بنجر میدان—شہر خموشاں کا ناول

بنجر میدان—شہر خموشاں کا ناول
یہ تحریر حلقہ اربابِ ذوق ، کراچی کے زیرِ اہتمام ہونے والی شامِ مطالعات میں اس ناول کو متعارف کروانے کی غرض سے لکھی گئی۔


حوان رلفو سے پہلا تعارف تو اس کی چند کہانیوں کے ذریعے ہوا تھا، جن کا ترجمہ شاید سہ ماہی آج کے کسی شمارے میں شائع ہوا تھا۔ ان کہانیوں کے نام تو یاد نہیں رہے، لیکن ان میں چھپی گھمبیرتا ، ان کی پیچیدگی اور ان کا اسرار آج تک ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ ہے۔ان کے مطالعے کے بعد رلفو کا نام ناقابلِ فراموش ہوگیا۔ اس کا ناول پیڈرو پرامو کئی بار مرتبہ انگریزی میں پڑھنا چاہا مگر ہر بار چند صفحات پڑھنے کے بعد ہمت جواب دے جاتی تھی۔ اس طرح اس ناول کا مطالعہ طویل عرصے تک التوا کا شکار ہوتا رہا۔پھر ایک دن جب اردو غزل کے معتبر شاعر احمد مشتاق کا کیاہوا اس ناول کا ترجمہ کتابوں کی دوکان پر دکھائی دیا تو اسے فوراً خرید لیا۔ فرصت ملتے ہی جب اس ناول کو پڑھنا شروع کیا، تو جوں جوں آگے بڑھتا گیا، حیرت و انکشاف کے کئی دروا ہوتے چلےگئے۔ ایک زندہ انسان کےبظاہر سیدھے سادے بیان سے شروع ہونے والا یہ ناول آگے چل کر توہمات اور بدروحوں کی پراسرار سرگوشیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مطالعے کے دوران ناول کی ہر سطر، بدروحوں کی ہر سرگوشی اور سایوں کی ہر خودکلامی پر اعتبار کرنا پڑھنے والے کی مجبوری بنتی چلی جاتی ہے۔آسیبوں کے اس گھنے جنگل میں قاری بھی ایک بدروح کی طرح اس پراسرار ماحول کا اسیر ہوتاچلا جاتا ہے۔

احمد مشتاق اس ناول کا تعارف کرواتے ہوئے بتاتے ہیں۔‘‘یہ ناول 1955میں پیڈرو پرامو کے نام سے شایع ہوا۔پہلے پہل یہ ناول کامیابی حاصل نہ کرسکا، پھر اس کے خواص کھلنے لگے۔کہا جاتا ہے کہ اس ایک ناول سے رلفو نے لاطینی امریکی ناول کے دھارے کا رخ موڑ دیا۔اس نے حقیقت کے ساتھ توہم کو ملا دیا۔’’

‘‘ میکسیکو کے باکمال شاعر آکتاویوپاز نے ایک جگہ لکھا ہے کہ رلفو میکسیکو کا وہ واحد ناول نگار تھا، جس نے محض بیان کے بجائےہمارے طبیعی گردوپیش کے لیے ایک امیج فراہم کی۔’’

مترجم آگے چل کر ہمیں مزید بتاتے ہیں۔‘‘ مارکیز کے مطابق یہ رلفو ہی تھا، جس کے طریقِ کار کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعداس کے لیے اپنا اسلوب وضع کرنا ممکن ہوسکا’’۔

