دیوارِ دوست (زاہد نبی)

دیوارِ دوست (زاہد نبی)

تیری دیور پہ لکھا ہے
سارے دکھ اندر نہیں تھوکے جا سکتے
میرے دوست!
میں تیرا اگال دان ہوں
اور گرتی ہوئی دیوار کا سایہ سنبھالنے آیا ہوں
کسی جا چکے دوپہر کے لیے
جانے کتنی مکھیاں اڑانا ہوں گی
یہاں کی بھیڑ میں نگاہ بھر جگہ بنانے کو
اور اس میں چنوائی ہوئی سرگوشیاں۔۔۔
بے توجہی کی خاموشی میں بہانا ہوں گی
اس سے پہلے کے دلوں میں در آئیں
راز دار رخنوں کو دربدر کر دینا چاہیئے
عریاں درزیں جزدان میں لپیٹ کر
سست لمحوں کے سپرد کر دوں؟
ار پر جمی ہوئی روشنی اور اس پر پڑے ہوئے سائے
کھرچنے ہیں یا انہیں لکیروں میں کا کفن دینا ہے؟
یہ سب فیصلے دیوار نہیں سایہ کرے گا
کہ دیوار محفوظ تو کرتی ہے
فیصلے نہیں کرتی!
سائے کے فیصلے اور اس فیصلے کی روشنی میں تُو بتا ۔۔۔۔۔
کہ طاقچے میں بکھرے ہوئے رنگ آنکھوں میں اکٹھے کر کے
انہییں آس کے حوالے کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یا دیوار کی دراڑوں کا ڈھیر جمع کر کے
جھریوں میں چھپانے کے لیے ایک دکھ بنانا ہے؟
Image: Ian Clegg Walsh


Related Articles

اُڑتے خُلیے

سائیکل چلاتا ایک روبوٹ آتا ہے
اور چوک میں ریہڑی سے ٹکرا کر
پھٹ جاتا ہے

جنگل اور سمندر کے درمیان اور دوسری نظمیں (صفیہ حیات)

آدھا جھوٹ بلاشبہ وہ بہت اچھا ہے میری کتھا سن کر رودیتا ہے آج کل اپنی پہلی محبوبہ کے ساتھ

میں تمہارے لیے نظم نہیں لکھ سکتا

نصیر احمد ناصر:اگر میں تمہارا لفظ بن سکتا
تو متن سے حاشیے تک
معانی جیسا پھیل جاتا
نظم، اگر میں لکھ سکتا
تو تمہارے لیے ایک نظم ضرور لکھتا