مسکراہٹ

رفاقت حیات: اس نے میری گردن کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور میرے گالوں کو چومنے لگا۔ پھر اس کے دانت گالوں میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ اس کی غلیظ رال چہرے پر پھیل گئی۔ میں نے اس کے بال کھینچے، پرے دھکیلنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے نتھنوں سے گرم سانسیں میری جلد کے مساموں میں گھسنے لگیں۔

Read More

جنگ کے بعد

کازواؤ ایشی گرو: میں نے دیکھا کہ دادا کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ دھند کے پیچھے سےغور سے مجھے دیکھ رہے ہیں۔ وہ ایسے دیکھ رہے تھے، جیسے میں کوئی بھوت ہوں۔

Read More

انڈہ

اینڈی ویئر: تم نے میری طرف حیرانی سے دیکھا۔تمہیں میں خدا کی طرح تو نہیں لگ رہا تھا۔بس ایسا ہی نظر آتا تھا جیسے کوئی بھی اجنبی مرد۔یا ممکن ہے عورت۔ یا شاید کوئی مبہم سی بااختیار شخصیت۔ خدا کی بہ نسبت کسی پرائمری اسکول کا استاد۔

Read More

تقدیر

میخائل شولوخوف: یہ بوڑھے لوگ جن کے سَر جنگ کے کٹھن سالوں نے سفید کر دئیے ہیں، صرف راتوں کو نیند میں ہی نہیں روتے بلکہ دن کی بیداریوں میں بھی روتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آدمی بر وقت مُنہ ایک طرف پھیر لینے کے قابل ہو۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ ایک بچے کا دل نہ دُکھنے دیا جائے! اُسے وہ بے اختیار آنسُو نظر نہ آنے دیا جائے جو کہ ایک مرد کے رُخساروں کو بھی جلا دیتا ہے!!!

Read More

بادشاہ سنتا ہے

اتالو کلوینو: اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔

Read More

نعمت خانہ - اٹھائیسویں قسط

خالد جاوید: اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔

Read More

فرصتِ شوق کہاں

رشید امجد: روشنی کی کرنیں غائب ہوگئی تھیں، بارش کی کنیوں نے جھیل کی سطح پر رقص شروع کر دیا تھا، بیٹے نے اُس کے کندھے کو ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔’’ کن خیالوں میں گم ہیں ہم آپ کو کتنی دیر سے ڈھونڈ رہے ہیں اور آپ یہاں بیٹھے بھیگ رہے ہیں۔‘‘

Read More

نعمت خانہ - ستائیسویں قسط

خالد جاوید:بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔

Read More

حرامزادی

عمار غضنفر: اپنی توند تو دیکھ۔ سارا حرام مال بھر رکھا ہے۔ تیری کمپنی کی بنائی سڑک ایک سال نہیں نکالتی۔ تو تُو زیادہ ٹائم کیسے نکال سکتا ہے۔

Read More

پہلے میرا باپ

محمد عباس: اس عورت نے امام صاحب کا کہا مانا اور کسی سے کبھی اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ کالے خان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مائیکے گاؤں واپس چلی گئی جب کہ کالے خان حجرے سے بے دخل ہو کر گاؤں کی گلیوں پر آن پڑا۔

Read More

گورکھ دھندہ

اسد رضا: وقت تیزی سے گزر رہا تھا جو کچھ بھی کرنا تھا بہت جلد کرنا تھا۔ چوہوں نے کھلے عام قبروں کے اوپر اچھل کود شروع کر دی تھی۔ ہم نے قبرستان کے بیچوں بیچ ایک عظیم کائناتی گورکھ دھندے کے لئے کھدائی شروع کر دی تھی۔

Read More

نعمت خانہ - چھبیسویں قسط

خالد جاوید: موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔ مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔

Read More

مہر منگ کی کہانی

زاہد حسن: سورج غروب ہوتے ہی دیوان سنگھ ٹھیکے دار کے گھر مہر منگ بڑی شان کے ساتھ آیا۔ باہر کے دروازے پر ٹھہر کے اونچی آواز سے کلام پڑھا۔ سارا خاندان، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کلام سننے لگا۔

Read More

نیا والو

لارا سالومن: میرے خاندان میں دل کے امراض عام ہیں۔ میرے والد کو اپنے تیسرے عشرے کے آغاز میں اپنا ایک والو، سور کے والو سے بدلوانا پڑا اور میرے چچا کی وفات پچاس کے پیٹے میں ہارٹ فیل ہونے سے ہوئی۔

Read More

نعمت خانہ - پچیسویں قسط

خالد جاوید: میں ڈر گیا۔ اپنے اندر کے اُس پرُاسرار کالے سانپ سے میں ڈر گیا اور مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ابھی کل ہی شام تو اندر والے دالان کے کونے میں، میں نے سانپ کی اُتاری ہوئی کینچلی پڑی دیکھی تھی۔

Read More