو کر نیچے اترتی ۔ ان کے کوئی ہمسائے نہ تھے لیکن کچھ فاصلے پر، مختلف چوٹیوں پر کچھ گھر ضرور تھے اور اکثر گھروں کے سامنے لمبے لمبے صحن یا پھلوں کے باغات تھے۔

ابھی جنگ جاری تھی کہ سرحد پار سے لوگ ان کے گائوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے جن میں سے خاصی تعداد مجاہدین کی بھی تھی کیونکہ ان کے اجسام ہتھیاروں سے سجے تھے اور ان کے لمبے لمبے بال اور لمبی لمبی دڑاھیاں تھیں۔ سرحد کے اس پار لوگوں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کو گاوں کے مہمانوں کے طور پر عزت بخشی گئی اور انہیں خوراک ، رہائش اور تمام سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس کا باپ واپس نہ آیا تھا اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ آگ اور جنگ کی تاریک راہوں میں کھو گیا تھا۔ زندگی اپنی سمت تبدیل کرنے لگی اور جیسے جیسے دن گزرتے چلے گئے۔ کوئی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دن غربت میں بدلنے لگے اور ماضی کے سارے حسین سپنے محو ہو گئے ۔ بوڑھی اور غریب حال ماں نے موت سے پہلے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سہارا چاہتی تھی جس نے ان سنگلاخ چٹانوں میں بغیر کسی کمائی کے ساری زندگی گزارنی تھی۔ اس نے اپنے کچھ رشتہ داروں اور گائوں کے بڑوں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نوجوان سے اس کی شادی کر دی جائے۔ چونکہ وہ اکیلی تھی اس لیے اسے ایک سہارا چاہیے تھا جبکہ سرحد پار سے آنے والا شخص بھی بے گھر اور اکیلا تھا اور اس اجنبی کو بھی یہاں ایک ٹھکانہ چاہیے تھا اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انار گلے کی شادی ایک ازبک لڑکے سے کر دی گئی جو بہت خوبصورت اور نفیس تھا لیکن اس کے لمبے بال اور بے ترتیب دڑاھی اس کو خوفناک بناتی تھی۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے اور وہ دونوں زبانوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے۔ اس کا حسن بے مثال تھا اور وہ ابھی بھی تازہ اور سرخ انار کی طرح تر و تازہ نظر آتی تھی۔ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ نہ کرتا۔ پورے خاندان کے اخراجات ماں بیٹی کی کمائی پر تھے۔ وہ دونوں کام کر کے گھر کے مرد کو بھی پال رہی تھیں۔ دن گزر رہے تھے اور جنگ کے شعلے آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔ ایک دہائی تک لڑنے کے بعد، روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور جنگ میں شکست کھانے کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ گیا۔ ان دنوں مختلف ممالک کے مجاہدین یہاں رہتے تھے اور ان کو دوسرے مجاہدین سرحد پار روس کے خلاف جہاد کے لیے تربیت دیتے تھے۔ انار گلے کا خاوند بھی تربیت دینے والوں میں شامل تھا جو دوبارہ جہاد کرنے نہیں گیا تھا اور یہاں ٹھہر گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے جہاد کے لیے واپس افغانستان چلے گئے جبکہ جنہوں نے یہاں شادیاں کر لی تھیں، وہ ہمیشہ کے لیے یہاں بس گئے ۔ جیسے ہی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور ماحول میں بارود کی بو کم ہونا شروع ہوئی اور مہاجرین کو اپنی جان و مال کا تحفظ محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا۔

