Posts From Tasneef Haider

Back to homepage
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.

کیا اردو واقعی کوئی زبان ہے؟

تصنیف حیدر:
اردو کے تعلق سے جس قدر بھی نظریات موجود ہیں، چاہے وہ نصیرالدین ہاشمی کا نظریہ ہو کہ اردو ، دکن کی پیداوار ہے یا پھر محمود شیرانی کا کہ اردو پنجاب کے بطن سے پیدا ہوئی ہے یا پھر برج بھاشا، کھڑی بولی یا مختلف بولیوں یا اپ بھرنشوں یاپھر بھاشائوں/بھاکائوں سے نکلنے والی ایک میٹھی زبان کے مختلف نظریات۔ بھارت میں اب سے سو، سوا سو سال پہلے تک اس زبان کو ہندی کے طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے
Read More

طلاق کی روایت اور مسلمانوں کا رویہ

تصنیف حیدر: طلاق ہرگز بری چیز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کے ساتھ زبردستی زندگی گزارتے ہیں، تو اس سے قبل آپ کو یہ یقین کرلینا ہوتا ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی پہلے ہی ختم ہوچکی ہے
Read More

پستان-آخری قسط

تصنیف حیدر: اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔
Read More

پستان ۔ بارہویں قسط

تصنیف حیدر: جب این کی زبان صدر کے تالو سے چپکتی، اس کی زبان پر پھانکے گئے سفوف کا نیلا افسوں پھونکتی تو وہ بھی لڑکھڑانے لگتا، اس کی سنجیدہ سانسوں کے غار سے آوازوں کی چیاؤ چیاؤں کرتی چمگاڈریں نکل کر ہوائوں میں رقص کرنے لگتیں۔
Read More

پستان۔ گیارہویں قسط

تصنیف حیدر: آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر صدر نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔
Read More

اور جب لکھنوی تہذیب سے پردہ اٹھتا ہے

تصنیف حیدر: شجاع الدولہ عیاشی میں بجز شراب نوشی کے منہمک رہتے تھے۔ اکثر عورتوں کی مباشرت میں راغب اور لہو ولعب میں مصروف رہتے تھے۔ لیکن مزاج میں حیا و شرم اور عفو و اغماض اور ترحم تھا
Read More

کیا واقعی مدارس کی اب بھی ضرورت ہے؟

تصنیف حیدر: مدرسوں کو مکمل طور پر تالا لگا کر ان کی جگہ ایسے سکولوں کی بنیاد ڈالنے کی ضرورت ہے، جو آئندہ نسلوں کے لیے کارگر ثابت ہوسکیں اور انہیں دنیا کے باقی بچوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بہتر مستقبل کا نقشہ تیار کرنے میں مدد دے سکیں۔
Read More

ماں ہونا ضروری نہیں

تصنیف حیدر: عورت کا عورت ہونا کافی ہونا چاہیے، جبکہ ماں بنا کر ہم اس کی صنفی کشش اور ضروریات کو دبانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔
Read More

پستان ۔ دسویں قسط

تصنیف حیدر: کمرے کی لائٹ آن تھی، بارش کے شور کی گرج ہولے ہولے مدھم پڑرہی تھی، وہ کمفرٹر میں گھس گئی اور ابھرتے ہوئے سورج کی گرد میں نہ جانے کب اس کے بھاری اور گہرے سرخ پپوٹوں کا آفتاب غروب ہوگیا۔
Read More

دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 12

تصنیف حیدر: اسے اس واقعے کا سخت افسوس تھا، وہ بے نظیر بھٹو کی اس اچانک موت اور بھیڑ میں ان پر ایک انجان سمت سے آنے والی گولی کو سخت برا محسوس کررہا تھا۔
Read More

پستان ۔ نویں قسط

تصنیف حیدر: وہ کہا کرتی تھی کہ دنیا اس کمرے کی طرح ہے، جس میں ہمیں بند کرکے لاک کردیا گیا ہے، اس لیے رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی ضرورت اور پسند کی چیزیں حاصل کریں یا چھین لیں۔
Read More

چیخ پر پابندی

تصنیف حیدر: ملک کے مختلف قصبوں، دیہات اور چھوٹے شہروں سے پیسہ کمانے کی لعنت کاطوق گلے میں ڈالے جو نوجوان دہلی میں آتے ہیں، یہاں بستے ہیں، رہتے ہیں، ان کی جنسی تسکین کا کوئی سامان نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ وہ خود پر جبر کیے جائیں۔div>

Read More

پستان۔ آٹھویں قسط

تصنیف حیدر: این جب صدر سے بچھڑی تھی تو وہ وجہ اس قدر معمولی تھی کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے۔ لیکن ان کا ملنا ایک عالیشان محل کے پھاٹک کی طرح ہمیشہ شاندار اور جاذب نظر معلوم ہوتا تھا۔
Read More

پستان - ساتویں قسط

تصنیف حیدر: دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ کی، پھرپھر کرتی، تیز اور آزاد، بالکل کچ اور صدر کی طرح۔
Read More

پستان- چھٹی قسط

تصنیف حیدر: بارش رفتہ رفتہ کم ہونے لگی، صدر کو دوسری ہچکی آئی، پھر تیسری، اس نے آخری بار جو نظارہ دیکھا تھا، وہ کچ کی روشن اور بڑی بڑی آنکھوں سے جھانکتے ہوئے ایک دبیز قہقہے کی روشنی تھی، جس کی تپتی ہوئی زمین پر صدر کا وجود بے جان ہوکر دھاڑ سے گرپڑا۔
Read More