ایک بے ارادہ نظم

ایک بے ارادہ نظم

ریل کی سیٹی
ہوا کے پیٹ میں
سوراخ کرتی جا رہی ہے

الوداعی ہاتھ،
لہراتے ہوئے رومال،
وعدے،
لوٹ آنے کی دعائیں
اور لبوں پر
منجمد ہوتے ہوئے
بوسوں کے سورج

بے ارادہ
پانیوں سے
آنکھ بھرتی جا رہی ہے
ریل کی سیٹی
ہوا کے پیٹ میں
سوراخ کرتی جا رہی ہے!

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

Insomnia

عاصم بخشی:سوچتا ہوں کہ بھلا کیسے میں سو پاؤں گا اب!
روزنِ دید سے کترا کے گزر جائیں گے
آنکھ لگتے ہی مرے خواب بکھر جائیں گے

تماشہ

تنہائی کیا ہے؟
بزرگ راتوں میں
چونی کا تخیل
اٹھنی کا تصّور