محبت کا سن یاس

سلمان حیدر: لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں

Read More

جنگ سخت کوش ہے

سلمیٰ جیلانی : کتنی عالی شان ہے جنگ
کتنی پرجوش
کتنی محنتی اور تیز رفتار

Read More

ایک آوارہ گولی کا ہدف: سبین محمود

حفیظ تبسم: تمہارے خواب
نیلے رنگ کی عینک پہنتے تھے
جو سرخ دھبوں کو سبز میں تبدیل کر دیتی ہے

Read More

دیکھ سکتے ہو تو دیکھو!

نصیر احمد ناصر: خفیہ خزانے کے پرانے آہنی صندوقچوں میں
سرخ سِکوں کی جگہ ڈالر بھرے ہیں

Read More

خواب کے دروازے پر

نصیر احمد ناصر: میں تمہیں
خواب کے دروازے پر
اسی طرح جاگتا ہوا ملوں گا

Read More

اک کسی دن

سوئپنل تیواری: سپاٹ چہروں اداس لوگوں سے شہر اپنا بنا ہوا ہے
کبھی جو ہنستا نہ بولتا ہے

Read More

خواب کا ڈمرو

رضی حیدر: ڈارون کی لاش پہ تانڈو ناچ رچانے والا بندر
پوچھ رہا تھا
نیٹشے کے یبھ کو سن کر زرتشت نے آخر بولا کیا تھا

Read More

میرا سایہ

عذرا عباس: لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

Read More

ہمارے لوگ

ڈایان ارنز: اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟

Read More

اجنبی، کس خواب کی دنیا سے آئے ہو؟

نصیر احمد ناصر: اجنبیت ۔۔۔۔۔ قربتوں کے لمس میں سرشار
گم گشتہ زمانے ڈھونڈتی ہے
زندگی دکھ درد بھی قرنوں پرانے ڈھونڈتی ہے

Read More

یکم اپریل 1954ء

نصیر احمد ناصر: ماں نظم کو گود میں لیے بیٹھی رہتی
نظم کے ہاتھ چومتی
اور ایک الُوہی تیقن سے مسکرا دیتی

Read More

مجھے نہیں معلوم

مصطفیٰ ارباب: ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے

Read More

شیما کرمانی کے نام

شہباز حسین: کہیں معتبر ہے
گلا پھاڑتے
واعظوں کی صدا سے
یہ گھنگھرو کی
چھم چھم
یہ پیروں کی
دھم دھم

Read More

شاعر

حسین عابد: دروازوں، رستوں اور پرندوں نے
مجھ سے ایسی باتیں کیں
جو مسحور آپس میں کرتے ہیں

Read More

مدثر عظیم کے عشرے

مدثر عظیم: آدھی رات کو میسج کر کے
تم نے اپنے کتے پن کی
ایک جھلک تو دکھلا دی ہے

Read More