عامر صدیقی کے تین افسانے

کارنس ’’میں اسے گڑیا سے کھیلنے نہیں دوں گی۔‘‘ کمرے کے سناٹے کو چیرتی، تین سایوں میں سے ایک کی سرگوشی ابھری۔۔۔۔۔۔اور دلوں میں اتر گئی۔۔۔۔ ۔۔۔سنگدلی، سفاکیت، پختہ ارادہ ۔۔۔تذبذب، نیم دلی،پس و پیش ۔۔۔مظلومیت،بے بسی، تاریکی ’’چوں چوں

Read More

ہیلو مایا

للت منگوترہ:

Read More

التوائے مرگ (حوزے سارا ماگو)

پرتگالی سے انگریزی: مارگریٹ یُل کوسٹا انگریزی سے اردو: مبشر احمد میر نئے سال کے پہلے دن کوئی نہیں مرتا۔ جس کے نتیجے میں سیاسی حکمرانوں، مذہبی پیشواؤں، تکفین و تدفین کاروں اور علاج گاہوں کی انتظامیہ میں کھلبلی مچ

Read More

نیند کے خلاف ایک بیانیہ

خالد جاوید: سے یاد آنے لگا کہ کسی دن کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈاکیے کی وردی اب بجائے خاکی کے نیلی ہوا کرے گی۔ مگر اسے یہ منظور نہیں، کیوں کہ ڈاکیہ نیلے آسمان سے پَر لگائے زمین پر اترتا ہوا کوئی پیغام رساں نہ تھا۔ وہ خلا سے نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکیہ تو زمین کا بیٹا تھا۔ وہ زمین سے زمین پر ہی چلتا تھا۔ اس لیے اس کو تو مٹی اوڑھے ہوئے ہی گھومتے رہنا چاہیے جو کہ زمین کا رنگ ہے۔

Read More

تماشا

حسین الحق: بازی گری فن ضرور ہے مگر اس کی بنیادی حیثیت معاشی اور افادی ہے۔ مزید بر آں یہ کہ افادی فن میں بھی اگر مہارت نہ ہو تو فن کا مظاہرہ ناممکن ہے۔‘‘ روی شنکر کھیلوں کے مبصرین کی زبان بول رہا تھا۔

Read More

گدلا پانی

منشا یاد: ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ محبّت لمس کے بغیر تو قائم رہ سکتی ہے، لفظوں کے بغیر نہیں۔

Read More

باپ دادا

رفاقت حیات: پاؤں کےجس چکر نے دادا کی زندگی کو ہمیشہ ایک گردش کا اسیر بنائے رکھا، اب وہی چکر ابو کے پیروں میں آ پڑا تھا۔

Read More

دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔

Read More

قومی شناختی کارڈ

ذکی نقوی: گونگا مصلّی اب تو کچھ نیم پاگل سا بھی لگنے لگا ہے۔ کسی نے بتایا ہے کہ لفظ 'شناختی کارڈ' سن کر وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنی گونگوں کی بولی میں بہت گالیاں بکتا ہے۔

Read More

سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر

محمد جمیل اختر: اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (چھٹی کہانی)

تصنیف حیدر: ہر بار سمندر کی جو لہر آتی، میں اس پر کود کر کسی جنگلی بھوکے اژدہے کی طرح حملہ کرتی اور پھر اس کے زور سے بہت دور تک کھلکھلا کر واپس پلٹتی ہوئی آتی۔

Read More

مظہر حسین سید کی دو کہانیاں

مظہر حسین سید: گولی پیٹ کو چیرتے ہوئے گزر گئی تھی۔ شدید درد اور جلن کے احساس کے ساتھ معلوم نہیں وہ کتنے منٹ تک سرپٹ بھاگتا رہا اندھا دھند جھاڑیوں اور درختوں سے ٹکراتے ہوئے وہ مزید زخمی ہو چکا تھا ۔ اُس کی چیخیں پورے جنگل میں گونج رہی تھیں۔ دوڑتے دوڑتے وہ بے دم ہو کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔

Read More

پارو

محمد حمید شاہد:لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب اُس پردورے نہیں پڑتے مگر لوگ افسوس کرتے ہیں کہ جنات پاروکے سارے لفظ اَپنی گٹھڑیوں میں باندھ کر لے گئے تھے۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (پانچویں کہانی)

تصنیف حیدر: نصرت اور میں فارغ اوقات میں خوب باتیں کیا کرتے تھے، میں اسے اپنے تازہ افیئرز کے بارے میں بتایا کرتی اور وہ مجھے پڑھائی لکھائی، گھر بار، کیمپس اور ہاسٹل کے بورنگ مسئلے اپنے بھولے بیانیے کے ساتھ سنایا کرتی، جنہیں میں قہقہے مار مار کر سنا کرتی تھی۔

Read More

محبت کی گیارہ کہانیاں (چوتھی کہانی)

تصنیف حیدر: اگر اس دھرتی پر کوئی آخری پودا بھی چائے کا بچ جائے تو میں اپنے وجود کی جنگ کے لیے لوگوں کو قتل کرکے بھی اسے حاصل کرنے کی جدوجہد کرسکتی ہوں۔

Read More