اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو
کہ رات معمول سےطویل ہو گئی ہے
اور سورج طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہا
تو تم صبح کی واک
ملتوی کر دینا
اور پورچ کی گُل کی ہوئی بتیاں
پھر سے روشن کر دینا

اور جب تم دیکھو
کہ ہوا ہموار راستوں پر
چلنے سے گھبرانے لگی ہے
اور پہاڑ راتوں رات
اپنی جگہ بدل رہے ہیں
اور درخت جنگلوں سے بھاگ کر
سڑکوں کی اطراف میں پناہ لے رہے ہیں
تو تم کسی بھی وقت
کسی بھی سمت روانہ ہونے کے لیے
سفر کی پوٹلی تیار رکھنا

اور جب تم دیکھو
کہ بچے تمہاری باتوں سے بور ہونے لگے ہیں
اور تمہارا علم اور تجربہ
ان کے لیے بےکار ہوتا جا رہا ہے
تو تم ان کے درمیان سے اٹھ جانا
اور پرانی پڑھی ہوئی کتابیں
پھر سے پڑھنے لگ جانا

اور جب تم دیکھو
کہ سچ کا پکوان چکھتے ہوئے
دستر خوان پر خاموشی چھا جاتی ہے
اور جھوٹ کا ذائقہ
سب کو اچھا لگنے لگا ہے
تو تم انگلیاں چاٹنے سے گریز کرنا
مبادا تمہاری شناخت کے نشان معدوم ہو جائیں
اور بائیو میٹرک تصدیق نہ ہو سکنے پر
تم اپنے ہی ملک میں اجنبی قرار دے دیے جاؤ

اور جب تم دیکھو
کہ زندگی میں محبت کم
اور کھانے پینے کی چیزیں وافر ہو گئی ہیں
تو تم اپنے کتابوں سے بھرے کمرے میں
عین کھڑکی کے سامنے
بستر پر نیم دراز ہو کر
منع کیا گیا مشروب پیتے،
موسیقی سنتے
اور دل ہی دل میں
نہ لکھی جا سکتے والی نظمیں دہراتے ہوئے
ایک آرام دہ موت کا انتظار کرنا
سنا ہے وہ اپنے سچے طالب کو
کبھی دغا نہیں دیتی!
Image: Aleister Crowley

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

ادریس بابر: کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بےہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں

بندہ بھائی کا منٹو

بندہ بھائی!
ایسا کتنی دیر چلے گا؟
ہر بے حد کی حد ہوتی ہے
دیکھنا اک دن آ جائے گا
پیپرویٹ کے نیچے رکھے دستاویزی مے خانوں سے
باہر کی دنیا کے من میں پیر رکھے گا

محبت کے بغیر کون جیتا ہے

عذرا عباس: ابھی وہ میرے دل میں تھی
وہ تمہارے دل میں بھی تھی
اور تمہارے بھی
ڈھونڈو میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
محبت کے بغیر کون جیتا ہے

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*