Posts From Khalid Javed

Back to homepage
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi

نعمت خانہ - انیسویں قسط

خالد جاوید: مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ تر دودھ جلیبی۔ جو بھی عورت اُن سے ملنے آتی، تو کسی برتن میں دودھ جلیبی لے کر ضرور آتی۔ ورنہ انجم باجی کے ہاتھ میں ایک دو روپے دودھ جلیبی کے نام پر تھماکر چلی جاتی۔

Read More

نعمت خانہ - اٹھارہویں قسط

خالد جاوید: مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔

Read More

نعمت خانہ - سترہویں قسط

خالد جاوید: میں نے تو انسانوں کو اپنی اپنی آنتوں میں پتھّر باندھ کر ایک دوسرے کی طرف پھانسی کے پھندے کی طرح پھینکتے دیکھا ہے۔ ایک کا گلا دوسرے کی آنتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ آنتوں کی لمبائی خاص طور پر چھوٹی آنت کی لمبائی تو خدا کی پناہ!

Read More

نعمت خانہ - سولہویں قسط

خالد جاوید: کیا کسی نے بھی اس پر غور کیا کہ محض روح کی پاکیزگی کے ڈنکے پیٹتے رہنے سے ہی کچھ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ تو جسم کا ہے، جسم کی پاکیزگی ہی اصل شئے ہے۔

Read More

نعمت خانہ - پندرہویں قسط

خالد جاوید: میں ابھی بس اُن قبروں تک ہی پہنچا ہوں گا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک زور کی دھمک سنی۔ ایک ایسی دھمک جس کے ساتھ ساتھ ایک پُراسرار سی سنسناہٹ بھی شامل تھی۔ میں واپس مڑا۔ ادھر شوربلند ہورہا تھا۔

Read More

نعمت خانہ - چودہویں قسط

خالد جاوید: ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔

Read More

نعمت خانہ - تیرہویں قسط

خالد جاوید: اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔

Read More

نعمت خانہ - بارہویں قسط

خالد جاوید: فجر کی نماز کے بعد جب چھوٹے چچا مسجد سے لوٹ رہے تھے تو اُن کی نظر بے خیالی میں بجلی کے کھمبے کی طرف اُٹھ گئی۔ انھوںنے دیکھا اوپر بجلی کے کھمبے سے ہوکر جہاں بہت سے تار جاتے ہیں، وہاں اُن بجلی کے تاروں میں وہ جھول رہی تھی، مردہ اور اکڑی ہوئی۔

Read More

نعمت خانہ - گیارہویں قسط

خالد جاوید: یقینا یہ کہا جاسکتا ہے کہ میرے اندر مجرمانہ جراثیم بہت بچپن سے ہی پل رہے تھے۔ مگر ایک ایسا مجرم جس کی سزا جس عدالت میں طے ہونا تھی وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔

Read More

نعمت خانہ - دسویں قسط

خالد جاوید: میں ببّو انگیٹھی کو دیکھنے جانا چاہتا تھا۔ مگر گھر میں کسی نے اس کی اجازت نہیں دی، مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میں کبھی قریب سے ببّو انگیٹھی کو دیکھ نہیں سکا۔

Read More

نعمت خانہ - نویں قسط

خالد جاوید: میں واپس اپنے زمانے میں آ گیا۔ میں نے اپنے روٹھے ہوئے حافظے کو دوبارہ ایک ٹھوس شے کی طرح اپنے سامنے پایا اور میں نے اُسے اپنے دماغ کے خلیوں میں گویا ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اندر محفوظ کر لیا۔
Read More

نعمت خانہ - آٹھویں قسط

خالد جاوید: دراصل ہاتھوں کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ مجھے اب معلوم ہوا ہے، ہاتھ تو انسان کے دماغ سے بھی پہلے قوت نمو حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
Read More

نعمت خانہ - ساتویں قسط

خالد جاوید: میں اُن کی رنگت سے ہی لپٹا رہنا چاہتا تھا۔ کاش! وہ سفید اُجلا رنگ انجم باجی کے جسم کی کھال سے نہ چپکا ہوتا۔ کاش! وہ رنگت اُن سے ماوراہوتی، کہیں خلا میں،یا ہوا میں، یا آسمان میں اور تب میرے گناہوں کے اندھیرے اتنے گاڑھے نہ ہوتے۔ وہاں کچھ سفیدی باقی رہتی۔
Read More

نعمت خانہ - چھٹی قسط

خالد جاوید: مجھے ہندو دھرم کا یہ خیال باربار چونکاتا رہتا ہے کہ جس طرح ہون کنڈ میں اناج اور غلّہ وغیرہ ڈالاجاتا ہے، اُسی طرح معدہ بھی ایک قسم کا ہون کنڈ ہے۔
Read More

نعمت خانہ - پانچویں قسط

خالد جاوید:
باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔
Read More