انار گلے زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتی ۔ اس کا خاوند ان دنوں بالکل فارغ تھا کیونکہ اکثر مجاہدین یہیں بس گئے تھے۔ پورے علاقے میں امن تھا اور اب بمباری کا شور شرابہ ان کی سماعتوں میں خلل نہ ڈالتا۔ انہی دنوں، انار گلے جڑوں بیٹوں کی ماں بن گئی جو اس کی طرح خوبصورت بالکل سرخ سرخ اناروں کی طرح تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئی جبکہ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گھومتا پھرتا ۔ وقت برقی ٹرین کی سی تیزرفتاری سے رواں تھا کہ ایک دن ایک آدمی ان کے گھر پرانے تاجر کا پیغام لیکر آیا جس کے ساتھ وہ اناروں کا کاروبار کر رہے تھے۔ آنے والے نے اس کے باپ کے بارے میں دریافت کیا لیکن اس کی تو کوئی خبر نہ تھی اس لیے اس کی ماں اس شخص کو ملی۔ انار گلے اس شخص کا پیغام سن کر انار کی طرح کھل اٹھی اور سرخ و تر و تازہ انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکنے لگے۔ وہ دوبارہ یہ کام شروع کرنے پہ رضا مند ہو گئی جبکہ اس کی ماں پریشان و حیران دکھائی دیتی تھی کیونکہ وہ نئے کام میں مصروف ہو چکی تھی لیکن انار گلے یہ کام دوبارہ شروع کرنے پر پرجوش تھی۔ شاید اس کا نام اسے یہ کام کرنے پر اکسا رہا تھا۔ اس نے اپنے خاوند کو راضی کیا اور اس نے بھی وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اس نے اپنے خاوند کو اس کاروبار کے ماضی کی ساری کہانی سنائی ۔ انہوں نے اس آدمی کو اس یقین دہانی کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ ان کے ساتھ کام کریں گے۔ اب سارے راستے اب کھل چکے تھے اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ جلد ہی کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند بھی باقاعدگی سے اس میں شامل ہو گیا۔ انار گلے دوبارہ سرخ اناروں میں گھیر گئی جنہوں نے اسے خوبصورت اور تر وتازہ بنا دیا جیسی وہ بچپن میں تھی۔ اگرچہ جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن ابھی بھی اس کے خاوند کے کندھے پر بندوق جھولتی رہتی جس پر وہ فخر محسوس کرتا اور یہ عمل اسے سکون دیتا جیسے وہ جنگ کا فاتح ہو۔ زندگی پر سکون راہ پر گامزن ہو گئی اور حکومت ان مہاجرین کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی لیکن دنیا کے اس کونے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور لوگ یہاں کے شہری بن کر خوش وخرم ہو گئے۔

کاروبار پھلنے پھولنے لگا اور اس کا خاوند اس کا بازو تھا۔ اکثر لوگوں کے ساتھ بات چیت وہ کرتا جو پھلوں سے بھرے بکس لے کر سرحد پار سے آتے۔ ہمیشہ انارگلے ہی ان کی جانچ پڑتال کرتی اور پھر معیار کے مطابق یہ فروخت کے لیے مختلف تاجروں کے پاس بھیجے جاتے۔ سال گزرے اور اب ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے تھے جو کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے ۔ زندگی اپنی دھن میں رواں دواں تھی کہ سرحد پار ملک پر ایک بار پھر سے حملہ ہو گیا لیکن اس بار حملہ آور مختلف تھا۔ سرحد پار سے ایک بار پھر مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی اور کاروبار دوبارہ ٹھپ ہو گیا۔ اس کا خاوند بھی بندوق لے کر غائب ہو گیا جس طرح برسوں پہلے اس کا باپ ہوا تھا۔ زندگی مفلسی کا شکار ہو گئی اور اسے یقین تھا کہ وہ بھی اس کے باپ کی طرح کبھی واپس نہیں آئے گا جو ان کوہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ لیکن اس کا یہ وہم حقیقت میں نہ بدلا اور اس کی توقعات کے برعکس وہ واپس آ گیا۔ آتے ہی اس نے انار گلے کو بتایا کہ اب وہ کاروبار کی دیکھ بھال کرے گااور اس کے بیٹے اس کی مدد کریں گے۔ اگرچہ اس کا دل کبھی بھی اس کاروبار سے دور رہنے پر تیار نہ تھا لیکن خاوند کی خواہش پر، اس نے خود کو کاروبار سے علیحدہ کر لیا اور گھر کے معاملات میں مصروف ہو گئی۔ جنگ ابھی جاری تھی کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند اس میں مصروف ہو گیا۔ خاوند کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق اس نے کبھی بھی کاروبار میں کوئی مداخلت نہ کی لیکن اب تاجروں کے بجائے زیادہ تر مجاہدین ان کے گھر آتے جاتے اور ماحول میں ان کے قہقہے گونجتے ۔ جنگ کے شعلے کئی زندگیاں نگل رہے تھے اور اس کا خادند نئے مجاہدین کی تربیت میں مصروف رہتا اور ساتھ ساتھ اس نے کاروبار پر بھی اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ گھر میں مہمانوں کی اتنی آمد رہتی کہ اسے کچن سے ہی فرصت نہ ملتی۔ زیادہ تر وقت وہ کھانا پکانے اور دوسرے گھریلو معاملات میں مصروف رہتی کہ اسے اناروں کی خوشبو تک بھول گئی۔ کبھی کبھار تاجر ان کی طرف چکر لگاتا لیکن یہ پہلے والا نہیں تھا جس کے ساتھ وہ کاروبار کر رہی تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے خاوند سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پرانا تاجر اب کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لیے سرحد پار تاجر کو تبدیل کرنا پڑا۔یہ سادہ سا جواب اس کی تسلی کے لیے کافی تھا۔ جنگ کے دوران، کئی لوگوں نے سرحد پار کی اور مختلف پہاڑوں پر بس گئے جبکہ مجاہدین کے گرووں نے بھی سرحد پار جنگ لڑنے کے لیے سرحد عبور کی۔ کئی دفعہ گشتی جیٹ طیارے گائوں کے اوپر چکر لگاتے رہتے۔ اس صورت حال نے انار گلے کا ذہن بالکل تبدیل کر دیا اور وہ زیادہ تر وقت لوگوں کی دیکھ بھال میں لگی رہتی جو ان کے گھر ٹھہرتے یا ان غریبوں کی مدد کرتی جن کو اس کی ضرورت ہوتی ۔ اس کا صاف اور مہربان دل بھی سرخ انار کی طرح ، ہر کسی کی پیاس بجھانا چاہتا تھا۔ لوگوں کی خدمت کرتے کرتے کئی سال بیت گئے اور اس کے بیٹے جوان ہو گئے۔ اب تو وہ اس سے بھی سر نکالنے لگے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور وہ ہمیشہ فخر محسوس کرتی جب وہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے۔ چونکہ گائوں میں کوئی اسکول نہ تھا اس لیے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور انہوں نے بھی باپ کی طرح مجاہد بننے کے لیے مجاہدین کے ٹرئینگ کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ یہ بات ہمیشہ انار گلے کو کھٹکتی اور اس کے باپ کی یاد یں ہمیشہ اسے ستاتیں جو کبھی نہ لوٹا تھا اور اس کی ماں اس کا انتظار کرتے کرتے مر گئی تھی۔ وہ جب بھی اپنے بیٹوں کے کندھوں پر بندوق دیکھتی تو ان کو ڈانٹ دیتی لیکن وہ سب اس بات پر فخر محسوس کرتے جبکہ باپ بھی ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتا۔ اس نے خبر سنی تھی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی مجاہدین کی تربیت جاری تھی۔ مہاجرین نے سرحد کی دوسری جانب پہاڑوں سے اترنا شروع کر دیا تھا لیکن سارے کیمپ ویسے کے ویسے ہی قائم و دائم رہے۔

وہ مجاہدین کی تربیت پر حیران تھی، اسے کبھی سمجھ نہ آئی کہ آج کل وہ کہاں جہاد کر رہے ہیں۔ اس نے خاوند سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ کی طرح جھڑک دی گئی۔ کاروبار ابھی بھی جاری تھا۔ انار گلے مخمصے میں تھی اور کچھ بھی جاننے سے قاصر کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ گھریلو معاملات نے اس کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور اب وہ پہلے والی انار گلے نہ رہی تھی جو کاروباری معاملات میں ماہر تھی۔ اب وہ کچن تک ہی محدود ہو چکی تھی، جیٹ طیارے ایک بار پھر پہاڑوں پر منڈلانے لگے تھے اور اس نے سنا تھا کہ مجاہدین سے لڑنے کے لیے فوج کی پلاٹونوں کا رخ ان پہاڑوں کی طرف ہے۔ اس نے یہ بھی سناکہ یہ مجاہدین سرحد کے اس پار بھی لڑ رہے تھے اور کئی بار انہوں نےعوامی جگہوں پر خود کو اڑایا تھا۔ اس نے ان کہانیوں پر یقین نہ کیا لیکن ایک دن کچھ خواتین اس کو ملنے آئیں اور بتایا کہ ان پہاڑوں سے بہت دور ، بہت سے شہر ہیں اور وہاں پر بسنے والے لوگ اس لڑائی کی وجہ سے زخمی اور مر رہے ہیں اور وہاں لڑنے والوں کو یہی کیمپ ٹرئینگ دے رہے تھے۔ اسے اس صورت حال پر سبکی محسوس ہوئی کہ سب دہشت گردوں کو اس کا خاوند تربیت دے رہا تھا۔ وہ سارا دن اداس رہی اور رات کو اس نے ساری کہانیاں اپنے خاوند کو سنائیں۔ وہ اس کے الفاظ پر متوجہ رہا لیکن اس نے کسی بھی بات کا اقرار نہ کیا۔ جب اس نے حقیقت جاننے کے لیے شور مچایاتو حسب معمول جھڑکیاں ہی اس کا مقدر بنیں۔
ایک دن دوسرے گاوں سے کچھ رشتہ دار اس کو ملنے آئے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند مختلف شہروں میں کئی دھماکوں کا ماسٹر مائند ہے اور حکومت کو مطلوب ہے۔ حکومت نے اسے گرفتار کرنے یا مارنے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے۔ اس خبر نے اس کو لرزا کر رکھ دیا۔ رشتہ دار اس کو بچانا چاہتے تھے، انہوں نے اصرار کیا کہ وہ یہ جگہ چھوڑ دے اور ان کے ساتھ چلے لیکن وہ چیخ پڑی۔ ’’میں یہ جگہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ یہ گھر ہے میرا۔ میں اسے کیسے چھوڑ وں؟ میں نے زندگی اس کے ساتھ گزاری ہے، چاہے وہ غیر ملکی ہے لیکن پھر بھی میرا خاوند ہی ہے۔ میں اپنے بچے کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ وہ میرے بیٹے ہیں اور میں ان کی ماں۔ سب کچھ چھوڑ دینا کیسے ممکن ہے؟ــ‘‘ رشتہ داروں نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سرحد پار پھٹنے والے بم اب اس کے گھر میں گر رہے ہوں۔ وہ شرمندہ سی تھی کہ اس کا خاوند ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہے۔ رات بھر ، وہ سو نہ سکی۔ ہیلی کاپٹر فضا میں گردش کر رہے تھے جبکہ اندھیری رات میں گولیاں برسنے کی آواز گونج رہی تھی لیکن اب ان گولیوں کی آواز کی سمت تبدیل ہو گئی تھی۔ پہلے یہ سرحد کے اس پار مغرب کی سمت سے آتی تھی لیکن اب ملک کے اندر سے مشرق کی جانب سے آ رہی تھی۔ وہ پشمان تھی کہ اپنے خاوند کو بھی نہ پہچان سکی۔ وہ گھر میں تنہا تھی اور اس کا خاوند اور بیٹے ابھی تک کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔ تازہ دستے پہاڑوں سے اتر رہے تھے جو مختلف قسم کی گاڑیوں پر سوار تھے۔ وہ نعرے سن رہی تھی اور اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ خاوند کی آمد کے لیے بے چین تھی کیونکہ اسے اپنے سوالوں کا جواب چاہیے تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس جنگ کے شعلے وہ بچپن میں سرحد پار دیکھا کرتی تھی، وہی شعلے اس کے گھر کی دہلیز پار کر جائیں گے۔ اس کی آنکھیں آنسووں سے تر تھیں، ’’میں نے ایک اجنبی سے شادی کی جو نہ میرے گائوں کا تھا اور نہ ہی میرے قبیلے کا۔ میں نے اپنی زندگی اس کے نام کر دی اور اپنا سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔ اس پر اندھا بھروسہ کیا اور اس نے مجھے اس طرح سے دھوکہ دیا۔ وہ ہزاروں افراد کا قاتل ہے اور اب لوگ میری جانب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ میں نے تو کبھی بھی کسی کے لیے کچھ برا نہیں سوچا اور ہمیشہ اپنے گھر میں مقید رہی، صرف اس کے لیے اور اس نے سب کچھ مجھ سے چھین لیا، یہاں تک کہ میرا کاروبار اور بیٹے بھی۔ اس نے میرے کاروبار کو بھی اپنے وحشی کرتوتوں سے خونی دھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ اس کے اندر ایک جنگ جاری تھی جس کے شعلوں میں وہ جل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند سے عاری تھیں۔ نعرے ابھی بھی گونج رہے تھے لیکن وہ ان سے بے پرواہ تھی۔ وہ خاصی دیر سے چارپائی پر ساکن بیٹھی تھی۔ صبح ہونے والی تھی کہ اس کا خاوند بیٹوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا۔

’’ابھی تک جاگ رہی ہو۔تم سوئی نہیں۔‘‘ اسے جاگتا دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اپنے گھر میں گھسے ایک مجرم کی تفتیش کے لیے۔۔۔۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے بپھر کر بولا۔
’’ہاں، تم ہی میرے گھر میں ایک مجرم ہو۔ مجھے سچ بتائو۔ تم ان دنوں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ چیخی۔
’’تم پاگل ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے سختی سے جواب دیا اور اس کو ایک طرف دھکیل دیا لیکن آج وہ ایک جرات مند انار گلے تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ساکن رہی اور اس کی ٹھوکر اسے نہ گرا سکی۔
’’میرے سوال کا جواب دو۔ تم آج کل کون سا کاروبار کر رہے ہو؟‘‘
’’وہی جو تم نے شروع کیا تھا۔۔۔‘‘ اس نے اعتماد سے جواب دیا۔
’’نہیں تم جھوٹے ہو۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اناروں کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔
’’کیونکہ تم پاگل ہو چکی ہو۔۔۔‘‘ اس نے اسے نفرت سے دیکھا۔
’’تم ایک قاتل اور مجرم ہو۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ وہ دوبارہ چیخی لیکن اس کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔

’’چپ شہ او بکواس ماکوہ۔ (چپ کرو اور بکواس بند کرو)۔‘‘ وہ غصے سے دھاڑا، اس کو ایک طرف دھکیلا اور اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔ بچے سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کوئی بھی ماں کا سہارا نہ بنا اور ماں بیچاری وہیں پڑی، خاصی دیر روتی رہی۔ بچے اپنے کندھوں پر بندوقوں کی وجہ سے فخر محسوس کرتے تھے اور باپ ان کے لیے مثالی اور پسندیدہ شخصیت تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت باپ کے ساتھ گزرتا جبکہ ماں کو انہوں نے زیادہ تر گھریلو کاموں میں ہی مصروف پایا تھا۔ وہ کبھی بھی یہ زندگی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے مثالی تھی اور لوگ ان کو مجاہد جان کر ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔

