دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔

Read More

قومی شناختی کارڈ

ذکی نقوی: گونگا مصلّی اب تو کچھ نیم پاگل سا بھی لگنے لگا ہے۔ کسی نے بتایا ہے کہ لفظ 'شناختی کارڈ' سن کر وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنی گونگوں کی بولی میں بہت گالیاں بکتا ہے۔

Read More

سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر

محمد جمیل اختر: اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (چھٹی کہانی)

تصنیف حیدر: ہر بار سمندر کی جو لہر آتی، میں اس پر کود کر کسی جنگلی بھوکے اژدہے کی طرح حملہ کرتی اور پھر اس کے زور سے بہت دور تک کھلکھلا کر واپس پلٹتی ہوئی آتی۔

Read More

مظہر حسین سید کی دو کہانیاں

مظہر حسین سید: گولی پیٹ کو چیرتے ہوئے گزر گئی تھی۔ شدید درد اور جلن کے احساس کے ساتھ معلوم نہیں وہ کتنے منٹ تک سرپٹ بھاگتا رہا اندھا دھند جھاڑیوں اور درختوں سے ٹکراتے ہوئے وہ مزید زخمی ہو چکا تھا ۔ اُس کی چیخیں پورے جنگل میں گونج رہی تھیں۔ دوڑتے دوڑتے وہ بے دم ہو کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔

Read More

پارو

محمد حمید شاہد:لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (پانچویں کہانی)

تصنیف حیدر: نصرت اور میں فارغ اوقات میں خوب باتیں کیا کرتے تھے، میں اسے اپنے تازہ افیئرز کے بارے میں بتایا کرتی اور وہ مجھے پڑھائی لکھائی، گھر بار، کیمپس اور ہاسٹل کے بورنگ مسئلے اپنے بھولے بیانیے کے ساتھ سنایا کرتی، جنہیں میں قہقہے مار مار کر سنا کرتی تھی۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (چوتھی کہانی)

تصنیف حیدر: اگر اس دھرتی پر کوئی آخری پودا بھی چائے کا بچ جائے تو میں اپنے وجود کی جنگ کے لیے لوگوں کو قتل کرکے بھی اسے حاصل کرنے کی جدوجہد کرسکتی ہوں۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (تیسری کہانی)

تصنیف حیدر: میں بی اے سکینڈ ائیر کی طالبہ ہوں اور اب میں کلاس میں جارہی ہوں ، جو میرے اونگھنے اور باہر دیکھتے رہنے کی سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

تصنیف حیدر: وہ شام ایک خواب کی مانند تھی، میرے دوسرے خوابوں کی طرح۔میں اپنی ذات کی الجھنوں کو اتنی آسانی سے نہیں بتا سکتی۔بدن تو خیر جو الٹ پھیر کررہا تھا وہ ایک دوسری بات ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ذہن میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔

Read More

شکن

صدف فاطمہ: اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔

Read More

مسکراہٹ

رفاقت حیات: اس نے میری گردن کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور میرے گالوں کو چومنے لگا۔ پھر اس کے دانت گالوں میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ اس کی غلیظ رال چہرے پر پھیل گئی۔ میں نے اس کے بال کھینچے، پرے دھکیلنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے نتھنوں سے گرم سانسیں میری جلد کے مساموں میں گھسنے لگیں۔

Read More

جنگ کے بعد

کازواؤ ایشی گرو: میں نے دیکھا کہ دادا کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ دھند کے پیچھے سےغور سے مجھے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایسے دیکھ رہے تھے، جیسے میں کوئی بھوت ہوں۔

Read More

انڈہ

اینڈی ویئر: تم نے میری طرف حیرانی سے دیکھا۔تمہیں میں خدا کی طرح تو نہیں لگ رہا تھا۔بس ایسا ہی نظر آتا تھا جیسے کوئی بھی اجنبی مرد۔یا ممکن ہے عورت۔ یا شاید کوئی مبہم سی بااختیار شخصیت۔ خدا کی بہ نسبت کسی پرائمری اسکول کا استاد۔

Read More

تقدیر

میخائل شولوخوف: یہ بوڑھے لوگ جن کے سَر جنگ کے کٹھن سالوں نے سفید کر دئیے ہیں، صرف راتوں کو نیند میں ہی نہیں روتے بلکہ دن کی بیداریوں میں بھی روتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آدمی بر وقت مُنہ ایک طرف پھیر لینے کے قابل ہو۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ ایک بچے کا دل نہ دُکھنے دیا جائے! اُسے وہ بے اختیار آنسُو نظر نہ آنے دیا جائے جو کہ ایک مرد کے رُخساروں کو بھی جلا دیتا ہے!!!

Read More