Literature

Back to homepage


باجے والی گلی - قسط 3 (راج کمار کیسوانی)

آخر ایک دن وہ بھی آیا که ہندوستان سے لٹے پٹے مسلمانوں کو لے کر نکلی ٹرینوں کو پنجاب میں لگاتار بگڑتے حالات کے مدِنظر لاہور کے بجاے کراچی کی طرف موڑ دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بدحالی اور بدحواسی

Read More

کیا اب تک اوس پڑتی ہے (ایچ-بی-بلوچ)

ہم نے گمراہ ستاروں کی کہانی لکھنی تھی لیکن اس سے پہلے یہ سوچنا تھا ستاروں سے آگے اور جہانوں کا ذکر کون کرتا ہے یہ کون ہے جو بے نشاں رات کے نقشے کھینچتا ہے جو رتجگوں کے سنگلاخ

Read More

خواب میں اِک بازار لگا تھا (عظمیٰ طور)

آنکھ لگی تو خواب میں اک بازار لگا تھا طرح طرح کے اسٹال لگے تھے ایک ریڑھی پر کوئی مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا تھا محبت کی قیمت اتنی کم تھی سنتے ہی میں رو پڑی تھی احساس بیچنے

Read More

اُداس ماسی نیک بخت (محمد جمیل اختر)

وہ اتنی اداس تھیں کہ اتنا اداس میں نے پھر کسی کو نہیں دیکھا۔۔۔۔ میں نے پہلی بار ماسی نیک بخت کو اپنے بچپن میں دیکھا تھا، اُس وقت وہ بہت ضعیف تھیں۔ بعض لوگوں کو دیکھ کہ آپ اندازہ

Read More

باجے والی گلی - قسط 2 (راج کمار کیسوانی)

سانولی سی شام کا رنگ گہراتے گہراتے جب شیام رنگ ہو جاتا ہے تو شہربھر میں ان ویران پٹیوں پر آہستہ آہستہ ایک سماجی مجمع سا لگ جاتا ہے۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد جو زندگی نے تھمنے

Read More

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے ۔۔ اور ۔۔ نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں جو ریاضی میں بمشکل پاس

Read More

جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں (لی کوک لیانگ)

تحریر: لی کوک کیانگ انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنگ منگ نے بائیں کلائی اٹھا کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ساڑھے پانچ بجے تھے۔ اس کے پاس ابھی کچھ وقت تھا۔ جوں ہی اس کی کار سائے سے نکلی،

Read More

حادثہ (شیراز علی)

مکمل زمانے میں کیا کیا ہوا ہے میں تجھ کو بتاؤں کہ جانے سے تیرے یہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے یہ گردش زمانے کی اٹکی ہے تب سے کہ جب سے تو سورج کے آگے سے گزری یہ

Read More

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے ہم دونوں کی باتیں تھیں

Read More

سمندر، ڈالفن اورا ٓکٹوپس (عامر صدیقی)

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ ’’یوپی، ناگن چورنگی، حیدری، ناظم آباد، بندر روڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرن۔۔" کنڈیکٹر کی تکرار سن کر اچانک وہ اپنے خیالات سے باہر نکل آیا۔ ’’کرن؟ کیا اس کی منزل آگئی۔۔ـ‘‘ اس نے سیٹ پر

Read More

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے جس پر تم ہو اس اونچائی کے نیچے بہت سے درخت ہیں انسان ہیں اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں مگر تم اوپر ہو اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے

Read More

آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے ‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’ ماٹی قتل کریندی یار آدمی سو رہا ہے آدمی ٹھنڈی لاشوں کے درمیان سو رہا ہے آدمی جاگ رہاہے آدمی مردہ عورت سے ہم بستری کے لیے جاگ رہا ہے بچہ تصویر

Read More

Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں مگر تم نے کبھی سوچا ہے! تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں نہ وقت

Read More

جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ بلاشبہ وہ بہت اچھا ہے میری کتھا سن کر رودیتا ہے آج کل اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ ہوتا ہے محبوبہ کا بیٹا اسے بہت عزیز ہے۔ ونٹر کی چھٹیوں میں اسے گھمانا ایک الگ کام ہے روز

Read More

مننجائٹس (رضی حیدر)

یہ عجیب خط ہے کہ میں ہی اسے لکھ رہا ہوں اور میں ہی اسے پڑھے جاتا ہوں، تسبیح کی طرح، صبح شام۔ میں نے ضرورت سے زیادہ چشموں سے باتیں کی ہیں، قطروں کی ہنسی کو چھوا ہے، سرسراتی

Read More