دردِ زہ میں مبتلا کوکھ کا چارہ گر

جمیل الرحمان: وہ فلائی اووروں پر چل کر نہیں لوٹ سکے گا
اُسے پرانے راوی کو نئے راوی میں انڈیل کر
پانی کی تیز لہروں کو اپنی فولادی بانہوں سے چیر کر
اُس میں راستہ بناتی اپنی جرنیلی سڑک کو بچھا کر
اُسی پر چلتے ہوئے
لوٹنا ہوگا
Read More

لکھتے رہو

ابرار احمد: تو پھر لکھتے رہو
بیگار میں
بیکار میں لکھتے رہو
کیا فرق پڑتا ہے
Read More

مضافِ دریا

علی اکبر ناطق: مضافِ دریا کے رہنے والو تمہیں ہارا سلام پہنچے
مضافِ دریا کے رہنے والوں تمہارے قریوں میں زندگی ہے
Read More

ایک خیال

احمد جاوید:
اب بالکل نیا تناظر ضروری ہے
اس نا دیدنی سے عہدہ برا ہونے کے لیے
ورنہ، دیکھنا ایک احمقانہ تصور ہے جسے
بس آنکھیں ہی مانتی ہیں
Read More

تماشائی حیرت زدہ رہ گئے

علی محمد فرشی: تماشائی حیران تھے
کیسے جادو گروں نے
زمیں
راکھ کی ایک مٹھی میں تبدیل کر دی
Read More

کھلونا موت بھی ہے

شارق کیفی: بھلا ایک انساں کے بس میں کہاں موت کو چھیڑنا
Read More

پیچھے مڑ کر مت دیکھو

تنویر انجم: مت یاد کرو
ضرورت سے زیادہ کپڑوں کی پاکیزگی
جو بے حجاب لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے
تم پر تھوپی گئی۔
Read More

وہ خوشبو بدن تھی

سوئپنل تیواری: تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی
Read More

ہمارے لیے تو یہی ہے

سید کاشف رضا: ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ
Read More

پل بھر کا بہشت

سرمد صہبائی: ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
Read More

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

ثاقب ندیم: میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا
Read More

موزارت سوناتا نمبر11

ستیہ پال آنند: مرتے مرتے یہ آلاپ اب
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!
Read More

آپ کا نام پکارا گیا ہے

ستیہ پال آنند: دھند ہے چاروں طرف پھیلی ہوئی
میں بھی اس دھند کا کمبل اوڑھے
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھا ہوں
Read More

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے

نسیم سید: ہم آگ پیتے ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
Read More

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس: تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
Read More