عالمی ادب

Back to homepage


ہمارے لوگ

میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے
Read More

بٹوارہ اُس برّعظیم کا

ڈبلیو ایچ آڈن: اسے اس سر زمین کے حصے بخرے کرنے کو بھیجا گیا
جس کو اس نے کبھی بُھولے سے بھی دیکھا نہ تھا
وہ ان دو قوموں کے درمیان منصفی کرنے کے محال کام سے دو چار تھا
جو باہم خطرناک حریف تھے
Read More

اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح

اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔
Read More

اصل و نسب

وقتِ ازل میں ایک چینخ تھی
جس نے پیدا کیا خون
جس نے بنائی آنکھ
جس نے پیدا کیا خوف
Read More

دیوان المعری-قسط نمبر1

تم اس آسماں کے نیچے
ایستادہ ہو اب بھی
جس کے چرخ
لاچاری میں گھومتے ہیں
Read More

ٹی ایس ایلیٹ کا خط جارج آرویل کے نام

میرے خیال میں میری اپنی تسلی اس اخلاقی تمثیل سے اس وجہ سے نہیں ہو پا رہی کہ اس کا تاثر سیدھے سیدھے رد کر دینے کی نفسیات سے عبارت ہے۔
Read More

راجا ہریش چندر

اس وقت آسمان سے امرت کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور روہتاس زندہ ہو اٹھا۔ ہریش چندر اور شِویا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ انہوں نے سب دیوتاوں کو پرنام کیا اور روہتاس کو چھاتی سے لگا کر پیار کرنے لگے۔
Read More

تنہا

تنہا، بالکل تن تنہاکوئی شخص
بلکہ کوئی بھی شخص
اکیلے اس کا سُراغ نہیں لگا سکتا
Read More

گزرتا ہُوا وقت

تمہاری جِلد ایسی کہ جیسی صبح
میری (جلد ایسی) جیسے رات
Read More

بڑھاپا جاگ جاتا ہے

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے
Read More

کالی ناگ

کرشن کی مار کی تاب نہ لاکر اس نے زہر اگلنا شروع کر دیا، مگر کرشن کا حملہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کالی کے زہر کا سارا خزانہ خالی نہیں ہو گیا۔
Read More

الٰہیات

اصلًا آدم نے سیب کھایا
اور حوا نے آدم خوری کی
پھر سانپ حوا کو ہڑپ کر گیا
یہی تو ہے وہ منحوس اندھیر نگر کی آنت
Read More

غیر معمولی عورت

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!
Read More

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

جو شعر در شعر کہے بہ راہے مدح سرائی
بہ اندازِ رعد خوش گذران مہینہِ جُون جب شجر ارغوان ہو پورا کِھلا،
لیکن یہ علم میری زبان گنگ کرائے کہ
تم لوگوں نے اسے کیسے اندازِ گراں قدر صنّاعی سے موزوں کیا ہوگا۔
Read More

شہر

شہر، اگرچہ ایسا کوئی یقین نہیں رکھتا
سب کو خوش آمدید کہتا ہے، جیسے وہ اکیلا آیا ہے۔
ضرورت کی فطرت دکھ کی طرح
بلکل ہر ایک کے اپنے مُطابق ہوتی ہے
Read More