عالمی ادب

Back to homepage


میں پھر اٹھوں گی

میں تاریخ کے شرمناک گھروندوں سے نکلتی ہوں
اُس ماضی میں سے سفر شروع کرتی ہوں
جس کی جڑیں دُکھ، درد اور تکلیف میں دبی ہوئی ہیں
میں اُچھلتا، ٹھاٹھیں مارتا ہُوا، وسیع و عریض ایک تاریک سمندر ہوں
جو اپنی لہروں میں بہتا جا رہا ہے
Read More

ساکت زندگی (آوازیں)-پیڈرو سیرانو کی ایک نظم

آپ ایسے دیکھتے ہیں جیسے آپ یہاں دائم موجود رہیں گے۔
آپ اسی انداز ہی سے تو دیکھتے ہیں، بغیر کسی دلیل کے سہارے کے
Read More

پورا چاند اور ننھی فرائیڈا

ایک خوشگوار چھوٹی سی شام
کتے کے بھونکنے اور
بالٹی کے کھڑکنے کی آواز سے بھری ہوئی ہے
اور تم یہ سب سن رہی ہو
Read More

میں اگر تمہیں بتا پایا

وقت تو منہ نا کھولے گا، پر میں نے تجھے بتایا تھا
وقت تو بس اتنا جانے کہ ہمیں کس بھاؤ پڑے گی
میں اگر بتا پایا تو تمہیں بتاؤں گا۔
Read More

راجا شوی اور کبوتر

مجھے اور میرے بچوں کو بھوکا رکھ کر دھرم نبھانا بے معنی ہے۔پرندوں کو مارکر کھانا میرا بھی دھرم ہے۔سچا دھرم وہی ہے جو دوسروں کے دھرم میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
Read More

یکش اور یدھشٹر

پانی پینے کے لیے وہ جھکا ہی تھا کہ ایک غیبی آواز سنائی دی۔ "ٹھہرو! یہ تالاب میرا ہے۔ اس کا پانی صرف وہی پی سکتا ہے جو میرے سوالوں کا صحیح جواب دے۔"
Read More

اندھیرا ہونے کے بعد چہل قدمی

اس طرح کی ایک چھٹے بادلوں والی صاف آسمان کی رات
روح کو آزاد اونچا اڑانے کو کافی ہوتی ہے
ایک تھکا دینے والے دن کے بعد
گھنٹہ گھر کا منظر کافی متاثر کرتا ہے
ہلکے سے بور کرنے والے
اٹھارہویں صدی جیسے احساس کی مانند
Read More

جنازے کا کرب

روک دو سب گھڑیال، کاٹ دو ان ٹیلیفونوں کو
چُپ کرا دو سب کتوں کو منہ میں ڈالے تر نوالوں کو
گُھونٹ ڈالو گلے سب پیانوؤں کے، اور گُھٹے گُھٹے سے ڈھول کی تھاپوں میں
لے آؤ باہر میت کو، اور آنے دو گِریہ داروں کو
Read More

دعوت

مجھے آسمان کی جانب مختصر رستہ مِل گیا ہے
جس رستے پہ صرف میں چلا ہوں۔
لیکن آج تمُ بھی میرے ساتھ چلو گی،
تم میرے بازو کی سوار بنو گی
Read More

ایک دوسرا عہد

ہم کسی بھی مفرور کی مانند ہیں
بہت سے پھولوں کی طرح جنہیں گننا محال ہو
اور بہت سے جانوروں کی طرح جنہیں یاد رکھنا ضروری نا ہو
یہ آج ہی ہے جس میں ہم حیات ہیں
Read More

ایک جابر کا سنگِ مزار

جب وہ ہنستا تو معززین و شُرفاء بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے
اور جب وہ روتا تو چھوٹے چھوٹے
بچے گلیوں میں مرتے جاتے
Read More

امیرِ بُخارا کا عدل

ان کی توجہ دو آدمیوں کی طرف مبذول ہوئی جن میں سے ایک گنجا اور دوسرا داڑھی والا تھا۔ دونوں اپنے اپنے شامیانوں کے نیچے کھاری زمین پر لیٹے تھے ۔
Read More

ننھی ماچس فروش

وہ شام بھی کیا سرد شام تھی ، معلوم ہوتا تھا کہ سرد ہواوں نے سورج کو بھی بجھا دیا ہو ، آہستہ آہستہ سرد ہوتے کوئلے جیسے سیاہ پڑتے ہیں بالکل ویسے ہی یہ شام بھی سیاہ ہوتی جا رہی تھی سال کی یہ آخری شامیں آج سردی سے کچھ نیلگوں نظر آتی تھیں ایسے میں جب شہر کے رہنے والے امراء آتشیں انگیٹھیوں کے سامنے لیٹے ، گرم شالیں اوڑھے اپنے بچوں کو مسیح کی غریب پروری کی داستانیں بیان کر رہے تھے
Read More