Posts From Muhammad Hameed Shahid

Back to homepage
Muhammad Hameed Shahid

Muhammad Hameed Shahid

پارہ دوز (تین پارچے ایک کہانی)

محمد حمید شاہد: میں اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا مگر اسے یوں دیکھنا میرے لیے ممکن نہ رہا تھا کہ میرا سر گھومنے لگا۔اور میں قبر جیسے اندھرے میں ڈوبتا چلا گیا۔ شان دار روشن قبر کے گہرے اندھیرے میں۔

Read More

منشایادکا افسانہ اور سماجی معنویت

محمد حمید شاہد:منشایاد کی مٹھی میں جو مٹی تھی وہ جگنو بن کر چمکتی تھی۔ ان سورجوں کی طرح جن کے مقابل آکر نئے عہد کی صارفیت زدہ مجہول حسیت کے چراغ منہ چھپانے لگتے ہیں۔

Read More

لوتھ

محمد حمید شاہد: بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔

Read More

راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں

محمد حمید شاہد: بیدی نے انسانی نفسیات کو سمجھنے اور انسانی بطون میں اتر کراس کے گنجھل کھولے ہیں، انتہائی ضبط اور پورے خلوص کے ساتھ ،اور یہ کوئی معمولی اور کم اہم واقعہ نہیں ہے

Read More

قرۃ العین حیدرکی یاد میں

محمد حمید شاہد: قرۃ العین حیدر کے تخلیقی قرینے اور مزاج کو سمجھنے کی نیت ہو تو” میرے بھی صنم خانے” کے آغاز ہی میں وہ ہمارے لیے اشارے فراہم کر نا شروع کر دیتی ہے۔

Read More

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

محمد حمید شاہد: تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے

Read More

رُکی ہوئی زندگی

محمد حمید شاہد: اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی

Read More

سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ کیا تم قاتل ہو ناترک کر سکتے ہو؟

محمد حمید شاہد: "دیکھو قوم اور بھیڑ میں بڑا فرق ہوتا ہے"۔۔۔۔اس کی شہادت کی انگلی میرے کندھے کو کاٹ رہی تھی۔"قوم منظم ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک" اس کی انگلی اب اوپر فلک کو اٹھ رہی تھی اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ہی اس کی ساری انگلیاں پھیل کر ہوا میں بھٹکنے لگیں۔۔۔

Read More

ان چکھے گناہ کی مٹھاس

محمد حمید شاہد: میں لذت کی شیرینی میں لتھڑے ہونٹ
اپنی ہوس کی بے صبری زبان سے چاٹ رہا ہوں

Read More

سجدہ سہو

محمد حمید شاہد: بس ایک ساعت کے لیے اس کا چہرہ اور اس پر برستے یقین کے رنگوں کو دیکھ سکا۔ اور پھر اس کی جانب کٹے ہوے شجر کی طرح یوں گرا جیسے سجدہ سہو کر رہا ہو۔

Read More

آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

محمد حمید شاہد: اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے

Read More

وَاپسی

محمد حمید شاہد: اور اُس نے وہ خط جو کئی دِن سے اُس کے ٹیبل پر بند پڑا تھا ‘اِن دو دِنوں میں کئی بار پڑھ ڈالا تھا۔ اور جب وہ اَڑھائی بجے والی بس سے ایک طویل عرصے بعد اپنے گاﺅں ویک اینڈ گزارنے جا رہا تھا تو سب تعجب کا اِظہار کررہے تھے۔

Read More

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

محمد حمید شاہد: زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے

Read More

جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی!

محمد حمید شاہد: کہا جا سکتا ہے یہ کہانی ابھی تک اندھا آئینہ ہے۔ ایسا غیر شفاف آئینہ جس میں سب چہرے دھندلے ہو جاتے ہیں۔

Read More