تمھاری تجارت چلتی رہے

عذرا عباس: ہم نہیں جانتے
ہمارے خواب کب چھین لئے جاتے ہیں
ہم منہ بولی اخلاقیات کے بچھونے میں
منہ چھپا کر سونے کے عادی بنا دئے گئے

Read More

ایسی نظموں کی حمایت کا انجام گمشدگی ہے

علی زریون: لیکن بندوق کبھی کوئی رسوائی نہیں دیکھے گی
کیونکہ لوہے پر کوئی بد دعا اثر نہیں کرتی

Read More

پریس نوٹ

علی محمد فرشی: وہ کبوتر جو چھتری سمجھ کر فلک کی طرف اڑ گیا
کس بصیرت نے دھوکا دکھایا اسے

Read More

ورشا گورچھیا کی نظمیں

ورشا گورچھیا: یہ میری آنکھیں
میری خوفزدہ نظموں کی
ٹوٹتی سانسوں کے گمنام
سلسلے کے علاوہ کچھ نہیں

Read More

آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

محمد حمید شاہد: اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے

Read More

عشرہ // پَسنی میں پِسنا

ادریس بابر: بچے بالٹیاں لے کر بھاگے، میں ڈر گیا
جیسے ٹینکر میں پانی نہیں، پیٹرول ہو

Read More

میں بالکل ٹھیک ہوں

تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ

Read More

انٹرنیٹ استھان کی ملکہ

ثروت زہرا: یہ جلتے ہونٹوں کے خط،
یہ ہنسنا رونا
سب کچھ آدھا سچ ہے

Read More

عشرہ // اجرت

صدیق شاہد: دنیا کی یاری مال نہ گاڑی کچھ نئیں رہنا باقی
باقی رہے گا کام تمہارا خاک ہے جسد خاکی

Read More

تصویروں سے بھری چھاتی

حسین عابد: تین قدم کے بلیک ہول سے
رنگ نہیں رِستے
خون نہیں رِستا
کورے کینوس اڑتے ہیں خواب گاہ میں

Read More

یہ رسم الخظ اگر میں جانتا تو---

گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے
بہت سینچی ہیں تم نے درد سے مٹی کی دیواریں
اُپج کی کونپلیں اُگنے لگی ہیں!

Read More

عشرہ // کھنہ ایسٹ @ سیرینا ویسٹ : ایک ادبی ایف آئی آر (عرف ہوئے تم دوست۔۔۔)

ادریس بابر: اب میری پَیِنک کی کوئی حد نہیں رہتی، جب ہر گنتی پر
ھینڈ بیگ میں پسماندہ رقم میری کمزور یادداشت سے لگّا کھاتی نظر آتی ہے

Read More

تم نہیں دیکھتے

ابرار احمد: آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں

Read More

نظم-سرمد صہبائی

سرمد صہبائی: کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا

Read More

بدن کی حمایت میں

شہزاد نیر:
کچھ نہیں، کچھ نہیں
آنکھ کی کھیتیوں سے پرے کچھ نہیں ہے
Read More