Borderline Personality

Borderline Personality
Borderline Personalities
مجھے لیبل دیا گیا تھا، بہت برس پہلے۔۔۔۔۔
میرے ماتھے پر کالک نہیں، یہ لیبل چسپاں ہے۔
ہر روز صبح اٹھ کر آفس جاتے سمے،
دوپہر کے لنچ سے ذرا پہلے، اور سہ پہر میں جب ساۓ
لمبے ہو جائیں۔۔۔
زندگی اونگھنے لگے !
کہ جس میں چاۓ کے کپ سے سانسیں انڈیلی جاتی ہیں
ایک مسلسل جنگ کی صورت تمام ہوتا ہے ہر دن
پھر رات گۓ، جب سپاہی سب اپنے خیموں میں جا دبکتے ہیں
میری کشمکش مگر تازہ دم، انگڑائ لیتی ہے،
اور آنکھوں کی زرد پتلیاں، ذرا سی پھیل کر کھڑکی کے پار جھانکتی ہیں
چاند کے ہالے میں گئے دوستوں کے ہیولے تیرنے لگتے ہیں !
میرے ماتھے کا لیبل دیکھ کر،ہیولے دور بھاگتے ہیں۔۔
اور چاندنی سرمئ ہو کر تاریکی کا کفن اوڑھ لیتی ہے !
ذرا سی دیر کو سہی۔۔۔
پھر صبح ہوتے ہی، گھڑی کا الارم یوں بجتا ہے جیسے،
میدان جنگ کا طبل گونجے !
اور میں محاذ پہ جانے کو تیار، جلدی میں اپنی پیشانی ٹٹولتا ہوں۔۔
'ارے کہاں گیا میرا لیبل، دیکھو کھو گیا شائد۔۔۔
آج شام ہی ساٰئکاٰیٹرسٹ سے نیا لانا پڑے گا !
آج شام ہی !!'

Zia-ul -Haq

Zia-ul -Haq

Zia-ul-Haq is a doctor by profession and is living in U.K. His poems and short stories have been published in "Isharat" and other publications.


Related Articles

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا ہم اُس دن پہلی بار

خاتون خانہ

ثروت زہرا: میں اپنی اولاد کے لئے
دودھ کی ایک بوتل
اپنے صاحب کے لئے تسکین
گھر کے لیے مشین
اور اپنے لیے
ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں

سُر منڈل کا راجا

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا