ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے

Read More

چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے مرے

Read More

گلوب کے مرغولے میں گردش کرتی رات (جمیل الرحمٰن)

پرکار کی نوک پر کاغذی گلوب نے تیزی سے حرکت کی اور مجھے کئی حصوں میں منقسم کردیا میں نہیں جانتا میرا کون سا ٹکڑا گلوب کے کس حصے میں گرا یا اس کی سطح میں جذب ہو کر رہ

Read More

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے ایک عورت کو بس سانس لینا ہی کافی نہیں اس کو لازم ہے وہ کوہساروں کی آواز سنتی ہو نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو اسے علم ہو وہ زن باد شب جانتی ہو کہ

Read More

پاروتی کا نیل کنٹھ (ثروت زہرا)

میں نے دھیرے دھیرے خواب کی ایک ایک گانٹھ کھولی اور اس ڈوری کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا میں نے آہستہ آہستہ تمنا کی شاخ سبز زندگی کے مرتبان میں ڈال کر اس کی شاخوں کا لیپ تیار کیا

Read More

تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر مَیں اکیلا ہی ہوں اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر اکیلے ہی طے کرنا ہے باقی سب ہمسفر شاید ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگیں گے تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا

Read More

یوم محبت اور باسی پھول (وجیہہ وارثی)

یوم محبت رفیق حیات کے ساتھ شریک سفر اشارے کی رنگین بتی کے نیچے سرخ لباس میں ملبوس جوان فقیرنی ہاتھ میں پھول گود میں دو برس کابچہ پیٹ میں چھ ماہ کی بچی لٸے کھڑی تھی دیکھٸے جی اسے

Read More

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا ہم اُس

Read More

کتبہ (فیثا غورث)

میں نے اک گیت لکھا اور اس نے اپنی نبضیں کاٹ لیں میں نے اک نظم کہی اور وہ چھت سے کود گئی میں نے اک کہانی بُنی اور وہ پھندے سے لٹک گئی میں نے اک بچہ جنا اور

Read More

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے یا پھر دونوں یہاں تک کہ میدان خون

Read More

ہم سکول جانے سے ڈرتے نہیں اور دیگر عشرے (ادریس بابر)

ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں ہمارے بہت دوست مارے گئے ہماری جوانمرد استانیاں اور استاد جو ہم پہ وارے گئے انہیں ۔۔۔۔ جنگ یہ

Read More

کیا اب تک اوس پڑتی ہے (ایچ-بی-بلوچ)

ہم نے گمراہ ستاروں کی کہانی لکھنی تھی لیکن اس سے پہلے یہ سوچنا تھا ستاروں سے آگے اور جہانوں کا ذکر کون کرتا ہے یہ کون ہے جو بے نشاں رات کے نقشے کھینچتا ہے جو رتجگوں کے سنگلاخ

Read More

خواب میں اِک بازار لگا تھا (عظمیٰ طور)

آنکھ لگی تو خواب میں اک بازار لگا تھا طرح طرح کے اسٹال لگے تھے ایک ریڑھی پر کوئی مہنگی چیزیں سستے داموں بیچ رہا تھا محبت کی قیمت اتنی کم تھی سنتے ہی میں رو پڑی تھی احساس بیچنے

Read More

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے ۔۔ اور ۔۔ نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں جو ریاضی میں بمشکل پاس

Read More

حادثہ (شیراز علی)

مکمل زمانے میں کیا کیا ہوا ہے میں تجھ کو بتاؤں کہ جانے سے تیرے یہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے یہ گردش زمانے کی اٹکی ہے تب سے کہ جب سے تو سورج کے آگے سے گزری یہ

Read More