بوڑھا گوریو

بوڑھا گوریو

میری ذاتی رائے میں ادب کی بنیادی قدر انسان دوستی ہے اور یہی انسان دوستی ہمیں فرانس کے ایک ناول نگار “HONARE DE BALZAC”کے ناول"FATHER GORIOT"میں نظر آتی ہے۔اس فرانسیسی ناول کا ترجمہ اردو میں "بوڑھا گوریو "کے نام سے نسیم ہمدانی نے کیا ہے۔ جس پر محمد حسن عسکری کا مقدمہ بھی ہے۔ جو پڑھنے والے کے لئے فرانس کے کردار اور ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ایک پس منظر تیار کرتا ہے۔ انیسویں صدی میں لکھا گیا یہ ناول ہمارے لئےیہ مسئلہ ہی نہیں پیدا کرتا کہ وہ کس عہد میں کن رجحانات سے متاثر ہو کر لکھا گیا۔وہ عہد رومانوی تھا یا اشتراکی، فرد کا تعین معاشرے کے ساتھ ہوتاتھایا اس کے بغیریا اس عہد کے ادیبوں کا مطمح نظر افادی ادب لکھنا تھا یا کچھ اور۔بالزاک نے اپنے ناولوں کے سلسلے کو"طربیہ انسانی" کا موضوع دے کر مختلف ذیلی عنوانات کے تحت لکھنا شروع کیا، جس کو خانگی زندگی،اضلاع کی زندگی، پیرس کی زندگی، سیاسی، عسکری اور دیہاتی زندگی کے خانوں میں تقسیم کیا گیا۔اس تقسیم کے تحت اس نے انیسویں صدی کے فرانس کی تہذیب اور معاشرت کواپنے ناولوں میں ہلتا ڈلتا دکھایا ہے۔ "بوڑھا گوریو" اس کی اضلاعی زندگی کے سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے،جس میں وہ نہایت سفاکانہ حقیقت نگاری کامظاہرہ کرتا ہے،اس ناول کو پڑھنے کے بعد قاری پر کسی قسم کا انکشاف نہیں ہوتا اور نا ہی حیرانی ہوتی ہے، بھلے ہی آج ہم اس معاشرے میں نہیں ہیں جس کے متعلق یہ لکھا گیا ہے، لیکن اس ناول میں جن قدروں کا زوال دیکھایا گیا ہے اور جن اصولوں اورقوانین پر کاری ضرب لگائی گئی ہے وہ آج ہمارے لئے اتنے ہی مشکوک اور لا یعنی ہو چکے ہیں جتنے اس عہد میں تھے۔ بالزاک کا ناو ل افادی اور مقصدی اد ب کا اعلی نمونہ ہے۔وہ اپنے ناول کے ذریعہ اشتراکیت کادرس دیتا ہے۔یہ اشتراکیت کارل ماکس کے انداز کی نہیں ہے، بلکہ معاشرے اور فرد کےصالح رشتوں پر مبنی ہے۔"بوڑھا گوریو"کی کہانی اس بوڑھے باپ کی کہانی ہے جو اپنی بیٹیوں سے مجنونانہ قسم کی محبت کرتا ہے۔ ان کی خوشی اور سکون کے لئے اپنے بدن کے خون کے آخری قطرے تک کو نچوڑ سکتا ہے اور ایک متوسط گھرانے کےنوجوان لڑکے راستیناک یوژین کی جو پیرس میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتا ہے لیکن پیرس کے امراء ونوابین اور باہر سے خوبصورت نظر آنے والی پرفریب حسینائیں، ان کی جگمگاتی ہوئی زندگیاں، اسے اپنے جانب کھینچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ دوتراں اس کہانی میں ایسا کردار ہے جو مصنف کے الفاظ کو دیگر کرداروں کے مقابلے میں زیادہ واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی کے متعلق ایک واضح اور صاف نظریہ موجود ہے۔ جو کشمکش اسے نیکی اور بدی میں نظر آتی ہے اور زراندوزی کے لئے جن ممکنہ تدبیروں کا استعمال اس کے ارد گرد کے لوگ کرتے ہیں وہ اس میں کوئی خامی نہیں دیکھتا،اس کے نزدیک نیکی بدی جیسی کوئی شئے نہیں،اصول اور اخلاقیات کی کوئی حقیقت نہیں،مال و منفعت کے لئے کسی کا خون بہانے سے بھی دریغ نا کرنے پر وہ خود کو کسی طرح کے مغالطے میں نہیں رکھتا ہے۔ اسے اس بات کا اعتراف ہے کہ اس نے کسی کا خون کیا،لیکن انسان کی اس سفاکی کے مقابلے میں جس میں وہ اپنے ہراعمال کا ایک جواز ڈھونڈھ نکالتا ہے وہ اپنے تیئں ایماندار ہے۔کہانی صرف انہیں تین کرداروں کے گرد نہیں گھومتی بلکہ اس کی بیٹیاں ہیں، بورڈنگ ھاؤس کے کرائےدار ہیں،ان عورتوں کے شوہر ہیں، یہ وہ تمام کردار ہیں جس سے مل کر بوڑھا گوریو ایک المناک انجام سے دوچار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی سفاکانہ بے نقابی سے ہمیں کراہیت نہیں ہوتی، کیوں کہ اصل زندگی اتنی ہی سفاکی کے ساتھ انسانوں سے رویے برتتی ہے۔جذبہ کی شدت،تخیل کی گیرائی اور بے لاگ حقیقت ان تینوں شرابوں کو وہ ایک پیالے میں انڈیل کر ایسی شراب تیار کرتا ہے جس سے پینے والے کی نگاہیں اس قدر شفاف اور روشن ہو جاتی ہیں جیسے ایک ایکسرے مشین، جو انسان کے اندرون کی سڑن گلن کو ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔اسی طرح انسان کی روشن نگاہیں بھی معاشرے کی اس سطح کو دیکھ پاتی ہیں جو ہونے کے باوجود اس کی برہنہ آنکھوں سے چھپی ہوئی تھی۔

