خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا خود کش حملوں کے خوف سے اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے خدا واحدِ حقیقی

Read More

میں خوف ہوں (ایچ-بی-بلوچ)

حلیے اور شکلیں بدل بدل کر مجھ سے مت پوچھو کہ میں کون ہوں میں محنت اور اطاعت کا کالا رنگ ہوں جس سے تم نے نسلی تعصب گھڑ ڈالا میں گول چکرا ہوں جس سے موہن جو دڑو کے

Read More

ایک منتظر نظم (ثاقب ندیم)

بھوگ رہا ہوں سرد رُتوں کی سائیں سائیں روح کے پیڑ سے گِرنے والی زرد اداسی آوازوں کا رستہ دیکھتے کانوں سے بس مُٹھی بھر ہمدردی بھوگ رہا ہوں بِستر کی شِکنوں کو دیکھنا، دیکھتے جانا کمپیوٹر سکرین پہ تجھ

Read More

بہترین/ بدترین وقت (ایچ - بی- بلوچ)

ہمارے بہترین وقت میں ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں اور ہمارے برے دنوں میں ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے ہمارے برے دنوں میں ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ہماری بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں

Read More

میں کہاں جاؤں (نصرت زہرا)

میں جو خواب میں ساڑھی پہن کر سندھی بولتی ہوں تم لوگ جو جنگ کرو گے تو میں کہاں جاؤں گی؟ میرابچہ جو آج بھی نانا کی جنم بھومی کا طعنہ سہتا ہے کیا وہ ایک نئی ہجرت کرے گا؟

Read More

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے

Read More

چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے مرے

Read More

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں جانتا میرا کون سا ٹکڑا گلوب کے کس حصے میں گرا یا اس کی سطح میں جذب ہو کر رہ

Read More

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے ایک عورت کو بس سانس لینا ہی کافی نہیں اس کو لازم ہے وہ کوہساروں کی آواز سنتی ہو نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو اسے علم ہو وہ زن باد شب جانتی ہو کہ

Read More

پاروتی کا نیل کنٹھ (ثروت زہرا)

میں نے دھیرے دھیرے خواب کی ایک ایک گانٹھ کھولی اور اس ڈوری کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا میں نے آہستہ آہستہ تمنا کی شاخ سبز زندگی کے مرتبان میں ڈال کر اس کی شاخوں کا لیپ تیار کیا

Read More

تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر مَیں اکیلا ہی ہوں اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر اکیلے ہی طے کرنا ہے باقی سب ہمسفر شاید ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگیں گے تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا

Read More

یوم محبت اور باسی پھول (وجیہہ وارثی)

یوم محبت رفیق حیات کے ساتھ شریک سفر اشارے کی رنگین بتی کے نیچے سرخ لباس میں ملبوس جوان فقیرنی ہاتھ میں پھول گود میں دو برس کابچہ پیٹ میں چھ ماہ کی بچی لٸے کھڑی تھی دیکھٸے جی اسے

Read More

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا ہم اُس

Read More

کتبہ (فیثا غورث)

میں نے اک گیت لکھا اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں میں نے اک نظم کہی اور وہ چھت سے کود گئی میں نے اک کہانی بُنی اور وہ پھندے سے لٹک گئی میں نے اک بچہ جنا اور

Read More

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے یا پھر دونوں یہاں تک کہ میدان خون

Read More