Literature

Back to homepage


دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔

Read More

محبت کا سن یاس

سلمان حیدر: لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں

Read More

جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار

Read More

ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

حفیظ تبسم: تمہارے خواب
نیلے رنگ کی عینک پہنتے تھے
جو سرخ دھبوں کو سبز میں تبدیل کر دیتی ہے

Read More

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

نصیر احمد ناصر: خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں

Read More

خواب کے دروازے پر

نصیر احمد ناصر: میں تمہیں
خواب کے دروازے پر
اسی طرح جاگتا ہوا ملوں گا

Read More

جیرے کالے کا دکھ

محمد جمیل اختر: وہ صابن سے چہرے کو دن میں کئی کئی بار رگڑتا کہ شاید یہ داغ ختم ہوجائے،اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ بھلا قسمت کے لکھے داغ بھی کبھی صابن سے دُھلے ہیں؟

Read More

اک کسی دن

سوئپنل تیواری: سپاٹ چہروں اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
کبھی جو ہنستا نہ بولتا ہے

Read More

بوڑھا گوریو

صدف فاطمہ: نفسیاتی پیچیدگی کا بیان ہو یا پھر موجودیت اور اختیار کل کی تھیوری، یہ سب ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ایک فن کار سائنس داں سے کم نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ہرچھوٹی تحریر انسانی زندگی کو بہتر بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہوتی ہے،مختصرا ًیہ ناول سائنسی انداز میں لکھا گیا ایک اخلاقی درس ہے۔

Read More

خواب کا ڈمرو

رضی حیدر: ڈارون کی لاش پہ تانڈو ناچ رچانے والا بندر
پوچھ رہا تھا
نیٹشے کے یبھ کو سن کر زرتشت نے آخر بولا کیا تھا

Read More

رشتے کا ایک برس

تالیف حیدر: موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔

Read More

میرا سایہ

عذرا عباس: لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

Read More

ہمارے لوگ

ڈایان ارنز: اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟

Read More

اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

نصیر احمد ناصر: اجنبیت ۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے

Read More

یکم اپریل 1954ء

نصیر احمد ناصر: ماں نظم کو گود میں لیے بیٹھی رہتی
نظم کے ہاتھ چومتی
اور ایک الُوہی تیقن سے مسکرا دیتی

Read More