عالمی ادب

Back to homepage


جنگ کے بعد

کازواؤ ایشی گرو: میں نے دیکھا کہ دادا کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ دھند کے پیچھے سےغور سے مجھے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایسے دیکھ رہے تھے، جیسے میں کوئی بھوت ہوں۔

Read More

انڈہ

اینڈی ویئر: تم نے میری طرف حیرانی سے دیکھا۔تمہیں میں خدا کی طرح تو نہیں لگ رہا تھا۔بس ایسا ہی نظر آتا تھا جیسے کوئی بھی اجنبی مرد۔یا ممکن ہے عورت۔ یا شاید کوئی مبہم سی بااختیار شخصیت۔ خدا کی بہ نسبت کسی پرائمری اسکول کا استاد۔

Read More

تقدیر

میخائل شولوخوف: یہ بوڑھے لوگ جن کے سَر جنگ کے کٹھن سالوں نے سفید کر دئیے ہیں، صرف راتوں کو نیند میں ہی نہیں روتے بلکہ دن کی بیداریوں میں بھی روتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آدمی بر وقت مُنہ ایک طرف پھیر لینے کے قابل ہو۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ ایک بچے کا دل نہ دُکھنے دیا جائے! اُسے وہ بے اختیار آنسُو نظر نہ آنے دیا جائے جو کہ ایک مرد کے رُخساروں کو بھی جلا دیتا ہے!!!

Read More

بادشاہ سنتا ہے

اتالو کلوینو: اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔

Read More

نیا والو

لارا سالومن: میرے خاندان میں دل کے امراض عام ہیں۔ میرے والد کو اپنے تیسرے عشرے کے آغاز میں اپنا ایک والو، سور کے والو سے بدلوانا پڑا اور میرے چچا کی وفات پچاس کے پیٹے میں ہارٹ فیل ہونے سے ہوئی۔

Read More

ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں

ایلکس ایپسٹائن: ایک لائٹ ہاؤس نے خود کو ایک کشتی میں تبدیل کیا اور سارے سمندر دیکھ ڈالے اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو ایک چٹان سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔

Read More

روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے

نزار قبانی: روشنی زیادہ اہم ہے
لالٹین سے
نظم زیادہ اہم ہے
بیاض سے
اور بوسہ زیادہ اہم ہے
ہونٹوں سے

Read More

غیر حاضر مالک مکان

چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ
مسئلہ جب یہ ہو
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو

Read More

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

یاہودا امیخائی: میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
Read More

نرم گھاس میں سرگوشیاں

ہانس بورلی: تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
Read More

اگر یہ انسان ہے (انتخاب)

پریمو لیوی: تمام صحت مند قیدی (ماسوائے کچھ ایسے مصلحت اندیشوں کے جو آخری لمحے میں بے لباس ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپ گئے) 18جنوری 1945 کی رات کے دوران کوچ کر گئے۔ مختلف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے یہ کم و بیش بیس ہزار افراد تو ضرور ہوں گے۔انخلاء کی پیش قدمی میں یہ تقریباً مکمل طور طور پر غائب ہو گئے۔ البرٹو ان میں ہی تھا۔شاید کسی دن کوئی ان کی داستان رقم کرے۔
Read More

درد مشترک

او ہنری: نہیں نہیں۔ "چور نے اس کی آستین تھام کر کہا،"میرے پاس پیسے ہیں فکر مت کرو تمہیں میٹھے تیل میں لونگ ڈال کے ذرا مالش بھی کروانی تھی۔
Read More

ہمیشہ بدمست رہو

عاصم بخشی:ہمیشہ بدمست رہو
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا
واحد راستہ کہ
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے
Read More

ہمارے لوگ

میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے
Read More

بٹوارہ اُس برّعظیم کا

ڈبلیو ایچ آڈن: اسے اس سر زمین کے حصے بخرے کرنے کو بھیجا گیا
جس کو اس نے کبھی بُھولے سے بھی دیکھا نہ تھا
وہ ان دو قوموں کے درمیان منصفی کرنے کے محال کام سے دو چار تھا
جو باہم خطرناک حریف تھے
Read More