Literature

Back to homepage


باز گشت

ساتوں سُر آخری بار اکٹھے ہوئے، شور نے ان پر واضح کر دیا تھا کہ اب صرف اسی کو کہا، سنا اور گایا جائے گا،سو انھوں نے دنیا چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔
Read More

میں جو تمہیں نہیں دیکھ سکتا

اے متروک چیخوں کے رب
تم کس تجوری میں بند ہو؟
Read More

شکستگی

بستی کے باہر ٹوٹے ہوئے خوابوں کا چلتا پھرتا بازار آکے رُکا تھا اور اور وہ اُسے دیکھنے کو بے حد بےتاب تھا۔ اُس کی عمر کے لڑکوں کے پاس پیسے اتنے نہیں ہوتے جن سے کسی بھی قسم کے خواب خریدے جا سکیں۔
Read More

جنت میرے کس کم دی؟

اللہ والاچورنگی پر سگنل کی سرخ بتی روشن ہوئی، تمام گاڑیاں آہستہ آہستہ ہو کر رک گئیں۔ اس جوڑے کی موٹر سائیکل بھی سائیڈ لین میں کھڑی ہوگئی۔
Read More

تاریک سورج

پورا قصبہ آج پھر اجتماعی خاموشی کا شکار تھا- بازار بند پڑا تھا اور اس کے مغرب میں قصبہ کے مرکزی چوک میں لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھڑے چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔عجیب سہما ہوا منظرتھا-
Read More

سائیں فتو

گاوں سے مغرب کی طرف باہر نکلتے ہی ایک چھوٹی سی پگڈنڈی حاجیوں کے امرود وں کے امرودوں کے باغ سے نکلتی ہوئی ملکوں کے ڈیرے سے ذرا آگے قبرستان تک جانے کا مختصر ترین راستہ ہے
Read More

امتناع کا مہینہ - اختر حسین جعفری

اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے
Read More

گدڑی

بھاری بھرکم مشینوں کی سمع خراش اور تخریب آمیز آوازیں میری نیند میں ایسی مخل ہوئیں کہ میری آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے اپنے اوپر منوں بوجھ محسوس کیا۔
Read More

ایک نامکمل کتاب

مصنف کو ان کی کم مائیگی پر ترس آیا اور اس نے تمام تر ممکنہ عاجزی سے کتاب کھول لی
Read More

اعراف

ابھی کتب خانے میں آیا ہوں۔ بارش تھم نہیں رہی ،جو دو گھڑی رکی تو پھر ٹپکنے لگی .. نیند آئی ہوئی ہے .. ہاآ! ایک لمبی نیند کے لیے کتنی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے ۔۔۔۔
Read More

ایک فاتح کی موت

وقت اس کی رفتار کا ساتھ دینے کی کوشش میں ہانپ چکا تھا۔ وہ خود نہیں جانتا تھا کے اپنی زندگی کے لیے بھاگ رہا ہے یا آزادی کے لیے، وجہ کچھ بھی سہی مگر وہ رک نہیں سکتا تھا۔

Read More

قصور میرا بھی ہے شائد

اچانک میرا منہ کھلا اور آتش فشاں پھٹ پڑا، میرے منہ سے سیاسی قائدین خصوصاً اس سیاسی قائد کے بارے میں جس کے گھر کے قریب میں پہنچ چکا تھا کے خلاف نعرے ابلنے لگے۔
Read More

بقیہ مسائل

گج سنگھ پور سے دس پندرہ کلو میٹرکی دوری پر کانٹوں کی وہ سرحد تھی جو زمین کو توبانٹتی تھی مگر دلوں کو نہیں ۔ اسی خاردار تار سے اٹی سرحد سے سو فٹ آگے زمین کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست زیرو لائن بیان کرنے والے پتھر تھے
Read More

کانچ اور پتھر

شہزادی کی سواری محل واپس جانے کے لیے دریا پر سے گزری تو لکڑہارے کے ٹکڑے پل پر بچھائےجا رہے تھے ۔
Read More

کتابیں اور ہم

شاید جب پہلی مرتبہ ہمارے ہاتھ سے کھلونے چھین کر زبردستی" الف ، ب ، ت" والانورانی قاعدہ تھمایا گیااور علم کا بوجھ ہم پہ زبردستی لادا گیایقیناًتبھی کتابوں سے ہماری ازلی رقابت کا آغاز ہو ا۔
Read More