دائرہ

دائرہ

مجھے وہاں تقریر کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے کس نے بھیجا ہے اور نہ ہی یہ کہ میرے سامع کون ہوں گے۔ بس مجھے تقریر کرنی تھی کہ اسی لئے مجھے مبعوث کیا گیا تھا۔ میں نے ان ساری صدیوں کو یاد کیا جس میں میں نے اس تقریر کی تیاری کی تھی۔ ان ساری زبانوں کے متعلق سوچا جس مین مجھے یہ تحریر مرتب کرنی تھی۔ مجھے یاد ہے بہت سی باتوں کے لئے مجھے کسی زبان میں بھی الفاظ نہیں ملے تھے سو میں نے جیومیٹری کی کچھ اشکال بنا رکھی تھی۔ جہاں جہاں اشکال سے بات نہیں چل سکتی تھی وہاں میں نے خالی سانسیں رکھ چھوڑی تھی اور بعض جگہوں پر تو محض خلا تھا۔ مجھے رسی کے ذریعے مجمع کے عین بیچ وبیچ اتارا گیا۔ میں ابھی تقریر کے ابتدائیے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ ایک سُرخ بالوں والا بچہ پکارا۔۔۔تم کون ہو۔۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے تقریر کے صفحات سے تن ڈھاپنے کی کوشش کی مگر وہ تو سارے کورے کاغذ تھے۔ میں نے جلدی سے رسی کو تھاما اور سوچا کہ مجھے واپس اوپر جانا چاہیے مگر یہ کیا۔۔۔۔۔رسی تو اوپر سے کاٹی جا چُکی تھی۔

Image: Pawel kuczynski

Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.


Related Articles

دکانداری اور دوسری کہانیاں

آلوک کمار ساتپوتے: ہڑتال کے دوران دکانیں جبراً بندکرائی جاتی تھیں اور اخباروں میں شائع کرایاجاتاتھاکہ ہڑتال دکانداروں کی رضامندی سے ہوئی۔

فیصلہ

اسد رضا: میں اُس کے سوال پر مسکرایا اور سامنے سے اُٹھتی ایک لہر کی طرف دیکھا جو آہستہ آہستہ شوذب کے قدموں تک پہنچ چُکی تھی۔ اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بات کچھ کچھ سمجھ چکا ہے۔

Dear God, says an Atheist Mother

I was startled at my own discovery, though I can never really call it a discovery since it was there