Posts From The Laaltain

Back to homepage
The Laaltain

The Laaltain

بھائی صاحب کا مذہب

تالیف حیدر: میں اس کو مذہب سے انحراف پر کبھی کبھی ٹوکتا بھی ہوں، اس سے بحث بھی کرتا ہوں، مگر اس کے اس سفر کو کبھی فراموش نہیں کرتا

Read More

نعمت خانہ - بیسویں قسط

خالد جاوید: مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ چہرے واپس آتے ہیں۔ لوگ واپس آتے ہیں، بھلے ہی اُن کے رویے، اُن کے جسم اور اُن کی روحیں بدلی ہوئی ہوں۔ انسانوں کا یہی مقدّر ہے۔ ازل سے اور ابد تک یہی رہے گا۔

Read More

ہماری نظمیں تمہاری جی حضوری نہیں کریں گی

نسیم سید: تم نہیں جانتے
ہماری نظمیں
تمہاری شرائط کو ٹھوکر پہ رکھتی ہیں

Read More

نولکھی کوٹھی - بائیسویں قسط

علی اکبر ناطق: اب ولیم جلال آبا د سے اِس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اگر اُسے ساری عمر بھی یہاں رہنے کی اجازت دی جاتی تو وہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔

Read More

نولکھی کوٹھی - بیسویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اپنے معاملات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا،چاچا بہزاد،اماں جان کو میں نے پاکپتن کی بجائے کہیں اور بھیج دیا ہے۔ اس کے علاوہ مال کافی سارا بیچ کر بقیہ نواب صاحب کی فرید کوٹ والی حویلی میں منتقل کر دیا ہے۔ نواب صاحب پوری طرح دوستی کا حق ادا کرنے کو تیا ر ہیں۔ اِس سلسلے میں اُنہوں نے مجھے اپنی ایک جیپ بھی ڈرائیور سمیت بھیج دی ہے،جو نواب صاحب کی گرو ہرسا والی حویلی میں موجود ہے۔ اگر اُس کی ضرورت پڑی تو استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ گرو ہر سا کے تھانیدار کو بلا کر منصوبے پر عمل کروانے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ تھانیدار نے کہا ہے،اگرمیں کارروائی کر کے دوگھنٹوں کے اندر دوبارہ تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں پہنچ جاوں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ پھر ساری بات وہ سنبھال لے گا۔ وہ مجھے ناجائیز اسلحہ رکھنے کے عوض حوالات میں بند کر کے عین واردات کے وقت باہر نکال دے گا۔ میں اور میرے بندے کارروائی کر کے دوبارہ وہیں پہنچ جا ئیں گے۔ اِس طرح یہ کارروائی مکمل ہو جائے گی لیکن مجھے اِس میں خطرہ ہے کہ کام صرف سودھا سنگھ کا ہی ہو گا،دوسرے دونوں بچ جائیں گے۔ کیونکہ اُس کے لیے وقت نہیں ہو گا۔

Read More

نولکھی کوٹھی - سولہویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔
Read More

مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ

اداریہ: اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی، آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔
Read More

نفرت کی تکون

محمد حنیف:
کئی برس تک لیاقت علی المعروف احسان اللہ احسان ملکی ذرائع ابلاغ پر دکھائی دینے والا ایک دہشت ناک مگر جانا پہچانا چہرہ تھا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ہر حملے کے بعد وہ اپنے آڈیو پیغامات یا خونریزی پر مبنی ویڈیوز میں فاتحانہ بیانات کے ذریعے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دلوں میں خوفِ خدا اور عوامی حلقوں میں سراسیمگی پھیلایا کرتے تھے۔
Read More

ناموسِ رسالت کےنام پر قتل و غارت بھی دہشت گردی ہے۔اداریہ

اداریہ: توہین رسالت و مذہب کے الزامات کے تحت تشدد اور دہشت گردی کی یہ لہر اس لیے بھی خوفناک ہے کیوں کہ یہ معاملہ پیغمبر اسلام کی حرمت کے نام پر قتل و غارت سے بہت جلد توہین اصحاب، توہین اہل بیت، توہین اولیاء اور توہین مذہبی شعائر کے نام پر قتل و غارت کی صورت اختیار کر لے گا
Read More

نظریہِ پاکستان یا نظریہِ حکمران؟

ڈاکٹر زاہد حسین: اولیائے کرام کے مزارات کسی ایک فرق و مکتب نہیں بلکی پوری انسانیت کے لیے دینی و روحانی تسکین اورتکمیلِ حاجات کے مراکز تصور کیے جاتے ہیں، تاہم ان مقامات کو بھی نہ بخشا گیا اوران مزارات میں مدفون اولیائے کرام کے تشخص اور پہچان کو مجروح کرنے کی سازشیں کی گئیں
Read More

انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ

اداریہ: اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ مقدس نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
Read More

تھارن ٹن کا لاہور

تھارن ٹن نے صناعوں اور کاریگروں کی بے حد تعریف کی ہے۔ ان کی کاریگری کے نمونوں کو بے حد سراہا ہے کہ انہوں نے رقبہ کی حد بندی میں کمال دکھایا ہے۔
Read More

فیصلہ کچھ نہ اُگلو

سلیمان خمار: اُسے تم نے دیکھا نہیں
فقط یوں ہوا ہے
ہر اک کان کے حلق میں
اُس کی آواز کے شبنمی گھونٹ
اُنڈیلے گئے ہیں
Read More

درد مشترک

او ہنری: نہیں نہیں۔ "چور نے اس کی آستین تھام کر کہا،"میرے پاس پیسے ہیں فکر مت کرو تمہیں میٹھے تیل میں لونگ ڈال کے ذرا مالش بھی کروانی تھی۔
Read More

بے گناہ

او ہنری: دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جن کا نام لے کر، آپ بلا خوف تردید جو چاہے کہہ سکتے ہیں۔ یہ کہ آپ نے خواب میں کیا دیکھا اور یہ کہ آپ نے کسی طوطے کو کیا بولتے سُنا۔
Read More