ریلوے اسٹیشن (محمد جمیل اختر)

“جناب یہ ریل گاڑی یہاں کیوں رکی ہے ؟ “ جب پانچ منٹ انتظار کے بعد گاڑی نہ چلی تو میں نے ریلوے اسٹیشن پہ اُترتے ہی ایک ٹکٹ چیکر سے یہ سوال کیا تھا۔ “ او جناب پیچھے ایک

Read More

آرکی ٹائپل کُڈھب کردار (فارحہ ارشد)

قبر نے اس کی انگلی تھامی اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ وہ جو چہچہا رہی تھی۔ ہموار زمین پر قدم مضبوطی سے جمائے قلانچیں بھرتی، دلچسپی سے ہر چیز کو تک رہی تھی۔ اس کے بائیں طرف چلتے

Read More

کنجڑا، قصائی

تحریر: انور سہیل انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “کنجڑے قصائیوں کو تمیز کہاں۔۔۔ تمیز کا ٹھیکہ تمہارے سیدوں نے جو لے رکھا ہے۔” محمد لطیف قریشی عرف ایم ایل قریشی بہت دھیرے بولا کرتے۔ مگر جب کبھی بولتے بھی

Read More

کچا

جیم عباسی: اپنے سامنے بیٹھے چہروں پر نظر ڈالتے اس نے داہنے ہاتھ سے بمشکل مائیک کو پکڑا۔ آگے بولا تو آواز گرج میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اسے لگا جیسےاس کے اندر طاقت کے تمام تر ذرات بھر دیے گئے ہوں۔

Read More

جھوٹا سچ

"یہ ریڈیو پاکستا ن ہے۔ اب آپ شکیل احمد سے خبریں سنیے۔۔۔ مشرقی محاذ پر ہمارے بہادر جوان دشمن کو مولی گاجر کی طرح کاٹ رہے ہیں۔۔۔" اپنےوجود میں دوڑنے والی سنسناہٹ پر میرا بس نہیں چل رہا تھا، جی

Read More

قتل گاہیں (ایک ٹیلی ڈاکیومنٹری)

کورس : chorus: دو مرد، دو عورتیں راوی ایک : کیمرہ رولنگCamera rolling راوی دو : کیمرہ ذوُم Camera zoom ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کورس : وہ لاشیں جن کو شمال مغرب سے آنے والے ہلاکوؤں نے یہیں کہیں، اس زمیں میں دفنا

Read More

بساند

آصف زہری: کتابوں اور جالی کے درمیان گوریوں کے گھونسلے اور پر وغیرہ تھے۔ اس نے جھاڑو سے جمع شدہ سارا کوڑا کرکٹ سمیٹ کر بالٹی میں ڈالنا شروع کیا۔ ایک گھونسلے میں دو انڈے بھی تھے جو بالٹی میں گرتے ہی ٹوٹ گئے۔

Read More

عامر صدیقی کے تین افسانے

کارنس ’’میں اسے گڑیا سے کھیلنے نہیں دوں گی۔‘‘ کمرے کے سناٹے کو چیرتی، تین سایوں میں سے ایک کی سرگوشی ابھری۔۔۔۔۔۔اور دلوں میں اتر گئی۔۔۔۔ ۔۔۔سنگدلی، سفاکیت، پختہ ارادہ ۔۔۔تذبذب، نیم دلی،پس و پیش ۔۔۔مظلومیت،بے بسی، تاریکی ’’چوں چوں

Read More

ہیلو مایا

للت منگوترہ:

Read More

التوائے مرگ (حوزے سارا ماگو)

پرتگالی سے انگریزی: مارگریٹ یُل کوسٹا انگریزی سے اردو: مبشر احمد میر نئے سال کے پہلے دن کوئی نہیں مرتا۔ جس کے نتیجے میں سیاسی حکمرانوں، مذہبی پیشواؤں، تکفین و تدفین کاروں اور علاج گاہوں کی انتظامیہ میں کھلبلی مچ

Read More

نیند کے خلاف ایک بیانیہ

خالد جاوید: سے یاد آنے لگا کہ کسی دن کوئی کہہ رہا تھا کہ ڈاکیے کی وردی اب بجائے خاکی کے نیلی ہوا کرے گی۔ مگر اسے یہ منظور نہیں، کیوں کہ ڈاکیہ نیلے آسمان سے پَر لگائے زمین پر اترتا ہوا کوئی پیغام رساں نہ تھا۔ وہ خلا سے نہیں آ رہا تھا۔ ڈاکیہ تو زمین کا بیٹا تھا۔ وہ زمین سے زمین پر ہی چلتا تھا۔ اس لیے اس کو تو مٹی اوڑھے ہوئے ہی گھومتے رہنا چاہیے جو کہ زمین کا رنگ ہے۔

Read More

تماشا

حسین الحق: بازی گری فن ضرور ہے مگر اس کی بنیادی حیثیت معاشی اور افادی ہے۔ مزید بر آں یہ کہ افادی فن میں بھی اگر مہارت نہ ہو تو فن کا مظاہرہ ناممکن ہے۔‘‘ روی شنکر کھیلوں کے مبصرین کی زبان بول رہا تھا۔

Read More

گدلا پانی

منشا یاد: ممکن ہے آپ کو معلوم ہو کہ محبّت لمس کے بغیر تو قائم رہ سکتی ہے، لفظوں کے بغیر نہیں۔

Read More

باپ دادا

رفاقت حیات: پاؤں کےجس چکر نے دادا کی زندگی کو ہمیشہ ایک گردش کا اسیر بنائے رکھا، اب وہی چکر ابو کے پیروں میں آ پڑا تھا۔

Read More

دائرہ

اسد رضا: مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔

Read More