نظم نما

Back to homepage


شکست کس کی

شہزاد نیر: عجیب منظر ھے
ایک شہہ رگ نےدھار خنجر کی کند کر دی ھے
ایک سر وہ جو اپنے تن سے جدا ھوا ھے
مرا نہیں ھے
Read More

چار اطراف

فرخ یار: تم نے دیکھا نہیں
انہی اطراف میں
روشنائی کے سیال جادو کی تہہ میں کہیں
دل دھڑکنے کے اسباب میں
انہی اطراف میں
خود سے آگے نکل جانے کی آرزو
جس نے اک عمر خلقت کو بے چین رکھا
مرے آئینوں پہ چمکنے لگی ہے
Read More

جوتے بہت کاٹتے ہیں

ابرار احمد: اس جگہ شہر تھا
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا ---
Read More

ہجومِ گریہ

ہمیں بھی رو لے ہجومِ گریہ
ہمیں بھی رو لے کہ ہم وہی ہیں
جو تیز آندھی میں صاف چہروں کو دیکھ لیتے تھے اور سانسوں کو بھانپتے تھے
Read More

"میں کس 'سماریہ' میں ہوں؟"

شاہ اسرائیل پہلی عورت کی فریاد سن کر
حیرانی میں اپنے کپڑے پھاڑتا اور گواہی مانگتا ہے
کہ اس کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا
Read More

دنوں کا دکھ

عجب دن آ پڑے ہیں
بوڑھی صدیاں رات رو کر دیکھتی ہیں
Read More

ہر روز

ہر روز کوئی قلم ٹوٹ جاتا ہے
کوئی آنکھ پتھرا جاتی ہے
Read More

"اس دن۔۔۔۔۔۔۔"

اس دن تو وہ خود بھی شکستہ قابلِ رحم تھا لیکن،
کون تھا جس کے لئے
اس کی ہمدردی نہیں تھی،
جس پر اس کو ترس نہیں آیا تھا،
سو اُ س نے اِس لمحے کے زیر اثر،
سب اشیا ء کو دیکھا
Read More

نظم

میں اک عورت جس نے تجھ کو اپنی کوکھ سے جنم دیا
تو نے مجھ کوپسلی کی تمثیل لیا??
اور پسلی سے تو نے مجھ کو ٹیڑھی پسلی کر ڈالا
جس کو سیدھا کرتے کرتے صدیاں گزریں کتنی عورتیں ٹوٹ گئیں ہیں
لیکن تو پھر بھی ٹیڑھا
Read More