Literature

Back to homepage


قبریں

نصیر احمد ناصر:
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں
Read More

سرخ شامیانہ۔ ساتویں قسط

حسین عابد: شرم نہیں آتی، شراب پیتے ہو؟ شکل سے تو مسلمان لگتے ہو"، پستول بردار نے بوتل پر قبضہ کرتے ہوئے شدید نفرت اور غصے سے راشد کے جبڑے پر پستول کا دستہ رسید کیا۔
Read More

یومِ پاکستان پر حکمرانوں سے

جمیل الرحمان:
تم نے ہر گھر سے ستارے نوچ کر
تیرگی کا آئینہ صیقل کیا
بے حسی کو عام کرنے کے لیے
اہل دل کو بھی وہاں پاگل کیا
Read More

پُرسہ

علی زیرک: خبروں میں ان تابوتوں کی گنتی کرنا
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
Read More

تیری بیلیں تیرے پھول

علی اکبر ناطق: دُھول گگن کا رہنے والا، گلے میں غم کا ہار
دھوپ کے سائے میں بُنتا ہے دن کے روشن تار
شام تھکے تو آ جاتا ہے پورب دیس کے پار
Read More

وقت

علی محمد فرشی: تین چڑیلیں
ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں
Read More

تلاش

ثروت زہرا: مجھے یقین ہے
کہ میری نال خود مجھے
میری قبر تک
تلاش کرتی ہوئی پہنچ جائے گی
Read More

مَیں بھگوڑا کیوں بنا؟

ذکی نقوی: جوشوا کو جس دھوکا دہی اور بے ایمانی کے ساتھ امریکی فوج میں بھرتی ہونے پر اُکسایا گیا، یہ ایک نئے پڑھنے والے اور امریکی فوج سے کم واقفیت رکھنے والے کے لئے کافی حیران کُن ہو گا
Read More

کابوس

رضی حیدر: مری آنکھ یک دم کھلی دیکھتا ہوں،
کھلی کھڑکیوں سے ، سریع گاڑیاں چیختی تھیں-
کہ گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز اتنی بلند سے بلند تر ہوئی جا رہی تھی
Read More

نولکھی کوٹھی - چھٹی قسط

علی اکبر ناطق: سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔
Read More

سرخ شامیانہ - چھٹی قسط

حسین عابد: سنٹر پر نئے ڈاکٹر کی آمد کی خبر دور دراز تک پھیل چکی تھی، اپنے کوارٹر کے دروازے پر شب خوابی کے پاجامے میں ملبوس شاہد نے دیکھا، وہ مریض خواتین و حضرات شاید سورج کے ساتھ ہی گھروں سے نکل پڑے تھے اور جوق در جوق ڈسپنسری کے صحن میں جمع ہو رہے تھے۔
Read More

اليعازر مر گیا

رضی حیدر: آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ
Read More

میرا نازک موتی

تنویر انجم: ایک ہی موتی ملا ہے مجھے
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی
Read More

تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر

ممتاز حسین: تقریر کرنے والوں کے ہونٹوں پر
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں
Read More

راندہء درگاہ

کے بی فراق: چنالی : گوادر کے جنوب میں پہاڑی کے بالکل ساتھ ہی واقع ایک تاریخی جگہ کا نام جہاں چیچک زدہ لوگوں کو رکھا جاتاتھا۔
Read More