بالزاک ژورج ساں کو ایک خط میں لکھتا ہے کہ "مجھے غیر معمولی انسانوں سے محبت ہے میں خود بھی ایک غیر معمولی آدمی ہوں،میں چھوٹوں کو بھی بڑا بنا دیتا ہوں،چنانچہ ان کے سارے عیب بھی بڑے نظر آنے لگتے ہیں۔"اد ب کی یہ خصوصیت ہی رہی ہے کہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر ہو بہو بیان کرنے کے بجائے کچھ مبالغے سے بیان کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بالزاک اپنی اس خوبی کی وجہ سے کرداروں کو لا فانی بنانے میں کس درجہ کامیاب ہوا ہے۔بالزاک کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ اپنے کرداروں کی کوتاہیوں سےاوران کے انجام سے بے خبررہتا ہےاور جذبے کو پوری شدومد اور مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس کے کردار ارسطو کے ڈرامائی قواعد کے مطابق اپنے معصوم لیکن حد سے بڑھے ہوئے جذبے کے تحت ایسے المیہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے قاری کےدل میں ان کے لئے ترحم آمیز جزبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک خاص معاشرے کی ترجمانی کرتے ہوئےبھی یہ ناول ہمارے لئے قابل احترام اسی لئے ہیں کہ ان میں ان قدروں کا المیہ بیان کیا گیا ہے جو ہماری نسل کا بھی نوحہ ہے۔ مال ودولت جمع کرنے کی ہوڑ میں کبھی حیوان سے بدتر انسان اور کبھی سوسائٹی کے دباؤ میں پسنے والا معصوم آدمی یا کبھی انسان کے فطری جذبوں کو مادی منفعت کی بھینٹ چڑھا دینے والادرندہ،کیا یہ تمام روپ ہمارے عہد میں موجود نہیں،کیا ہم نے زندگی میں کامیابی کا مطلب محض مادی کامیابی مراد نہیں لیا ہے، کیا سماج کے اونچے اور نچلے طبقے کی تقسیم بتدریج رائج نہیں،کیا آج بھی اونچے طبقہ کی طرف حریصانہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا اور ان تک پہونچنے کے لئے معصوم لوگ نہ جانے اپنے کس کس جذبے کا خون کرتے ہیں۔یہ ناول صرف "بڈھے گوریو" کا المیہ نہیں ہے، اس جیسے آج بھی نہ جانے کتنے ایسے لوگ ہیں جو کسی نا کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہونے کی وجہ سے اس گوریو سے زیادہ قابل رحم ہیں۔ ایک کردار محض اپنی زندگی کی تباہ کاریاں ہی نہیں بیان کرتا،بلکہ اس کے درپردہ اس معاشرے کے رخ سے نقاب الٹتا ہے جو جیتے جی انہیں کسی طورتو سکون نہیں لینے دیتے مرنے کے بعد بھی اس کلمے کو ادا کرنے والے صرف اکا دکا لوگ ہی ہوتے ہیں کہ" مرنے والے میں بڑی خوبیاں تھیں ایسا انسان جو بے غرض اور بے لوث محبت کرے اس کا حاصل کیا آئےگا۔"اس حقیقت سے ہرکوئی بخوبی واقف ہوتا ہے مصنف نے قدم قدم پر انسانی نفسیات کی گتھیوں کی جس انداز سے گرہ کشائی کی ہے وہ قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کیا انسان واقعی حالات کا مارا ہوتا ہے یا اس سے زیادہ خود غرض اور خود پرست کوئی ہو سکتا ہے۔اس کی دونوں بیٹیاں جو آخری وقت میں اپنے باپ سے نہیں مل سکتیں کیوں کہ انہیں دعوت میں جانا ہوتا ہے یا وہ بورڈنگ ھاؤس کی مالک جسے اس بات کی فکر ستائے جارہی ہے کہ بوڑھا گوریو کمرے کا کرایہ ادا کئے بنا ہی مر گیا ہے اور اس کے تجہیز و تکفین میں جو چادر استعمال کی گئی ہے اس کا پیسہ کون ادا کرےگا اور وہ کلیسا جو محدود پیسوں میں مرنے والے کے لئے بہتر دعا کا انتظام نہیں کر سکتا،کیا یہ سب حالات کے مارے ہوئے لوگ ہیں؟ اگر یہ ان تمام کی شخصی کمینگی نہیں کہلائے گی تو اور کیا ہے مصنف یہ جانتا ہے کہ انسان کے پاس سب سے بڑا ہتھیار اپنے شعوری گناہوں پرتاسف کا وہ احساس ہے جس پر دو چار آنسو بہا کر وہ بری الذمہ ہو جاتا ہے ان کے کردار المیہ ہیں زندگی کا جن سے بیک وقت محبت بھی ہوتی ہے اور نفرت بھی،کیوں کہ ہر کردار اپنے عمل سے واقف ہے،وہ جانتا ہے کہ کیا کر رہا ہے، حتی کہ وہ بوڑھا گوریو بھی، اسے اعتراف ہے کہ پچھلے دس برسوں سے اس کی بیٹیوں کا رویہ اس کی طرف سے بدل گیا ہے، پھر بھی وہ ان سے محبت کرتا ہے۔یہاں ہر کردار اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔کمال کی بات یہ ہے کہ اس تھیوری کو بہت بعد میں جا کر ژاں پال سارتر نے پیش کیا۔ نفسیاتی پیچیدگی کا بیان ہو یا پھر موجودیت اور اختیار کل کی تھیوری، یہ سب ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ایک فن کار سائنس داں سے کم نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ہرچھوٹی تحریر انسانی زندگی کو بہتر بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہوتی ہے،مختصرا ًیہ ناول سائنسی انداز میں لکھا گیا ایک اخلاقی درس ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Sadaf Fatima

