آواز (عظمیٰ طور)

آواز (عظمیٰ طور)
آواز

آوازوں کی تاریخ کہاں سے شروع ہوئی اس کن سے اس کے کن سے اور سلسلہ پھیلتا گیا ۔
اس نے لمبا سانس کھینچ کر کرسی سے ٹیک لگا لی.
قلم کو بے جان انگلیوں میں تھامے وہ کرسی پہ ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیٹھی تھی۔
میز پر رکھے دو تین طرح کے ہیڈ فونز اسے منہ چڑھا رہے تھے.
سرخ رنگ کے وائرلیس ہیڈ فونز اس نے مری کی ایک موبائل شاپ سے ایک ہزار میں خریدے تھے ۔
سفید گچھ مچھ ہینڈ فریز اس کے موبائل کے ڈبے میں اس کے موبائل کے ساتھ ملی تھیں.
تیز سبز رنگ کے ہینڈ فری جس کی کانوں کی ٹوٹیاں اس کے کانوں سے بڑی تھیں ۔
یہ سلسلہ فقط دو چار سننے کے آلات پہ مشتمل نہیں تھا ۔ گیارہ برسوں میں اس نے کئی آلے خریدے اور ان کی معیاد ختم ہونے سے پہلے کئی آلے نئے خرید لاتی ۔
ہیڈ فونز کی ٹوٹیوں سے بہتی ایک آواز ہر آلے سے ایک ہی طرح اور ایک ہی زاویے سے برآمد ہوتی تھی
اس نے موبائل کے ساتھ لگے ہینڈ فریز کانوں میں اڑیس کر موبائل کے سیو ڈیٹا سے ریکارڈنگ نکالی اور کاغذ پہ جھک گئی
اس آواز کی تاریخ شاید باقی آوازوں سے بڑی حقیقت تھی
اس کے قلم سے نکلتے لفظ اس کے ہاتھوں پہ چڑھ آئے
کانوں میں بہتی آواز در و دیوار سے لپٹ گئی
زندہ ہونے کے بجائے دیواریں رسنے لگیں
گہری شدید گہری دراڑیں ابھر آئیں
دو مسکراتے لب سامنے کی دیوار پہ ابھرے
اس نے آنکھیں میچ لیں
اسے اس آواز سے رغبت تھی
وہ اس آواز سے ڈرتی تھی بے انتہا چاہ کے باوجود ایک رعب اس کے دل میں بیٹھا تھا
اس نے آنکھیں کھولیں تو آواز نے اس بالوں کو زور سے جکڑ لیا
سارا وجود تھر تھر کانپنے لگا
وہ مسکرانے لگی
پوروں سے شہد رسنے لگا
آنکھوں میں بجلی کوند گئی
اس کی سماعت کم ہونے لگی
سبھی حسیں فقط آواز میں بدلنے لگیں
اس نے کن کے بعد اس آواز کے ساتھ سفر کیا تھا
اس کے بھنور میں گھومتے گھومتے اسے گیارہ برس ہو گئے
اس کی آنکھیں کان تھے
اس کے ہونٹ کان تھے
اس کے ماتھے اس کی پوریں سبھی کانوں سے بھر گئیں
اسے سماعتوں سے گلہ تھا
محدود سماعتوں سے
اندھیرے کمرے میں آواز پورے وجود کے ساتھ ٹہل رہی تھی
اس نے چھپ کر اس آواز کے وجود کو چھوا
اس کی پوروں پہ ننھے ننھے لفظ ابھر آئے
کاغذ بھرنے لگے
تم __ آپ _ سنو _ کہو __
ننھے ننھے لفظوں میں جان پڑ گئی
وہ ان لفظوں، نقطوں کی بے وقعتی سے عاجز حیران تھی۔ یہ ننھے ننھے لفظ اسے سہلاتے اسے نیند آ جاتی
اس نے اندھیرے میں ٹہلتی آواز کو سنا وہ اسے کسی الجھے ہوئے ریشم میں سلجھی ہوئی سوچ کا عندیہ دے رہی تھی
اس نے سرابوں کو پیروں میں باندھا اور گھومنے لگی
سماعتیں گلے شکووں سے نکل کر مسکرا رہی تھیں
ہر پرانی بات نئی بات کے پیرہن زیب تن کئے ہوئے تھی
گھڑی پہ رات کے چار بج رہے تھے
اس نے ہیڈ فونز سے بہتی آواز کی تاریخ کو صفحوں پر اتارا
کئی پلندے کئی حاشیے سیاہ ہونے لگے
اس کا دل بجھ رہا تھا
پوروں پر کانٹے تھے
سرخ ہیڈ فون کے کانوں پہ دو مسکراتے ہونٹ اسے تک رہے تھے
وہ آواز کن کا جادو تھی
وہ آواز رہتی دنیا تک خلا میں رہنے والی تھی _


Related Articles

دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔

سرخ شہر اور دوسری کہانیاں

شین زاد: اس نے محسوس کیا اس کا قد مسلسل بڑھ رہا ہے اور پھر چند ہی دہائیوں میں دیکھتے دیکھتے اس کا سر آسمان سے جا لگا وہ جب چاہتا آسمان کی دوسری طرف جھانک سکتا تھا

سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ ’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔" کنڈیکٹر کی تکرار

No comments

Write a comment
No Comments Yet! You can be first to comment this post!

Write a Comment

Your e-mail address will not be published.
Required fields are marked*