معروف امریکی نقادسوزن سونٹاگ نے اس ناول کے انگریزی کے نئے ایڈیشن کے لیے جو پیش لفظ لکھا ، مترجم نے اسے بھی ترجمہ کرکے کتاب میں شامل کردیا ہے۔وہ کہتی ہیں۔‘‘کتاب کی صاف شفاف ابتدااس کی پہلی چال ہے۔حقیقت میں پیڈرو پرامو ابتدائی جملوں سے قطع نظر کہیں زیادہ پیچیدہ بیانیہ ہے۔ناول کا مقدمہ-‘‘ایک مری ہوئی ماں کا اپنے بیٹے کو دنیا سے روشناس کرانے کے لیے بھیجنا’’،‘‘ایک بیٹے کااپنے باپ کی کھوج میں نکلنا’’۔جہنم میں ایک کثیر الاصوات عارضی قیام میں تبدیل ہوجاتا ہے۔بیانیہ دو دنیاؤں میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔زمانہِ حال کا کومالا،جس کی طرف ابتدائی جملوں کا‘‘میں’’‘‘حوان پرسیادو’’روانہ ہوتا ہےاور زمانہِ ماضی کا کومالا،جواس کی ماں کی یادوں اور پیڈرو پرامو کے عہدِ شباب کاگاؤں ہے۔بیانیہ ضمیر متکلم اور ضمیر غائب،حال اور ماضی کے درمیان آگے پیچھے رخ بدلتا رہتا ہے۔(عظیم کہانیاں نہ صرف ضیغہ ماضی میں بیان کی گئی ہیں بلکہ وہ ہیں بھی ماضی کے بارے میں)ماضی کا کومالا زندوں کا گاؤں تھا۔ حال کا کومالا مردوں کا مسکن ہے۔اور دان پرسیادو جب کومالا پہنچتا ہے تو اس کی مڈبھیڑسایوں اور پرچھائیوں سے ہوتی ہے۔ہسپانوی زبان میں‘‘ پرامو ’’کے معنی ہیں‘‘بنجر میدان’’۔خرابہ۔ نہ صرف اس کا باپ ہی، جس کی اسے تلاش ہے، مرچکا ہے بلکہ گاؤں کا ہرشخص مرچکا ہے۔مردہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس بیان کرنے لیے سوائے اپنی ذات کے اور کچھ نہیں۔’’

سوزن سونٹاگ ہمیں بتاتی ہیں۔‘‘رلفو نے ایک بار کہا تھا؛‘‘میری زندگی میں بہت خاموشیاں ہیں اور میری تحریر میں بھی’’۔اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس ناول کو برسوں تک اپنے اندر لیے پھرتا رہا،جب تک اسے معلوم نہیں ہوگیا کہ اسے کیسے لکھا جائے۔وہ سینکڑوں صفحے لکھتا اور پھر پھاڑدیتا تھا۔اس نے کہیں یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ ناول لکھتے جانے اور مٹاتے جانے کا عمل ہے’’۔

‘‘مختصر کہانیاں لکھنے کی مشق نے میری تربیت کی،مجھے خود غائب ہوجانے اور کرداروں کو اپنی مرضی سے باتیں کرنے کے لیے کھلا چھوڑدینےکی ضرورت کا احساس دلایا، جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ کہنے کی ترغیب ملی کہ ناول میں کوئی ڈھانچہ نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے ‘‘پیڈرو پرامو’’ میں ایک ڈھانچہ موجود ہےلیکن اس ڈھانچے کی تشکیل،خاموشیوں سے، لٹکتےہوئے دھاگوں سےاور کٹے ہوئے منظروں سے ہوئی ہے۔جہاں ہر چیز ایک زمانی وقت میں ظہور پذیر ہوتی ہے، جو ایک‘‘ لازماں’’ہے’’۔

‘‘پیڈرو پرامو ایک ایسی داستانی کتاب ہے، ایک ایسے ادیب کی لکھی ہوئی جو اپنی زندگی ہی میں خود ایک داستانی کردار بن گیا’’۔