Sadaf Fatima

صدف فاطمہ اردو زبان کی نئی نسل سے تعلق رکھتی ہیں، یہ اردو میں افسانے بھی لکھتی ہیں اور شعر بھی کہتی ہیں، ان کا اردو زبان و ادب اور اسلامیات کا مطالعہ خاصہ وسیع ہے، اردو میں تنقیدی اور تحقیقی مضامین بھی لکھتی رہی ہیں۔ بنیادی طور پر لکھنو کی رہنے والی ہیں، مگر ان دنوں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے ایم فل کر رہی ہیں۔


Related Articles

دس برسوں کی دلی - قسط نمبر1

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں نے دہلی میں دوردرشن اردو کے کچھ معمولی سے کام کرکے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ اب تو ہم بھی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں، ہماری بھی عزت چوک چوراہوں پر ہے، آٹو رکشہ والے کو آنکھیں دکھائی جاسکتی ہیں، معمول کی ناانصافیوں کو غصے کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ان پر اپنے جرنسلٹ ہونے کی دھونس جمائی جاسکتی ہے اور بہت سے ایسے کام کیے جاسکتے ہیں جو کم از کم خودتشفی کے زمرے میں آتے ہوں۔

کشف

میں جھٹ سے اپنا وجود سمیٹتے ہوئے دور بھاگ جاتی ہوں"نہیں یہ وہ نہیں ہے جو مجھے سہار سکے، آخر یہ سب سجھتے کیوں نہیں کہ میں ٹکڑوں میں زندہ نہیں رہ سکتی، مجھے تقسیم ہونا نہیں آتا، میں تو اکائی کی قائل ہوں۔ م

برتن

محمدشعیب برتن، جھوٹے برتن۔ جو جب کھانے والوں کے ہاتھ آتے ہیں ان کے ہاتھوں میں موجود چمچے ان برتنوں