Literature

Back to homepage


The Insane Sufi

Translation of a Pashto poem by Syed Bahauddin Majroh Name of book: Na-ashna Sandari (Stranger's songs) Name of the poem (in Pashto): Sartoor Malang Youth does not know That there exists an old Hakeem of wisdom – the insane Sufi

Read More

خبر بھی گرم فقط ہے تو سنسنی کے لیے

بس ایک وقت میسر ہے آدمی کے لیے
کہاں پہنچ میں ہے خوراک زندگی کے لیے
Read More

احساس

خدایا،
میں نہیں کافر،
نہ مجھ کو کفر بکنے کا ھے کوئی شوق
Read More

سیاہ تر حاشیے

جامع مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ مولانا کا خطبہ جاری تھا۔ الفاظ بجلی کے کوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ نمازیوں میں جوش اُبل رہا تھا۔ اہلِ ایمان اور اہلِ کُفرکے جنگی معرکوں کا تذکرہ تھا۔
Read More

گھوڑا اور آدمی

گھوڑے اور آدمی کے ساتھ کو آج مدتیں بیت گئی تھیں اور اب وہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں تھے۔ چلتے چلتے گھوڑے نے سوچا ،"بس بہت ہو ا آج یہ سارا تماشہ ختم ! مجھے بات کرنا ہی ہو گی کہ میں اب اس کے اور ساتھنہیں رہ سکتا۔"
Read More

ننھی ماچس فروش

وہ شام بھی کیا سرد شام تھی ، معلوم ہوتا تھا کہ سرد ہواوں نے سورج کو بھی بجھا دیا ہو ، آہستہ آہستہ سرد ہوتے کوئلے جیسے سیاہ پڑتے ہیں بالکل ویسے ہی یہ شام بھی سیاہ ہوتی جا رہی تھی سال کی یہ آخری شامیں آج سردی سے کچھ نیلگوں نظر آتی تھیں ایسے میں جب شہر کے رہنے والے امراء آتشیں انگیٹھیوں کے سامنے لیٹے ، گرم شالیں اوڑھے اپنے بچوں کو مسیح کی غریب پروری کی داستانیں بیان کر رہے تھے
Read More

فساد

مینار کے اوپر لگے لاوڈ سپیکرکھانسا، اور اپنے گلے کو صاف کرتے ہوئے ایک چپچپا سیال اور گاڑھا بلغمی تھوک پھینک کر خاموش ہو گیا۔ نو مولود تھوک محلے کے سب گھروں کی چھتوں ،صحنوں، دروازوں اور کھڑکیوں پر چپک گیا۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 17 دسمبر 1971- سرنڈر

دن بھر ہم اپنی پوزیشن میں رہے۔ایف۔ ایف والوں نے بتایا کہ ہماری بٹالین تیسرے دن سے کہیں غائب ہے جبکہ ہمارے سی او صاحب شدید زخمی ہو کر ایف۔ ایف کی ایک اور کمانڈ پوسٹ پر آئے پڑے ہیں۔کیپٹن لہراسپ خاں صاحب نے بتایا کہ کیپٹن دُرّانی صاحب پرسوں کے ایکشن میں شہید ہوگئے تھے۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 16 دسمبر 1971- پسپائی

صبحدم ہماری اور ایف۔ایف کی مشترکہ جمگاہ پر شدید قسم کا اٹیک آیا۔میڈیم توپخانے کی گولہ باری سے ایک دم کیمپ میں ہلچل مچ گئی۔ہماری کمپنی کا ایک جوان شہید اور کئی لوگ چند منٹ کی گولہ باری میں زخمی ہوگئے۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 15 دسمبر 1971- اچانک حملہ

سے بہت پہلے تمام کیمپ سٹینڈ ٹُو کردیا گیا۔ہم سب کو دفاعی پوزیشنیں لینے کا حُکم ملا اور بتایا گیا کہ ہماری آگے کی کمپنیاں لڑائی سے باہر ہو چکی ہیں اور دُشمن کی ایک بٹالین ہمارے جنوبی بازو سے گزر کر عقب میں کہیں آگے نکل گئی ہے لہٰذا ہماری پوزیشن پر کسی بھی وقت ،کسی بھی جانب سےحملہ ہو سکتا ہے۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 14 دسمبر 1971- بونگلہ دیش سے پہلے۔۔۔

میں صبح وردی پہن کر باہر نکلا تو دیکھا کہ اسمبلی گراونڈ میں چھے بنگالی درختوں سے بندھے کھڑے تھے اور کوت نائیک صاحب ان سے برآمد ہونے والے اسلحے کا معائنہ کررہے تھے۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 13 دسمبر 1971- الوداع

بختیار صاحب نے فجر کی اذان دی تو میں جاگ رہا تھا۔ رورو کر میری آنکھیں خشک ہو چکی تھیں،غم سے پتھرا گئی تھیں۔سچ تو یہ ہے کہ پوری پلٹن کا مورال ایک صدمے سے دوچار تھا۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 12 دسمبر 1971- ۔۔۔قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور؟

یہ دن کاش میری زندگی میں نہ آیا ہوتا۔آج دودن گزرنے کے بعد بھی مُجھے یہ لکھنے کی ہمت نہیں ہورہی کہ اس دن کیا قیامت بیت گئی۔دن چڑھے کیمپ میں بھگدر مچی کہ گھنشام گھاٹ والی پکٹ پہ ناشتہ پہنچانے والی پارٹی پہ حملہ ہوا ہے۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 11 دسمبر 1971- "یومِ بختیار صاحب"۔

آج چونکہ کیمپ کی کمان صوبیدار بختیار صاحب کے سپرد تھی لہٰذہ آدھی نفری تو سارا دن" چِندی اور پُھلترُو "لئےرائفلیں صاف کرتی رہی۔باقی نفری صوبیدار صاحب کے اخلاقیات، ملٹری، سیاست اور جنسیات کے موضوع پر دیئے گئے درس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔
Read More

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 11 دسمبر 1971- "یومِ بختیار صاحب"۔

آج چونکہ کیمپ کی کمان صوبیدار بختیار صاحب کے سپرد تھی لہٰذہ آدھی نفری تو سارا دن" چِندی اور پُھلترُو "لئےرائفلیں صاف کرتی رہی۔باقی نفری صوبیدار صاحب کے اخلاقیات، ملٹری، سیاست اور جنسیات کے موضوع پر دیئے گئے درس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔
Read More