‘‘بنجر میدان ’’کے پبلشر آصف فرخی، جو خود سینیئر افسانہ نگار اور نقاد بھی ہیں، اس کتاب میں شامل اپنے مضمون‘‘شہرِمردہ کا ایک ناول’’ میں اس ناول کی تعبیر کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں؛ ‘‘ پیڈرو پرامو ’’کا قصہ دراصل تین مرکزی کرداروں کے احوال سے مل کر ترتیب پاتا ہے۔ حوان پرسیادو، پیڈرو پرامواور سوزانا سان حوان۔ناول کا آغاز حوان پرسیادو سے ہوا ہےاور اس کے نقطہِ نظر سے دیکھیں تو یہ ناول دراصل اپنی شناخت اور ہدایت کی جستجوکے لیے ایک بیٹے کے سفر کی کہانی ہے۔حوان کی ماں ڈولوریس پرسیادو کا شوہر پیڈرو پرامو تھااور حوان اپنے باپ کے نام سے شناخت نہیں رکھتا۔وہ اپنے باپ کی اکلوتی جائز اولاد ہے۔بسترِ مرگ پر اپنی ماں سے کیے ہوئے وعدےکو پورا کرنے کے لیےحوان پرسیادو کومالا واپس آتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پڑھنے والے بھی ایسے قصے میں داخل ہوجاتے ہیں، جہاں چاروں طرف ماضی کے بھوت اور بدروحیں بھری پڑی ہیں۔اسے غیر مرئی چیزیں دکھائی دیتی ہیں،آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔یہاں تک کہ وہ اس شک میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ شاید وہ خود بھی مرچکا ہے۔حوان کی نظروسماعت کے ذریعے ہم گاؤں کے مردگان کی کے زندگی نامے سے واقف ہوتے ہیں اور حوان کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں کے بکھرے ہوئے ٹکڑوںکو جوڑ کر کومالا اور اس کی بربادی کی ایک تصویر بنا پاتے ہیں’’۔

‘‘حوان کی اس تلاش اور ماضی دریافت کے دوران ایسے فلیش بیک آتے ہیں کہ ہم پیڈرو پرامو کی روداد سے بھی واقف ہونے لگتے ہیں۔پیڈرو پرامو ان زمین داروں کاوارث ہے،جن کا کسی زمانے میں حال اچھا تھا۔ماضی کی دولت اور شان و شوکت، پرچھائیں کی طرح ساتھ چھوڑتی جارہی ہے۔پیڈرو کو سوزانا سان حوان نامی لڑکی سے محبت ہوجاتی ہےاور اس عشق کا اثر اس کی باقی ماندہ زندگی تک قائم رہتا ہے۔لیکن سوزانا وہاں سے چلی جاتی ہےاور پیڈرو کی تنہائی اور بڑھ جاتی ہے۔وہ اپنے باپ کو مرتے ہوئے اور اپنے گھرانے کو رخصت ہوتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے۔نوجوان پیڈرو کے کاندھوں پر اس جائیداد اور اس پر چڑھے ہوئے قرض سے نمٹنے کی ذمہ داری آجاتی ہےمگر اس کے حوصلے بلند ہیں۔آخر کار وہ دھوکے،فریب، چالاکی اور تشدد کے ذریعے سے خوب دولت اکٹھی کرلیتا ہے۔ دولت کے اس حصول کا آغاز وہ اپنے سب سے بڑے قرض خواہ کی بیٹی ڈولوریس پرسیادو سے شادی سےکرتا ہے۔ڈولوریس سے شادی کرکے وہ اس کی دولت اور زمین ہتھیا لیتا ہےاور پھر اسے اس کی بہن کے ہاں رہنے کے لیے بھیج دیتا ہے، جہاں رہ کر اس کی بیوی اس کے مذموم ارادوں میں دخل اندازی نہ کرسکے۔’’

