چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں
انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں
جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں
جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں
مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں
نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے
مرے ہوئے لوگوں کی طرح
میں اداس ہوتی ہوں اور انھیں
ان مرے ہوئے لوگوں میں شامل کر لیتی ہوں
دانستہ یا نا دانستہ
ان کی یاد کو کھرج دیتی ہوں
اپنی بہت سی یادوں میں سے
نہیں آئیں یہ میرے سامنے
تو نہیں آئیں
وہ بھی تو اب کبھی نہیں آئیں گے
جو چلے گئے
کبھی نہیں آنے کے لئے


Related Articles

لوحِ آمد - جون ایلیا

جون ایلیا: کہا گیا ہے کہ میں جو اب تک کہیں نہیں ہوں اگر ہُوا بھی
تو میں کسی کا خدا نہ ہوں گا

کسی دن چلیں گے کراچی

نصیر احمد ناصر: کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے

یکم اپریل 1954ء

نصیر احمد ناصر: ماں نظم کو گود میں لیے بیٹھی رہتی
نظم کے ہاتھ چومتی
اور ایک الُوہی تیقن سے مسکرا دیتی