Posts From Asad Raza

Back to homepage
Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.

پھر وہی کہانی

اسد رضا: مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی تھی اور خودکشی کچھ انہی کو زیب دیتی تھی۔ ہر موت کے بعد چند لمحوں کے لئے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے موت نے سبھی دیکھنے والوں کو سونگھ لیا ہے۔ موت کی یہ سنسناہٹ ہی دراصل میری کامیابی کی وجہ تھی۔ میری یہ ویب سائیٹ اس وقت ہر محفل کا موضوع بنی ہوئی تھی۔
Read More

لکن میٹی

اسد رضا:برگد کے درخت کے نیچے سے سائیکل اٹھاتے وقت مجھے ایک فکر نے آن گھیرا۔ مجھے رہ رہ کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ کوئی خط میز کے اوپر چھوڑ آیا ہوں۔ کیا “میں آج تمام خط پہنچا پاوں گا میں نے خود سے سوال کیا”۔ ہوا میرے اندر رقص کر رہی تھی بیگ میں موجود تمام خط پھڑپھڑا رہے تھے۔
Read More

کرلاہٹ

اسد رضا: مجھے ہر طرف بالوں کی لٹ نظر آنے لگی۔ کھانا بناتے ہوئے وہ ہنڈیا کے بیچ میں تیر رہی تھی۔، کتابوں کے اندر، کمرے کی دیواروں سے گھورتی ہوئے، میری چھاتیوں اور رانوں سے لپٹی ہوئی وہ ایک لٹ۔
Read More

فیصلہ

اسد رضا: میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔
Read More

فنِ گزشتگان

اسد رضا: ایک بات کا خاص طور پر خیال رکھنا کہ خنجر ، چاقویا کوئی بھی اوزار چلاتے وقت تمہارا ہاتھ زخمی نہ ہو۔ اگر تمہارے خون کا ایک بھی قطرہ لاش پر گر گیا تو تمہاری نسلوں میں یہ فن ختم ہو جائے گا اور تم صرف کمہار پیدا کر سکو گے”۔
Read More

سوال

اسد رضا: اب مجھے یاد آرہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔
Read More

جہنم

اسد رضا: ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔
Read More

کتھا کالے رنگ کی

ایک دوسرا انکشاف جو اُس پر ہوا ہو یہ تھا کہ لڑائی کے دوران ہی مخلف گروپوں کے تما شائیوں کے ایک گروہ سے ایک لڑکا اور دوسرے گروہ سے ایک لڑکی اس جنگلے سے اوپر اُٹھ کر ایک دوسرے کا بوسہ لیتے اور پھر واپس نیچے جُھک کر نعرے لگانے لگتے
Read More