اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!
اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
تم مشرق و مغرب کی دِشاؤں میں چلنے والی
پروئی سے ہو
جسکے چھوتے ہی، میری پلکوں میں اٹکے
اڑی رنگت کے تمام زرد پتے، جڑ گئے تھے
میری سوچوں سے لپٹی
تمام سوکھی بیلیں، اتر گئی تھیں
اور میری زلفوں میں بکھرے، موتیا کے گجرے
تمہاری تاثیر سے ایک بار پھر مہک اٹھے تھے
جس مہک کے تعاقب میں
تم نے میلوں کا سفر بار بار کیا ہے
کئی آگ کے دریا اور نیلی ندیوں کو پار کیا ہے
ہرے موسموں کی بھری جھولیوں سے
ایک جامنی پھول میرے نام کیا ہے
جس کی ایک ایک پتی پہ
عرقِ محبت کو چھڑکا ہے میں نے
اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
میرے ناخنوں پہ سدا تیرے رنگ کی بہاریں رہیں گی!
Image: Christian Schloe

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Komal Raja

Komal Raja

کومل راجہ کا تعلق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے ہاجرہ پونچھ سے ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے اطلاقی نفسیات میں ایم فل کر چکی ہیں۔ آج کل میکسی میلین یونیورسٹی میونخ سے علم بشریات میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ انسانی ذہن اور وجود کی گتھیاں آپ کو الجھائے رکھتی ہیں۔


Related Articles

ضبط کا خرچ

شارق کیفی: کوئی یہ سوچتا ہے اگر
کہ اس نے مجھے اپنے غم میں رلا کر
بڑا معرکہ کوئی سر کر لیا ہے
تو پاگل ہے وہ

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا

علی زریون: اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

نصیر احمد ناصر: میں اُسے نہیں لکھتا
وہ مجھے لکھتی رہتی ہے
اَن کہے، اَن سنے لفظوں میں
اور پڑھ لیتی ہے مجھے
دنیا کی کسی بھی زبان میں