Posts From Khalid Javed

Back to homepage
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi

نعمت خانہ - اٹھائیسویں قسط

خالد جاوید: اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔

Read More

نعمت خانہ - ستائیسویں قسط

خالد جاوید:بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔

Read More

نعمت خانہ - چھبیسویں قسط

خالد جاوید: موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔ مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

Read More

نعمت خانہ - پچیسویں قسط

خالد جاوید: میں ڈر گیا۔ اپنے اندر کے اُس پرُاسرار کالے سانپ سے میں ڈر گیا اور مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ابھی کل ہی شام تو اندر والے دالان کے کونے میں، میں نے سانپ کی اُتاری ہوئی کینچلی پڑی دیکھی تھی۔

Read More

نعمت خانہ - تئیسویں قسط

خالد جاوید: میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔

Read More

نعمت خانہ - بائیسویں قسط

خالد جاوید: وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس کی یادداشت کام نہیں کر رہی تھی، وہ فیرینی کوپہچان نہ سکا۔

Read More

نعمت خانہ - اکیسویں قسط

خالد جاوید: غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔

Read More

نعمت خانہ - انیسویں قسط

خالد جاوید: مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ تر دودھ جلیبی۔ جو بھی عورت اُن سے ملنے آتی، تو کسی برتن میں دودھ جلیبی لے کر ضرور آتی۔ ورنہ انجم باجی کے ہاتھ میں ایک دو روپے دودھ جلیبی کے نام پر تھماکر چلی جاتی۔

Read More

نعمت خانہ - اٹھارہویں قسط

خالد جاوید: مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔

Read More

نعمت خانہ - سترہویں قسط

خالد جاوید: میں نے تو انسانوں کو اپنی اپنی آنتوں میں پتھّر باندھ کر ایک دوسرے کی طرف پھانسی کے پھندے کی طرح پھینکتے دیکھا ہے۔ ایک کا گلا دوسرے کی آنتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ آنتوں کی لمبائی خاص طور پر چھوٹی آنت کی لمبائی تو خدا کی پناہ!

Read More

نعمت خانہ - سولہویں قسط

خالد جاوید: کیا کسی نے بھی اس پر غور کیا کہ محض روح کی پاکیزگی کے ڈنکے پیٹتے رہنے سے ہی کچھ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ تو جسم کا ہے، جسم کی پاکیزگی ہی اصل شئے ہے۔

Read More

نعمت خانہ - پندرہویں قسط

خالد جاوید: میں ابھی بس اُن قبروں تک ہی پہنچا ہوں گا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک زور کی دھمک سنی۔ ایک ایسی دھمک جس کے ساتھ ساتھ ایک پُراسرار سی سنسناہٹ بھی شامل تھی۔ میں واپس مڑا۔ ادھر شوربلند ہورہا تھا۔

Read More

نعمت خانہ - چودہویں قسط

خالد جاوید: ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔

Read More

نعمت خانہ - تیرہویں قسط

خالد جاوید: اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔

Read More

نعمت خانہ - بارہویں قسط

خالد جاوید: فجر کی نماز کے بعد جب چھوٹے چچا مسجد سے لوٹ رہے تھے تو اُن کی نظر بے خیالی میں بجلی کے کھمبے کی طرف اُٹھ گئی۔ انھوںنے دیکھا اوپر بجلی کے کھمبے سے ہوکر جہاں بہت سے تار جاتے ہیں، وہاں اُن بجلی کے تاروں میں وہ جھول رہی تھی، مردہ اور اکڑی ہوئی۔

Read More