Posts From Rafaqat Hayat

Back to homepage
Rafaqat Hayat

Rafaqat Hayat

سزائے تماشائے شہرِ طلسم

رفاقت حیات: کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔
Read More

میر واہ کی راتیں - آخری قسط

رفاقت حیات: وہ جانتا تھا کہ اس وقت قصبے سے باہر جانے کے لیے سواری نہیں ملے گی۔ اس نے چلتے ہوئے گلی عبور کی، سڑک پر پہنچا۔ پہلوان دستی کے چائے خانے کے قریب سے گزرااور ٹھنڈے سانس بھرتا ہواآہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ قصبے کی حدود سے باہر نکل گیا۔
Read More

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔
Read More

میرواہ کی راتیں - نویں قسط

رفاقت حیات: بلی کے پنجوں کی رگڑ، اس کے جسم کے وزن اور اس کی لجلجاہٹ نے اسے لذت بھرے طلسمی دریا سے نکال کر باہر اچھال دیا۔
Read More

سندھ لٹریچر فیسٹیول؛ سندھی ادب کا ایک اور سنگِ میل

سندھ کے عوام، ادیبوں اور دانشوروں کو ہمیشہ اپنی زبان، تہذیب اور ثقافت پر فخر رہا ہے۔ اسی لیے وہ اپنی زبان میں لکھے جانے والے ادب کے حوالے سے بھی بے حد حساس ہیں۔
Read More

میرواہ کی راتیں – آٹھویں قسط

رفاقت حیات: چھپر کی چھت سے اچانک ایک غراتی اور چیختی ہوئی بلی نذیر کی پشت پر آ گری۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چڑیل آ کر اس کی پیٹھ سے چمٹ گئی ہے۔
Read More

میر واہ کی راتیں – ساتویں قسط

رفاقت حیات: چاچا غفور سے تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اس نے دکان پر وقت گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ اگر آج رات کسی نے اس کا خالی بستر دیکھ لیا تو وہ اس پر مچنے والے ممکنہ فساد کو دبانے میں کامیاب ہو سکے گا۔
Read More

میرواہ کی راتیں – چھٹی قسط

رفاقت حیات: دفعتاً اس کی نگاہ ڈرائیور کے سامنے لگے آئینوں پر جا کر ٹھہر گئی اور اس کی مسرت کی کوئی حد نہ رہی۔ سامنے لگے ہوئے ہر آئینے میں اسے اس کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ نذیر کی آنکھیں ان آئینوں کے درمیان بھٹکنے لگیں۔
Read More

میرواہ کی راتیں - پانچویں قسط

رفاقت حیات: نورل نے اس کے پاس آ کر سرگوشی میں کہا، “تمام گوٹھوں کے عاشقوں کے لیے کماد کی فصل خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے۔”
Read More

میر واہ کی راتیں- چوتھی قسط

رفاقت حیات: نورل نے اپنی باتوں سے اپنے دوست کے دل میں مایوسی کو گھر بنانے نہیں دیا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ہر نوجوان عاشق کا دل قنوطی ہونے کے باوجود کبھی بھی بے آس نہیں ہوتا وہ ہمیشہ کسی نہ کسی معجزے کی رونمائی کا منتظر رہتا ہے۔
Read More

میرواہ کی راتیں- تیسری قسط

رفاقت حیات: نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہربدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔
Read More

میرواہ کی راتیں- دوسری قسط

رفاقت حیات: پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوئے بیٹھے تھے۔
Read More

میرواہ کی راتیں- قسط نمبر 1

رفاقت حیات: وہ واقعہ جو پینتالیس روز قبل پیش آیا تھا، آج اسے اس کا پھل ملنے والا تھا۔ وہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ آج کی شب اس کی امیدوں کو بر آنا تھا یا انھیں ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہونا تھا۔
Read More

چریا ملک

ملک محمد حاکم بیساکھی پر قصبے کی دکانوں کا پھیرا لگا کر شبیر کے ہوٹل پہنچا۔ اس کی مختصر گٹھڑی میں سے پتی کی پڑیاں اور چاول نظر آرہے تھے۔ ا
Read More