Literature

Back to homepage


نظم (تصنیف حیدر)

تصنیف حیدر: خودکشی حرام نہیں
بلکہ ایمان کی پہلی شرط ہے

Read More

لال پلکا

نصیر احمد ناصر: کھول کر دیکھوں
لکھا ہے کیا خطِ تقدیر میں
کتنے یگوں کی قید ہے
کتنی رہائی ہے

Read More

میں ایک آنسو اکٹھا کر رہا ہوں

سید کاشف رضا: میری آنکھوں میں ایک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے
میں اسے ایک آنسو میں جمع کر لوں گا

Read More

منی پلانٹ

ثروت زہرا: پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں

Read More

ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ
ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ

Read More

عجیب الخلقت

تالیف حیدر: نہانے کا انہیں ذرا شوق نہ تھا۔ میں نے آخری بار نہانے کی تاریخ معلوم کی تو پتہ چلا کہ اس کو گزرے ایک عرصہ ہو گیا ہے۔ بدن پر میل کی کئی پرتیں جمع ہو گئیں تھی جس کی وجہ سے صحت نکل آئی تھی۔

Read More

کائنات کا آخری اداس گیت

نصیر احمد ناصر: کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے

Read More

نعمت خانہ - اکیسویں قسط

خالد جاوید: غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔

Read More

نولکھی کوٹھی - اکتسویں قسط

علی اکبر ناطق: سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔

Read More

واپسی

محمد عباس: میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔

Read More

گوتم کی انوکھی پرکھشا

ناصرہ زبیری: اے انسانی دکھوں کے آنت بھید کی پرتیں کھولنے والے!
تمہارے نروان کی روشنی خطرے میں ہے

Read More

بازیابی

رضوان علی: زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

Read More

مجھے ایک سرجن کی تلاش ہے

حسین عابد: میں اس مجنون نوحہ گر کے ساتھ اب نہیں جی سکتا
میں دل کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ جیوں گا
جو اندھا دھند گالیوں سے لبریز ہے

Read More

لوتھ

محمد حمید شاہد: بسین کے اِس معصوم اور بے ضرر حوالے کوبعد ازاں وقوع پذیر ہونے والے سانحوں نے ثانوی بنادیا تھا۔ اب تو اُس کی یادوں میں بسین کے اَندر بپھرے پانیوں کا شراٹا بہہ رہا تھا اور وہ ایک ایک منظر پوری جزئیات کے ساتھ دیکھتا تھا۔

Read More

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات

رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔

Read More