انار گلے نے زندگی میں پہلی بار خود کو اکیلا محسوس کیا تھا۔ پہلے وہ اس وقت مرجھا گئی تھی جب اس نے اپنا باپ کھویا تھا اور اب وہ اپنا سب کچھ، اپنے ہی گھر میں کھو چکی تھی، جب وہ اپنے خاندان کی زندگیاں بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے اپنے دل میں عہد کر لیا، ’’میں بھی پٹھانی ہوں اور اس راز سے ضرور پردہ اٹھائوں گی۔‘‘ دوسرے دن سورج کی کرنوں سے پہلے ہی آپریشن کی خبر گاوں میں پھیلی اور جب انار گلے کی آنکھ کھلی تو گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اپنے خاوند اور بیٹوں کے کمرے چیک کرنے لگی لیکن وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ وہ اسٹور روم گئی تو وہاں اسٹور کے باہر لکڑی کے خالی ڈبے اور کچھ گلے سڑے انار بھی پڑے تھے جبکہ اسٹور کو تالا پڑا تھا۔ زندگی میں پہلی بار، اس کو اسٹور روم بند ملا۔ یہ اس کو چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو باہر ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ اس نے وہ پتھر اٹھایا، باربار قفل پر ضربیں لگائیں اور آخرکار قفل ٹوٹ گیا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اسٹور روم میں گہرا اندھیرا تھا۔ وہ واپس گھر کی جانب آئی، ایک لالٹین اٹھائی اور دوبارہ اسٹور روم میں جھانکا۔ اسٹور روم لکڑی کے ڈبوں سے پر تھا جو اوپر نیچے ایک ترتیب میں رکھے تھے۔ زمین پر کچھ گلے سڑے انار بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک کونے میں ، اناروں کا ڈھیر لگا تھا۔ اس نے ان کو اٹھایا تو اسے محسوس ہوا کہ یہ پلاسٹک کے تھے اور کھلونے انار تھے۔ اس نے لالٹین کی لو ُ اونچی کی اور زمین پر پڑے ایک ڈبے کو اپنی جانب گھسیٹا۔ آدھی سے زیادہ زندگی، اس نے ایسے ڈبوں کو گھسیٹا تھا لیکن یہ اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کو ہلا بھی نہ سکی۔ اس نے ہاتھ ڈبے میں ڈالا تو ایک انار سے ٹکرایا اور پہلی بار خوشی کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی اور اسے خاوند کو برا بھلا کہنے پہ خود پر غصہ آیا۔ اس نے اسے لالٹین کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کا حلیہ واضح نہ تھا۔ وہ اسے باہر روشنی میں لے گئی اور جیسے ہی وہ دروازے میں پہنچی ۔ وہ کانپ اٹھی اور انار اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ یہ تھا تو بالکل انار کی طرح لیکن حقیقت میں، یہ انار نہ تھا۔ یہ لوہے کا انار تھا جس کے سر پر ایک پن لگی تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رہ گئی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے سارے انار، جو اس نے اپنی زندگی میں چھوئے تھے، اس کے سر پر گرنا شروع ہو گئے ہوں۔ اس نے پورے کمرے میں روشنی پھیر کر دیکھی تو سارے ڈبے ان سے بھرے تھے جبکہ کچھ ڈبوں میں کچھ اور ہتھیار بھی تھے۔ دیوار پر جیکٹیں بھی لٹکی ہوئی تھیں جو انہی اناروں سے بنی ہوئی تھیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بچپن کے سارے رسیلے انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکے۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس صحن میں آئی تو اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ کس طرح اس کی معصومیت سے کھیلا گیا تھا، اسے اس پر یقین نہ آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس بڑے سے کمرے میں چھپ کے بیٹھی تھی جو گھنے درختوں کے پیچھے تھا۔ آج ہیلی کاپٹر بہت نیچی پرواز کے ساتھ گائوں پر چکر کاٹ رہے تھے اور توپوں اور مارٹر گولوں کی آواز بہت قریب سے آ رہی تھی۔ جنگ ان کی دہلیز پر دستک دی چکی تھی۔ لیکن وہ بالکل ساکن تھی۔ باہر انتہا کا شور تھا، چونکہ گھر کا کوئی دروازہ یا دیواریں نہ تھیں۔ اس لیے آنے والے لوگوں نے اونچی آواز میں پردہ کرنے کو بولا۔ اس نے اپنا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں کر لیا اور لوگ ایک چارپائی کے ساتھ اس کے صحن میں آن کھڑے ہوئے۔ یہ اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ گائوں کے باہر جنگ جاری ہے اور اس کا خاوند اور بیٹے ادھر ہی لڑ رہے ہیں۔ وہ اس منظر پر چیخ اٹھی لیکن کوئی بھی اس کے غم میں شریک ہونے والا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور ایک بار پھر اپنے دل میں پشیمانی محسوس کی۔ ابھی وہ بیٹے کی لاش سجا رہی تھی کہ باقی دو بیٹوں کی لاشیں بھی اس کے سامنے رکھ دی گئیں۔ اس نے خون میں لت پت اپنے جگر گوشوں کو دیکھا اور بچپن کی یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں۔جب وہ اونچے پہاڑوں کی دوسری جانب سرحد پار دھواں دیکھتی تھی جو اسے کسی فلم کی طرح محسوس ہوتے۔ اسی جنگ نے اس کے سارے خاندان اور زندگی کو نگل لیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے لیکن وہ بالکل ساکن اور خاموش تھی، نہ کوئی سسکی نہ بین، نہ کوئی چیخ اور نہ کوئی ماتم۔ اس نے ساری لاشوں کو صحن میں چھوڑا اور دوبارہ اسٹور روم میں گئی ۔ زندگی میں پہلی بار، اس نے اپنے گھر کی دہلیز کے باہر قد م رکھا۔ اس کے قدم گائوں سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے جہاں پر جنگ لڑی جا رہی تھی۔ اس نے اپنا جسم اور چہرہ پردے میں چھپایا ہوا تھا۔ وہ برستی آگ اور دھوائیں کے قریب پہنچی تو ایک شخص سے اپنے خاوند کے بارے میں پوچھا۔ اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اس کو گھر جانے کی ہدایت کی کیونکہ پورے علاقے میں کسی عورت کو یوں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ ہر سو گرد اور دھواں تھا اور وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ تھی۔ اس نے اس شخص کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور آگے کی سمت بڑھی۔ اس نے ایک بڑے درخت کے پیچھے پناہ لی اور گہرے دھوئیں اور گرد میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ بچپن کا وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا لیکن اب یہ منظر بہت قریب آگیا تھا۔ ابھی وہ کوئی مناسب پناہ ڈھونڈ رہی تھی کہ اس نے اپنے زخمی خاوند کو میدان جنگ سے بھاگتے دیکھا جس کا رخ اب گھر کی جانب تھا۔ اس نے اس کا تعاقب کیا اور گائوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیا۔ وہ اناروں کی بنی جیکٹ پہنے ہوئے تھی جبکہ ایک اناراس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کا خاوند اسے اس حلیے میں دیکھ کر کانپ گیا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے انار اپنے دانتوں سے کاٹا جیسا کہ وہ بچپن میں، رسیلے دانوں کا رس چوسنے کے لیے انار کا چھلکا اتارتی تھی۔ انار ایک دھماکے سے پھٹا اور ساتھ میں جیکٹ میں پروئے ہوئے انار بھی پھٹنے لگے اور وہ بھی انار کے رسیلے دانوں کی طرح تقسیم ہو کر بکھر گئی۔

Source URL: http://www.laaltain.com/anar-gullay/