ضامن عباس کے عشرے

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ ع / چاۓکیسی لگی نہیں میں تو بس کہہ رہی تھی کہ وہ 'کیا ہوا' کچھ نہیں 'کچھ کہو بھی سہی ' اک سہیلی یہ کہتی ہے آپ اُس سے بھی خیر !

Read More

سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے یہ پرندے کون ہیں ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں ہوا کو موت یہ پتے ہمارے آنسو ہیں ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا

Read More

میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں کبھی پانیوں کی خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر دم سادھے چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں میں کھلے اور پھیلے ہوئے برفیلے میدانوں کا ذکر

Read More

جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات

Read More

آدھا زندہ مجسمہ (ساحر شفیق)

وہ باتیں جو گاڑی چھوٹنے کی وجہ سے میں اس سے نہیں کہہ سکا تھا وہ باتیں ریل کی سیٹی نے جن کے کانوں میں سوراخ کر دیئے تھے میں نے اسٹیشن پر بکھری ہوئی الجھنوں اور سوالات کو سمیٹ

Read More

زندگی کی کشمکش (رضوان علی)

مجھے ہر سمت سے کھینچا جا رہا ہے رسیاں میرے نتھنوں میں بھی نکیل بنا کر ڈال دی گئی ہیں میرے جوڑ اب مجھ سے الگ ہونے والے ہیں کیا میں یہ سب کچھ سہہ پاؤں گا؟ میں تھکنے سے

Read More

hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی وقت مداری کی طرح

Read More

سیدھی بارش میں کھڑا آدمی (حسین عابد)

بارش بہت ہے وہ ٹین کی چھت کو چھیدتی دماغ کے گودے میں اور دل کے پردوں میں چھید کرتی پیروں کی سوکھی ہڈیاں چھید رہی ہے میں چاہتا ہوں چھت پہ جا کر لیٹ جاوں اور سوراخوں کو چھلنی

Read More

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی

Read More

زنہار (رضی حیدر)

چھپکلی چیختی ہے رفت کی بے خوابی سے ٹڈیاں کاٹتی ہیں رات کے گونگے پن کو سرد صرصر کی زباں رونگٹوں کو چاٹتی ہے لاکھوں زندوں کی تمناؤں کے ڈھانچوں کا ثمر لاکھوں مردوں کی نفس بستہ بقا تکنے کے

Read More

دیوارِ دوست (زاہد نبی)

تیری دیور پہ لکھا ہے سارے دکھ اندر نہیں تھوکے جا سکتے میرے دوست! میں تیرا اگال دان ہوں اور گرتی ہوئی دیوار کا سایہ سنبھالنے آیا ہوں کسی جا چکے دوپہر کے لیے جانے کتنی مکھیاں اڑانا ہوں گی

Read More

معدومیت کا مکالمہ (رضی حیدر)

میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ، کہ جس میں ہم اور تم فنا ہونے کو ہیں یا فنا ہو بھی چکے ؟ وہ : فنا ہو رہے ہیں (سرگوشی)

Read More

ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Read More

ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں لیکن اکاس گنگا کے اَن گنت اَن بُجھ ستارے لُک چُھپ لُک چُھپ کھیلتے رہتے ہیں!! Image: Suzanne Wright Crain

Read More

دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں ادھوری لذت سو رہی ہے میں اِس کی نیند کو طُول دینا چاہتا ہوں لیکن ایسا مُمکن نہیں اپنے طے شُدہ اوقات میں یہ بیدار ہو جاتی ہے اپنی تکمیل کی جُست جُو میں اُس بدن کے حُصول

Read More