درخواست (غنی پہوال)

درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی
جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی
تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر
تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی
مگر جب چاہت بھری
تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں
امید کے پودوں میں
پھول لگنے کا موسم آئے
تو چپکے سے
مجھے کسی کیاری میں بو کر
پھر سے بھول جانا
Image: Seema Pandey


Related Articles

بچپن کی سماعتیں

نصیر احمد ناصر: بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!

بلبلے

سلمیٰ جیلانی: بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو
اب بلبلے بنانے نہیں آتے

مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی