Posts From آج

Back to homepage
آج

آج

سہ ماہی "آج" کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔

خواب (عبدالسلام العجیلی)

تحریر: عبدالسلام العُجیلی (Abdel Salam al-Ujaili) انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد ویس نے خواب میں خود کو نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں تھی، کہ وہ تو بیداری کی حالت میں بھی باقاعدگی سے عبادت

Read More

شانتا راما باب 5: حمال یا ہیرو (ترجمہ: فروا شفقت)

اُس تختی پر نیچے انگریزی حروف میں صاف صاف لکھا تھا۔(NO ADMISSION WITHOUT PERMISSION) میں نے سوچا،شاید اس کمپنی میں ایک دم کسی انگریز کی کچہری جیسا نظم وضبط ہو گا۔چاروں طرف نظر دوڑائی۔اجازت لیں بھی،تو کس سے؟وہاں تو کوئی

Read More

باجے والے گلی - قسط 9 (راجکمار کیسوانی)

جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی

Read More

شانتا راما باب 4: بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے (ترجمہ: فروا شفقت)

دوسرے ہی دن میں پرائیویٹ ہائی سکول کے پرنسپل وبھوتے کے دفتر پہنچ گیا۔ انھوں نے پوچھا، ’’کیوں رے، اتنے دن کہاں تھا؟ ہیں ؟‘‘ سنتے ہی مجھے رونا آ گیا۔ انھوں نے کہا، ’’اچھا اچھا، کوئی بات نہیں۔ رؤ

Read More

شانتا راما باب 3: گھنگھریالے بالوں کی بغاوت (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتارام، اٹھاؤ اپنا سامان۔ تمھیں تمھارے رہنے کی جگہ دکھاتا ہوں۔‘‘ گنپت راؤ ٹینبے کا وہ حکم سن کر میں ہوش میں آیا۔ میں گندھرو ناٹک منڈلی کی رہائش گاہ پر گنپت راؤ جی کے کمرے میں کھڑا تھا۔ باپو

Read More

قسطوں میں حیات (محمد برّادا)

تحریر: محمد برّادا (Mohammed Barrada) انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم دیر سے جاگے اور بستر میں پڑے پڑے جماہیاں لیتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہڈیوں کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا۔ یہ نظر آ رہا تھا

Read More

باجے والی گلی - قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے

Read More

شانتا راما - باب 2: جوا (ترجمہ: فروا شفقت)

کولھاپور کے مہالکشمی مندر کے احاطے میں میرا جیون بڑھتا پھولتا جا رہا تھا۔ مندر میں ایک بڑی سی گھنٹی لگی تھی۔ اس کے گھن گھن کٹوروں سے کولھاپور ہر روز جاگتا تھا۔ اس گھنٹے کی آواز کی تھوڑی ہی

Read More

باجے والی گلی - قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار،

Read More

شانتا راما - باب 1: ہتھیلی بھر دہی (ترجمہ: فروا شفقت)

میں چار یا پانچ سال کا بچہ تھا، شاید تب کی بات ہے۔ ہم لوگ کولھاپور سے کہیں دور گاؤں میں رہتے تھے۔ میں، دادا (مجھ سے بڑا بھائی)، ماں اور باپو، ڈیڑھ سال کا چھوٹا بھائی کیشو۔ میں اور

Read More

باجے والی گلی - قسط 6 (راج کمار کیسوانی)

اں کے مقابلے پتاجی ذرا سخت جان اور جنگجو انسان تھے۔ ان کے قد کاٹھی سے ان کا کردار قطعی میل نہ کھاتا تھا۔ نئے شہر میں آتے ہی پاؤں جمانے کی کوشش میں جی جان سے جٹ گئے۔ شروعات

Read More

باجے والی گلی - قسط 5 (راج کمار کیسوانی)

جب ساری پوجا پاٹھ کے بعد ماں اٹھنے لگتی تو میں کہتا، “ارے امّاں! تو نے بھگوان کے بال تو بنائے ہی نہیں۔” ماں گال پر ہلکی سی چپت لگاتی اور مسکراتے ہوے کہتی، “بھگوان تیری طرح گھڑی گھڑی اپنے

Read More

ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

تحریر: محمود دیاب (Mahmoud Diab) انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو خیر ممکن ہی نہیں کہ یہ خیال مجھے وقت کے وقت سوجھ گیا ہو، کہ میں تو سدا سے ایک ذاتی مکان کا خواب دیکھا کرتا تھا۔

Read More

باجے والی گلی - قسط 4 (راج کمار کیسوانی)

سرکار کے پُنرواس وبھاگ [بحالی کے محکمے] کے پاس ان لوگوں کو بسانے کے لیے یا تو خالی پڑی نوابی عمارتیں تھیں یا پھر بٹوارے کے بعد گھر چھوڑ کر پاکستان جا چکے مسلمانوں کے گھر تھے۔ یوں تو زیادہ

Read More

باجے والی گلی - قسط 3 (راج کمار کیسوانی)

آخر ایک دن وہ بھی آیا که ہندوستان سے لٹے پٹے مسلمانوں کو لے کر نکلی ٹرینوں کو پنجاب میں لگاتار بگڑتے حالات کے مدِنظر لاہور کے بجاے کراچی کی طرف موڑ دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بدحالی اور بدحواسی

Read More