‘‘ناول میں سیدھے سبھاؤ اور تسلسل کے ساتھ واقعات بیان نہیں کیے گئےلیکن ٹکڑوں کو جوڑ نے اور کڑیاں ملانے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا ہوگا۔اس کے بعد ناول کے واقعات دراصل پیڈرو پرامو کے رانچ(Ranch)‘‘میڈیالونا’’ اور اس کی کامیابی کا قصہ ہیں۔یہ رانچ کسی روک ٹوک کے بغیر پھلتا پھولتا رہااور 1910-20کے دوران میکسیکو کے انقلاب کو بھی سہہ گیا۔پیڈرو پرامو زمینوں کا ازحد حریص تھااور اسی وجہ سے اسے زک اٹھانی پڑی۔اسے اپنے گناہوں کی قیمت چکانی پڑی، جب اس کا ناجائز بیٹامیگوئیل پرامو--جو اس کی ناجائز اولادوں میں سے اکلوتا بیٹا تھا جسے اس نے اپنی اولاد تسلیم کیا اور اپنا نام بخشا—ایک سنگین حادثے کا شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے۔ اس کے بعد خبر ملتی ہے کہ سوزاناسان حوان اور اس کا باپ اس علاقے میں لوٹ آئے ہیں۔پیڈرو اپنے بندوبست کے ذریعے اس کے باپ کو موت کے منہ میں پہنچا دیتا ہےاور سوزانا سے تعلقات استوار کرلیتا ہے۔اس کے باوجود وہ اس کے قابو میں نہیں آتی اور جذباتی طور پر اس سے کوسوں دور ، دیوانگی کے عالم میں مرجاتی ہے۔جس دوران کومالا بربادی کا شکار ہوا، پیڈرو کا ایک اور بیٹا ایبنڈو مارٹینیزسامنے آتا ہے، جسے اس نے کبھی اپنی اولاد تسلیم نہیں کیا تھا۔وہ اپنی مردہ بیوی کے کفن دفن کے لیے رقم مانگنے پیڈرو کے پاس آتا ہےاور جب اسے انکار سننے کو ملتا ہےتو وہ نشے اور مدہوشی کے عالم میں اپنے باپ کو مارڈالتا ہے۔یوں اس ناول کے مرکزی کردار اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔’’

ناول کے انجام تک پہنچ کر قاری پر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ کومالا کی تباہی کا ذمہ دار صرف اور صرف پیڈرو پرامو تھا، جس کی زمین اور دولت کے حصول کے لیے حد سے بڑھی ہوئی حرص اور گاؤں کی ہر عورت کو اپنے تصرف میں لانے کی بے محابا خواہش اور کوشش آخر کار کومالا نامی گاؤں کی مکمل تباہی پر منتج ہوتی ہے۔

چکر دار اور سر گھمادینے والے بیانیے کے حامل اس ناول کا اردو میں ترجمہ کارِ آسان ہرگز نہیں تھا۔یہ امر قابلِ مسرت ہے کہ اس ناول کے ترجمے کا کام احمد مشتاق جیسے جید غزل گو نے سر انجام دیا، جو افسانوی ادب کے پارکھ اور مترجم بھی ہیں۔وہ اس سے قبل حوزے سارامیگو کے ناول‘‘ اندھے لوگ’’ کو بھی اردو میں منتقل کرچکے ہیں۔انہوں نے کڑی محنت اور لگن کے ساتھ کے اسے اردو میں منتقل کیا۔اس ناول میں بیان کیا گیا تجربہ اور اظہار کا بالکل انوکھا انداز اردو ناول میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

تری خیر انارکلی۔۔

(اختر عثمان) تری خیر انارکلی تو جنموں لیکھ جلی نورتن ترے درپَے ہی رہے دیوار میں چنوا کر نہ جیے

ادبی سر پرستی اور ادیب کی خود مختاری

تالیف حیدر: اگر کسی طرح کی سرپرستی میں کوئی ادب لکھا جاتا ہے تو وہ ایک خاص طبقے کی حظ ، تکلفات ، اشتہار ، تہذیب ، تفخر اور شان علویت سے متعلق ہوتا ہے اس کے برعکس ادیب کی خود مختاری سے جو فن پارہ سامنے آتا ہے اس میں تکلفات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی