آرکی ٹائپل کُڈھب کردار (فارحہ ارشد)

آرکی ٹائپل کُڈھب کردار (فارحہ ارشد)

قبر نے اس کی انگلی تھامی اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔

وہ جو چہچہا رہی تھی۔ ہموار زمین پر قدم مضبوطی سے جمائے قلانچیں بھرتی، دلچسپی سے ہر چیز کو تک رہی تھی۔ اس کے بائیں طرف چلتے مکرو ہ گدھ کی کھوپڑی والے کی رال بہہ کر اس کی ٹانگوں سے چپک گئی تھی۔

تمہاری زندگی تمہاری آئسکریم سے زیادہ تیزی سے پگھل رہی ہے۔ قبر نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا

بس ایک لمحے کو جھٹکا لگا تھا۔ کسی انہونی کا احساس ہونے سے پہلے وہ لمحہ شروع ہو چکا تھا۔ صرف ایک لمحہ جو بہت طویل تھا۔ اور جو کئی دن اور راتیں نگل گیا تھا۔

بستی والے اسے ڈھونڈتے تھے اور وہ لہو میں تر ایڑیوں والی دو ٹانگوں کے درمیان اگنے والے ببول کے کانٹوں کے درد سے نڈھال پانی مانگتی تھی۔ آنکھوں کا پانی زبان پر لگتا رہا اور اس کا منہ چھالوں سے اٹ گیا۔ چھالوں بھری زبان تالو سے جا لگی اورچیخ کہیں پیچھے ہی گھٹ گئی۔

چیخ کو رستہ اس وقت ملا جب اس کا مسلا کچلا بدن کوڑے کے ڈھیر پر پڑا ایک کوڑے کا انبار رہ گیا۔ چیخ ننگے پاؤں بھاگ رہی تھی زمین سے آسمان تک۔
مسلے کچلے بدن کی مٹی پناہ چاہنے لگی تو قبر نے اپنے ہاتھ سے چھوٹی انگلی دوبارہ تھامی اور اس کے ساتھ میدان کی طرف چل دی۔
میدان خاموش تھا۔ سیاہ بادلوں سے ڈھکا آسمان منظر کو اور زیادہ ہیبت ناک بنا رہا تھا۔

بے رنگ چہروں والے کدال اٹھائےاپنے اپنےگڑھے کھودنے کی کوشش میں ہانپ رہے تھے۔ ان کی بینائی جانے کب کی رزق خاک ہوچکی تھی اور جیبھ کسی ذائقے کو یاد کرنے کے لیے دماغی بافتوں کے بٹوے کھنگالتی زمین پر لپیٹے کھا رہی تھی۔ جانے کتنی زبانیں اب تک مٹ چکی تھیں مگر ذائقہ تھا کہ یاد ہی نہ پڑتا۔ سیاہ جبڑوں سے لیس دار پیپ بہہ رہی تھی۔ جس کی بدبو نے پوری زمین کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

زنجیریں جابجا بکھری تھیں اور ان کے پاؤں غائب تھے۔ دھڑ ہواؤں میں معلق اور ہاتھ کدال کے دستوں سے چپک گئے تھے۔ وہ اپنے جسموں کی بدصورتی کو چھپانے کے لیے جلد سے جلد گڑھوں میں اترنا چاہ رہے تھے۔ ان کی لاشیں کھانے کو تو گدھ بھی ناپید تھے۔ عرصہ ہوا ان کی کھوپڑیاں ان بے رنگ چہروں کے سروں پر میخوں سے گاڑ دی گئی تھیں۔

زمین کی سنگلاخ چٹانیں اپنا منہ کھولنے کو تیار نہ تھیں۔ اور وہ ہانپتے ہوئے آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جا رہے تھے کہ ان کی اپنی ہی کھوپڑیاں جانے کب سے انہیں اندر ہی اندر اپنے پنجوں سے نوچے چٹ کر تی جا رہی تھیں۔ ان کے ڈھانچے ایک ڈھیر کی شکل میں گرتےاور دیکھتے ہی دیکھتے نیست و نابود ہوجاتے۔

چھیتھڑے اوڑھےایک بوڑھا، جوان اور بچے کے ساتھ زمین کی کگار پر کھڑا چاروں طرف دیکھ رہا تھا
" یہ پانی، پودے، جنگل، چرند پرند، ہوائیں ان کا احترام ان پرواجب تھا مگر وہ نسیان کے مارے بھول گئے۔" بوڑھا مایوس تھا
"جنگل، چرند پرند کیا وہ تو اپنے جیسے دوسرے انسان کا احترام بھول چکے ہیں۔" جوان اداسی سے بولا تھا
وہ خود کو بھول گئے تو پھر باقی سب کیا؟ بچہ بیزاری سے کہہ رہا تھا

" جب بلاسٹ میں مجھے مارا گیا تو میں وہاں موجود نہ تھی " پاس سے گذرتی ایک قبر دوسری سے کہہ رہی تھی
دوسری قبر جس کے ہاتھ میں سبز اور سرخ رنگ کےامتزاج کا جھنڈا تھا، بہت جلدی میں تھی اور اس کی بات پر دھیان دئیے بغیر تیز تیز چل رہی تھی۔
دور کہیں ہابیل خون میں لت پت پڑا ہے۔ کوا زمین پر اپنی نوکیلی چونچیں مار رہا ہےاور قابیل گدھ کی کھوپڑی پہنے کدال سے گڑھا کھود تا نیست و نابود ہو تا جا رہا ہے۔

زہر کے پیالوں کی گردش اور لقوہ مارتی بے چہرگی کے فنا و بقا کے قصوں نے اساطیری جہانوں کا ڈھونگ رچا لیا ہے
تین پانچ اور سات کے جھگڑے والوں نے شہر افسس میں قطمیر کی بغل میں پانچ عورتوں کو اندھے غار میں سلا دیا ہے
رام کی عورت سے اگنی پرکشا لینے والے آگ کو سچا مان رہے ہیں

خدا ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان معلق کر دیا گیا ہے اور خدا کی گواہی دینے والا خدا کی گواہی ماننے سے انکاری ہے۔ سو وہ خاموش ہے۔
نسلوں لمبی زنجیر لمحہ گذراں کی لغویت سےلپٹی پڑی ہے

جبریہ اضطرار تشنج کی طرح گھڑیال کی سوئیوں پر طاری ہے اور وقت اپنے مدار سے باہر کسی بلیک ہول میں جا گرا ہے
طوق کی مسلسل پکڑ اوراس پر پڑتی کھینچ اور رگڑ سے زمین کے گلے کا ناسور رس رس کر اسے سنگلاخ چٹان بنا چکا ہے۔
قبر کو اپنا ٹھکانہ بدلنا ہے۔ وہ اس کی انگلی پکڑےآسمانوں کی طرف اڑان بھرنے کو تیار ہے جہاں ایک اور زمین انہیں پناہ دینے کے لیے صدیوں سے ان کا انتظار کر رہی ہے۔

ایک اور پہلی قبر کسی اور زمین پر۔
وہ اس کی انگلی تھامے کئی صدیوں کے بعد آسمانوں میں تیرتی وہاں پہنچی تو اسے اسی بدبو کے بھبھکے اس فضا میں محسوس ہوئے جو وہ نیچے چھوڑ آئی تھی وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی۔ کہیں وہ غلط تو نہیں آگئی۔۔۔
مگر نہیں یہی تو ایک ٹھکانہ باقی بچا تھا۔
وہ آگے بڑھی۔

ایک بہت بڑا تخت سجا تھا اور اس پر بادشاہ ازلی رعب و دبدبے اور جاہ و جلال سے بیٹھا پودوں، جنگلوں کے درختوں کو کٹوانے کا حکم کچھ مضبوط اور قوی الجثہ درختوں کو دے رہا تھا۔ جو سر نیہوڑائے اس کا حکم بجالانے کے بعد ہر طرف تہس نہس مچانے کو جت چکے تھے۔ اس نے دیکھا ان درختوں کی شاخوں پر گدھوں کی کھوپڑیوں جیسے پھل لٹک رہے تھے۔ کچھ لہولہان طیور بادشاہ کے قدموں میں پڑے جاں بلب تڑپ رہے تھے۔
" مگر آپ کا تو انتقال ہوچکا'' قبر اضطراب کے عالم میں مڑی اور دہشت زدہ سے لہجے میں بادشاہ سے گویا ہوئی۔
ہاں بادشاہ کا انتقال ہوچکا اور میں اس کی قبر ہوں۔۔۔۔
Image: Anna Vassilou

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ایک فاتح کی موت

وقت اس کی رفتار کا ساتھ دینے کی کوشش میں ہانپ چکا تھا۔ وہ خود نہیں جانتا تھا کے اپنی زندگی کے لیے بھاگ رہا ہے یا آزادی کے لیے، وجہ کچھ بھی سہی مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔

The Madness of Readymade Letters[i]

Dr. Javed Jalees, a psychiatrist, has put me to a really difficult test. It is a test of my skill to write,

مفتی

جیم عباسی: مفتی صاحب کی شادی کی خواہش ابھی بھی برقرار تھی۔ بلکہ جوان ہوتی جارہی تھی۔ جب بھی لڑکے بالے ان کے ساتھ بیٹھ کر تفریحاً ان کی شادی یا کسی رشتے کا تذکرہ چھیڑتے مفتی یاصاحب کی آنکھیں دمکنے لگتیں اور بیٹھے ہشاش بشاش ہوجاتے۔