درخواست (غنی پہوال)

درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی
جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی
تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر
تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی
مگر جب چاہت بھری
تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں
امید کے پودوں میں
پھول لگنے کا موسم آئے
تو چپکے سے
مجھے کسی کیاری میں بو کر
پھر سے بھول جانا
Image: Seema Pandey


Related Articles

روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں

علی زیرک: ہم ازل کے بھگوڑے
ہمیں سبز خطے سے باہر کسی معتدل منطقے کے تجسس کا گھن کھا گیا

میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے

جمیل الرحمان:میں سارے ایندھن کا شور
خود میں انڈیل لینا چاہتا ہوں
افق پر لہو میں تیرتا دھندلکا
میرے کسی ہم نفس کو پکارتا ہے

کفارہ

سعد منیر: ایک شور ہے
ہمارے درمیان
چپ چاپ بیٹھا ہوا
جیسے
کسی کائنات کا وقت ہو