چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں
انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں
جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں
جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں
مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں
نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے
مرے ہوئے لوگوں کی طرح
میں اداس ہوتی ہوں اور انھیں
ان مرے ہوئے لوگوں میں شامل کر لیتی ہوں
دانستہ یا نا دانستہ
ان کی یاد کو کھرج دیتی ہوں
اپنی بہت سی یادوں میں سے
نہیں آئیں یہ میرے سامنے
تو نہیں آئیں
وہ بھی تو اب کبھی نہیں آئیں گے
جو چلے گئے
کبھی نہیں آنے کے لئے


Related Articles

دو کیشیئرز

جمیل الرحمان: جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی

نرگسیت

رضوان علی: یہ مرا عکس ہے
جس کا ہر ایک خط
جاذب و دل بریں

شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

ہم۔۔۔۔ اپنے آپ کو شہر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!