Posts From Azra Abbas

Back to homepage
Azra Abbas

Azra Abbas

میرا سایہ

عذرا عباس: لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

Read More

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

عذرا عباس: وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟

Read More

زمانہ اپنی سختیوں کے ساتھ کھڑا ہے

عذرا عباس: وہ بھوکے پیٹ سہم جائیں گے
پہلے ایک دوسرے کا منہ تکیں گے
پھر اپنی اپنی کھڑکیاں بند کر لیں گے

Read More

نفرت بھیانک خواب کی طرح ہماری نیندوں میں آتی ہے

عذرا عباس: آنکھ کھولنے اور بند ہونے کے دورانیے میں
جو دیکھا تو صرف نفرت کو پنپتے ہوئے
نفرت جو ایک بھیانک خواب کی طرح روزہماری نیندوں میں آتی ہے

Read More

زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے

عذرا عباس: فسا د کے پھیلاؤ میں
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے
پاؤں کے نیچے آ جانے والے پتے

Read More

دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

عذرا عباس: یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا

Read More

تمھاری تجارت چلتی رہے

عذرا عباس: ہم نہیں جانتے
ہمارے خواب کب چھین لئے جاتے ہیں
ہم منہ بولی اخلاقیات کے بچھونے میں
منہ چھپا کر سونے کے عادی بنا دئے گئے

Read More

ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

عذرا عباس: وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
Read More

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس: تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
Read More

ایک باپ کے آنسو

عذرا عباس: ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے
Read More

وقت کے کینوس پر ہماری تصویریں

عذرا عباس: وقت کا کیا ہے
وہ تو چلتا بنے گا
لیکن ہم اپنے چہرے کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے
Read More

آؤ گِنیں کتنے مارے گئے

عذرا عباس: آؤ ہاتھ اُٹھا کر دعا کریں
ان کے لئےجنت میں جگہ خالی رہے
Read More

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

عذرا عباس: ظلم کے منہ کو خون لگا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے
Read More

ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں

عذرا عباس: ہمارے ہاتھ ایک بار پھر گھاس کاٹنے پر لگا دئیے گئے
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمیں پھر جوتا جائے گا مال بردار گدھوں کے ساتھ
ہمارا خون چوسنے کے لئے
Read More

محبت کے بغیر کون جیتا ہے

عذرا عباس: ابھی وہ میرے دل میں تھی
وہ تمہارے دل میں بھی تھی
اور تمہارے بھی
ڈھونڈو میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
محبت کے بغیر کون جیتا ہے
Read More