Posts From Zahid Imroz

Back to homepage
Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.

نظم کے لیے غسل واجب نہیں

زاہد امروز: عمر علی!
لندن ہو یا لائل پور
دنیا ایک سی ہے

Read More

نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

زاہد امروز:کون مرے اِس سچ کو سچا جانے
میرا سچ جو اِس اَن حد باغیچے کے اِک گوشے میں کھِلا ہوا معمولی پھول ہے

Read More

کچرے کی حکومت

زاہد امروز: جب اس ہنگامے کا شور
ہماری نیند آلودہ کرتا ہے
ہم کروٹ کروٹ کڑھتے ہیں

Read More

تم وہی رہو، جو ہو

زاہد امروز: اِسی طرح تم وہی رہو
عیاری اور منافقتوں سے پاکیزہ
جس کو پوجنا چاہتا ہے
دنیا کا مکّار خدا!

Read More

ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ
ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ

Read More

آدمی کہتا ہے وہ جی سکتا ہے

زاہد امروز: ڈرے ہوئے آدمی ڈرے ہوئے آدمی سے ڈر جاتے ہیں
مرے ہوئے آدمی مرے ہوئے آدمی کو مار دیتے ہیں

Read More

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

یاہودا امیخائی: میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
Read More

نرم گھاس میں سرگوشیاں

ہانس بورلی: تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
Read More

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

چاروں جانب اُمڈی تاریکی میں
ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہ وطن ہنسی کی گود نہیں
کسی قاتل کا وحشی بدن ہے
Read More

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

اگر ترے سینے کی گولائیاں
گوتم کےَ سر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
Read More

گلشن پارک میں ایسٹر

کتنی آوازیں روزانہ تمہیں بلاتی ہیں
کام میں گم
دفتر کی میزوں میں دھنسے ہوئے
تم ان کو سُن نہیں سکتے
Read More

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے
Read More

جہاں دلالی محبوب مشغلہ ہو

شاہی محلے سے لے کر افسر شاہی تک سب دلالی کا کھیل ہے اور ان کے درمیان سارا بازار پڑتا ہے جہاں نچلا طبقہ اوپر والے کی دلالی کرتا ہے، اوپر والا اُس سے اوپر والے کی اور طاقت میں اس لمحہ بھر کی مصنوعی حصہ داری کے لیے ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے پر بھی رضامند ہو جاتا ہے۔
Read More

چَکّی گھومتی ہے

شہر کے وَسطی چوک میں
Read More

ایک خواب مجھے سمجھ نہیں آرہا

میں دیکھتا ہوں جون کی دوپہر ہے او ر آنکھیں چندھیائی جاتی ہیں فٹ پاتھ پر پیروں کے درمیان جلی ہوئی لاش سلگ رہی ہے لیکن کوئی نیچے نہیں دیکھتا   میں سوچنے لگتا ہوں ایک سوچی ہوئی بے خبری

Read More