Posts From Muhammad Jameel Akhtar

Back to homepage
Muhammad Jameel Akhtar

Muhammad Jameel Akhtar

Muhammad Jameel Akhtar born in Mianwali, lives in Rawalpindi, works as an accountant. Short story writing is a catharsis for him to channel whatever he wanted to yell about. He lives in his short stories rather than just penning them down on paper. His short stories have been published in Fanoon, Adab-e-Latif and other publications.

ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)

ہندسوں میں بٹی زندگی ’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘ ’’ جی میں ہوں" ’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘ اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر

Read More

میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)

پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔ ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ آپ کو یقین تو نہیں آئے

Read More

اُداس ماسی نیک بخت (محمد جمیل اختر)

وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنا اداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔۔۔۔ میں نے پہلی بار ماسی نیک بخت کو اپنے بچپن میں دیکھا تھا، اُس وقت وہ بہت ضعیف تھیں۔ بعض لوگوں کو دیکھ کہ آپ اندازہ

Read More

ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)

ٹِک، ٹِک، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر

Read More

جیرے کالے کا دکھ

محمد جمیل اختر: وہ صابن سے چہرے کو دن میں کئی کئی بار رگڑتا کہ شاید یہ داغ ختم ہوجائے،اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بھلا قسمت کے لکھے داغ بھی کبھی صابن سے دُھلے ہیں؟

Read More

جنگل اور دوسری کہانیاں

محمد جمیل اختر: " چوہدری صاحب مبارک ہو آپ الیکشن جیت گئے وہ اب کچی بستی کا کیا کرنا ہے؟ " چوہدری صاحب کے پی اے نے کہا
" وہاں تو اب پلازہ بنانا ہے"
Read More

وہ آنکھیں

محمد جمیل اختر: صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Read More

کس جرم کی پائی ہے سزا

محمد جمیل اختر: پچھلے سات سال سے، میں کوئی پچیس مختلف کہانیاں سن چکا ہوں۔ کبھی موبائل چرا کر آرہا ہے تو کبھی کسی کی گاڑی چوری کا الزام اس پر لگ گیا ہے
Read More

ایٹوموسو

محمد جمیل اختر: وہ آوازوں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ کانوں میں ہر وقت روئی ڈالے رکھتا لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کے ماضی کی خوشگوار باتوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔
Read More