باجے والی گلی

Back to homepage

’’باجے والی گلی‘‘ راجکمار کیسوانی کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔



باجے والی گلی - قسط 11

وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی

Read More

باجے والی گلی - قسط 10 (راج کمار کیسوانی)

ایک دو بار تو کسی نے ان سے کوئی سوال نہ کیا لیکن تیسری بار ڈیلارام کے بڑے بیٹے ارجن داس نے سوال کر ہی لیا، ’’چھا تھیو بابا؟‘‘ (کیا ہوا بابا؟) ڈیلارام نے کوئی جواب دینے کے بجاے ایک

Read More

باجے والے گلی - قسط 9 (راجکمار کیسوانی)

جس وقت غیاث الدین یہاں پہنچا تو اس وقت گھر کا داخل دروازہ اندر سے بند تھا۔ پٹھان کے ہاتھ کنڈی کھٹکھٹانے کی غرض سے یکایک اٹھے اور ویسے ہی یکایک پیچھے کی طرف بھی کھنچ گئے۔ اس نے حویلی

Read More

باجے والی گلی - قسط 8 (راج کمار کیسوانی)

اپنے گھروں سے بےدخل ہوکر نئے شہر میں ایک مخالف ماحول کے بیچ اپنے لیے زمین ڈھونڈتی قوم کے کردار میں عدم تحفظ کا احساسٴ سرایت کر جانا قدرتی تھا۔ ایسے ماحول میں اکثر انسان کے بھیتر دو دھارے بہنے

Read More

باجے والی گلی - قسط 7 (راج کمار کیسوانی)

لال فیتہ شاہی کے چلتے ’’ایک پریوار، ایک کمرہ‘‘ کی سرکاری پالیسی نے کئی سارے ریفیوجی پریواروں کو پہلے کاغذ پر، پھر حقیقت میں توڑ ڈالا۔ ہمارا پریوار بھی اس کا شکار ہوا۔ یہاں آنے تک ایک گھر، ایک پریوار،

Read More

باجے والی گلی - قسط 6 (راج کمار کیسوانی)

اں کے مقابلے پتاجی ذرا سخت جان اور جنگجو انسان تھے۔ ان کے قد کاٹھی سے ان کا کردار قطعی میل نہ کھاتا تھا۔ نئے شہر میں آتے ہی پاؤں جمانے کی کوشش میں جی جان سے جٹ گئے۔ شروعات

Read More

باجے والی گلی - قسط 5 (راج کمار کیسوانی)

جب ساری پوجا پاٹھ کے بعد ماں اٹھنے لگتی تو میں کہتا، “ارے امّاں! تو نے بھگوان کے بال تو بنائے ہی نہیں۔” ماں گال پر ہلکی سی چپت لگاتی اور مسکراتے ہوے کہتی، “بھگوان تیری طرح گھڑی گھڑی اپنے

Read More

باجے والی گلی - قسط 4 (راج کمار کیسوانی)

سرکار کے پُنرواس وبھاگ [بحالی کے محکمے] کے پاس ان لوگوں کو بسانے کے لیے یا تو خالی پڑی نوابی عمارتیں تھیں یا پھر بٹوارے کے بعد گھر چھوڑ کر پاکستان جا چکے مسلمانوں کے گھر تھے۔ یوں تو زیادہ

Read More

باجے والی گلی - قسط 3 (راج کمار کیسوانی)

آخر ایک دن وہ بھی آیا که ہندوستان سے لٹے پٹے مسلمانوں کو لے کر نکلی ٹرینوں کو پنجاب میں لگاتار بگڑتے حالات کے مدِنظر لاہور کے بجاے کراچی کی طرف موڑ دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بدحالی اور بدحواسی

Read More

باجے والی گلی - قسط 2 (راج کمار کیسوانی)

سانولی سی شام کا رنگ گہراتے گہراتے جب شیام رنگ ہو جاتا ہے تو شہربھر میں ان ویران پٹیوں پر آہستہ آہستہ ایک سماجی مجمع سا لگ جاتا ہے۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد جو زندگی نے تھمنے

Read More

باجے والی گلی - قسط 1 (راج کمار کیسوانی)

اس گلی کا نام باجے والی گلی کب اور کیسے پڑا، یہ بات کسی اور کو بھلے معلوم ہو لیکن یہاں رہنے والوں میں سے یہ بات شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ سواے اس ایک بوڑھے بدّو میاں کے، جس

Read More