Posts From Sidra Sahar Imran

Back to homepage
Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.

سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے یہ پرندے کون ہیں ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں ہوا کو موت یہ پتے ہمارے آنسو ہیں ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا

Read More

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی

Read More

مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

سدرہ سحر عمران: میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں

Read More

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

سدرہ سحر عمران: زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ

Read More

ہماری گلیوں میں قیامت بچے جنتی ہے

سدرہ سحر عمران: ہمیں وراثت میں اپنی عیاشیاں سونپ جائیں گے
حرمزادو! خُدا کے لئے
ہمیں بانجھ پن کی دعائیں دو ۔۔۔

Read More

روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

سدرہ سحر عمران: جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
Read More

مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی
Read More

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

سدرہ سحر عمران: ہم خدا سے بچھڑنے کے بعد
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں
Read More

شہر ادھیڑا جا چکا ہے

سدرہ سحر عمران: تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
Read More

ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

سدرہ سحر عمران: ہم نے آوازوں کے شہر میں جی کر دیکھا
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
Read More

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

سدرہ سحر عمران: جب ہماری نفرت کا قومی دن منایا جاتا ہے
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟
Read More

جنت جلتے پیروں نیچے

سدرہ سحر عمران: بندوقوں کے بل پر کتنے تابوت اٹھانے باقی ہیں
کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟
Read More

دل سے اتری ہوئی نظم

سدرہ سحر عمران: میرا مرد اس ٹیلی فون کی طرح خاموش ہے
جس کا نمبر کسی کو نہیں دیا گیا
لیکن وہ ہر ماہ بل کی ادا ئیگی کے لئے
اپنی چیزیں بیچ دیتا ہے
اس کے پاس اب ایک گھڑی کے سوا کچھ نہیں ہے
Read More

ہمیں مرنے کی ریہرسل کرنے دو

سدرہ سحر عمران: کیا ضروری ہے ۔۔۔۔
کہ
ہمارے جسم کونوں کھدروں میں ڈال کر
موت کے گیت گائے جائیں
Read More

پچھلی گلی کا دروازہ

سدرہ سحر عمران: وہ دفتر سے گھر آیا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔
Read More